تشدد پھیلانے کی ذمہ دار بی جے پی حکومت:اکھلیش

0

سماج وادی پارٹی سربراہ اکھلیش یادو نے الزام لگایا ہے کہ خراب معیشت،مہنگائی،بے روزگاری اور نظم ونسق کی بدحالی جیسے بنیادی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے لائے گئے شہریت قانون کی آڑمیں اترپردیش کی بی جے پی حکومت جان بوجھ کر منافرت کو ہوا دے رہی ہے ۔ کیونکہ اس سے بی جے پی کو فائدہ ملتا ہے ۔ اكهیلیش نے پارٹی دفتر پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’دوسال پہلے مرکزی حکومت نے کالا دهن واپس لانے کے بہانے نوٹ بند ی کر کے غریب عوام کو لائن میں کھڑاکردیا تھا ،اوراب سی اے اے اور این آر سی کے ذریعہ عوام کو ایک بار پھر شہریت کےلئے لائن میں کھڑا کرنے کی تیاری کررہی ہے ۔
سابق وزیر اعلی نے کہا کہ ہر شعبے میں ناکام بی جے پی حکومت نفرت کی سیاست کر کے شہریوں کو خائف کررہی ہے ۔ فسادات کرانے والے حکومت میں بیٹھے ہیں۔ حکومت کو تشدد میں شامل افراد کی شناخت کے لئے ویڈیو کلپ دیکھنے کے ساتھ وہ کلپ بھی دیکھنی چاہئے کس طرح سے پولیس نے توڑ پھوڑ کر کے لاقانونیت کو ہوا دی ہے ،اور سرکاری بسوں میں آگ لگائی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر بس میں آگ لگی ہے تو اس ویڈیو کو بھی جاری کیا جانا چاہئے کہ کس طرح اس بس کو وہاں پہنچایا گیا۔
ایس پی سربراہ نے الزام لگایا کہ حکومت ایسا صرف گرتی معیشت،مہنگائی،بے روزگاری اور کسانوں کے مسائل بدحال نظم ونسق سے عوام کا دھیان ہٹانے کےلئے کررہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایس پی کارکن اور سی اے اے سے ناراض عوام پرامن طریقے سے اپنی مخالفت درج کرانے کےلئے احتجاجی مارچ نکال رہے تھے، لیکن اس درمیان بی جے پی کے لوگوں اور پولیس اہلکار نے توڑ پھوڑ اور آ گزنی کر کے احتجاج کو تشدد کا رخ دیا۔ ریاست میں تشدد کو ہوا دینے اور نوجوانوں کے مارے جانے کےلئے بی جے پی اور اس کی حکومت ذمہ دار ہے۔سابق وزیر اعلیٰ نے دیگر ریاستوںمیں پرامن مظاہروں کی مثال دیتے ہوئے سوال کیا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ بی جے پی کی حکمرانی والی ریاستوں میں ہی زیادہ تر پر امن احتجاجی مظاہرے تشدد کی شکل اختیا ر کررہے ہیں ۔اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ منافرت سے بی جے پی کو فائدہ ہوتا ہے ۔ایس پی سربراہ نے کہا کہ اترپردیش کے وزیر اعلیٰ کے طرز تکلم کی وجہ سے معصوم افراد کی جانیں گئی ہیں۔ آئین کا مذاق اڑانے میں ماہر بی جے پی حکومت لوگوں کو ان کے حقوق سے محروم کرنے کا کام کررہی ہے ۔ان کی پارٹی آئین میں چھیڑ چھاڑ کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دے گی اور سی اے اے اور این آر سی کی مخالفت ہر سطح پر کرے گی۔

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS