بلقیس بانو معاملہ:مجرمین کی جیل میں مناسب طرز عمل کی بنیاد پر رہائی

0

خواجہ عبدالمنتقم

گزشتہ دو دہائیوں میں رونما ہونے والے اجتماعی عصمت دری کے دو ایسے معاملے ہیں جنہوں نے شرفائے ہند کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھایعنی نربھیا اور بلقیس بانو والے معاملے۔ نربھیا والے معاملے میں متعلقہ مجرمین کو کیفر کردارتک پہنچادیا گیا اور انہیں سزائے موت بھی دے دی گئی مگر بلقیس بانو والے معاملے میں عمر قید پر ہی اکتفا کیا گیا۔ ظاہر بات ہے کہ عدلیہ نے معاملے کے تمام پہلوؤں پر غور کرنے کے بعد ہی ایسا فیصلہ دیا ہوگا۔ اس اسٹیج پر انگلی اٹھانا نادانی ہوگی۔ اب تو بات یہاں تک پہنچ گئی کہ اس معالے میں ملوث 11مجرمین کو 14 سال پورے ہونے پر اس بنیاد پر حکومت گجرات نے رہا کر دیا کہ جیل میں ان کا طرز عمل مناسب تھا اور ایسا ہوتا بھی ہے مگر ہمہ وقت خواتین کی اختیار کاری اور عصمت و عفت کی وکالت و حمایت کے اس دور میں ایسا کرنا اور وہ بھی ایک ایسی ریاست میں جہاں گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے میں حالات لگ بھگ پر سکون رہے ہیں، کچھ اچھا نہیں لگا۔باقی جو چاہے ان کا حسن کرشمہ ساز کرے!یہ بات دوسری ہے کہ ریاستی حکومت نے یہ فیصلہ یہ معاملہ سپریم کورٹ کے اس کی صوابدید پر چھوڑنے کے بعد کیا۔بہر حال حکومت جو فیصلہ لیتی ہے وہ معاملے کے مختلف پہلوؤں پر غور کرنے کے بعد ہی لیتی ہے۔اگر یہ لوگ واقعی راہ راست پر آگئے ہیںاور اظہار شرمندگی کے ساتھ سماج کا حصہ بن کر تعمیری رول ادا کرتے ہیں تو شاید متاثرہ کے زخم کسی حد تک بھر جائیں اور مستقبل میں وہ ایسی کوئی حرکت نہ کریں جس سے متاثرہ مزید خوف زدہ ہو۔ ایسے لوگوں کی رہائی کا جشن ،جشن فتح کی صورت میں نہیں منایا جانا چاہیے، وہ بھی ایسی صورت میں جب ایک حاملہ عورت کے ساتھ ایسا غیر انسانی عمل کیا گیا ہو۔ ان لوگوں کو چاہیے کہ وہ بلقیس بانو کے ساتھ بھائیوں جیسا برتاؤ کریں تا کہ سماج میں ایک مثبت پیغام جائے۔ ہمارے سماج میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں جب لوگوں نے جذبات کی رو میں بہہ کر ایک وقت تو بہت سے ایسے افعال بربر یت انجام دیے اور بعد میں متاثرین کے روبرو نہ صرف اظہار ندامت کیا بلکہ نقصان کی بھرپائی بھی کی۔ اگر آج ان لوگوں میں سے کچھ لوگ زندہ ہوں جنہوں نے تقسیم ہند کے وقت سرحد کے اس پار اور اس پار لاکھوں لوگوں کی بے دردی سے جان لی، دوبارہ ایسا کرنے کے لیے کہا جائے تو ان کی جانب سے پرچم ابیض یعنی سفید جھنڈا جو امن کی نشانی ہے، ہی دکھایا جائے گا۔ وقت کے ساتھ ساتھ بڑے بڑے زخم مندمل ہوجاتے ہیں اور ہوجانے بھی چاہئیں ورنہ نفرت کی آگ کبھی بجھ نہیں سکتی۔ آئیے اب بلقیس بانو والے معاملے کا مختصر جائزہ لیتے ہیں :
بلقیس بانو نام ہے اس بے کس حاملہ خاتون کا جس کے پیٹ میں ابھی پانچ ماہ کا بچہ شکم مادر سے آغوش مادر میں آنے کے لیے اپنا آدھے سے زیادہ حیاتیاتی سفر مکمل کر چکا تھا اور چند ماہ بعد ایک سیکو لر جمہوریہ کے مہذب شہریوں کی صف میں شامل ہونے کے لیے بڑے معصومانہ انداز میں بالکل اسی طرح رواں دواں تھا جس طرح کبھی قبل از پید ائش رحم مادر میں بغیر کسی بیرونی خطرے کے ہم سب رواں دواں رہے ہوں گے کہ اس پر (یعنی بلقیس بانو) پر جان لیو ا حملہ کیا گیا، اس کے ساتھ صرف زنا نہیں بلکہ اجتماعی طور پر زنا بالجبر کیا گیا اور اس کی دوسالہ بیٹی صالحہ وخاندان کے دیگر 13افراد کو نہایت بے دردی سے ایک منظم سازش کے تحت ارادہ مشترک کے ساتھ ہلاک کردیاگیا۔ایسا کسی غیر نے نہیں، بلکہ ہمارے ملک کے صوبہ گجرات کے 2002میں ہونے والے یکطرفہ فرقہ وارانہ فسادات میں اس کے ہم وطنوں نے، اس کے پڑوسیوں نے اور کبھی اس کے دکھ درد میں شامل ہونے والے لوگوں نے ہی کیا،جن کا تعلق اس اکثریتی فرقے سے تھا اور ہے جس کی اکثر یت انسان تو انسان ایک پر ندے کی جان لینے کو بھی گنا ہ سمجھتی ہے۔ یہ وہی اکثریتی فرقہ ہے جو عورت کو ارد ھانگنی(یعنی جسم کا آدھا حصہ ) مانتا ہے اور اسے دیوی کا روپ سمجھتا ہے۔ یہ سب کچھ اس مہذب ملک میں ہواجو اپنی عالمی قدر ومنزلت کی بنیاد پر اقوام متحد ہ کی سیکو رٹی کونسل کی مستقل رکنیت حاصل کرنے کا نہ صرف خواہاں، بلکہ حسب قوت کوشاں بھی ہے۔
بلقیس بانو جو اپنے جگر پاروں اور اعزا ء کے ساتھ محفوظ راہ فرار کی متلاشی تھی وہ دربدر بھٹکتی رہی، سرکاری عملے نے بھی اس کا ساتھ نہیں دیا۔ ارباب حکومت نے اس کی اپیل کودرگزر کردیا اور قومی انسانی حقوق کمیشن کی مداخلت ، سپریم کورٹ کی بروقت کارروائی اور نتیجتاً ممبئی کی فاسٹ ٹریک کورٹ یعنی سریع العمل عدالت کے فیصلے سے اسے یقینا انصاف ملا اگر چہ حسب دل خواہ نہیں۔
یہ اتفاق کی بات ہے کہ یہ مظلوم عورت مسلمان تھی اور ان درندوں کا تعلق اکثریتی فرقے سے تھا۔ دراصل ایسے تخر یب پسند لوگوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ یہ لوگ دہشت گردوں کی طرح پورے معاشرے کے دشمن ہیں، کل ان کی یہ مجرمانہ فطرت و ذہنیت ان کی ہم مذہب خاتون کو بھی ہوس کا شکار بنا سکتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ گنجائش ہمیشہ باقی رہتی ہے کہ انسان کب سدھر جائے اور اپنے کیے پر خود پشیمان ہو جائے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ،جیسا کہ سپریم کورٹ نے ورکنگ ویمن فورم بنام یونین آف انڈیا والے معا ملے میں خواتین اور ان کے خلاف جنسی جرائم کے بارے میں جو فیصلہ دیا تھا،اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ’’کسی عورت کے ساتھ زنا بالجبر سب سے زیادہ قابل مذمت ظلم ہے۔ یہ اس کی نسوانیت اور مادریت پر شدید ترین حملہ ہے۔ اس سے کسی عورت کو نہ صرف جسمانی ضرب پہنچتی ہے، بلکہ اس کی ذہنی ، نفسیاتی اور جذباتی حسا سیت کو بھی ضرب پہنچتی ہے اور اسے ایسا شد ید نقصان پہنچتا ہے جس کی تلافی نا ممکن ہے۔ یہ اس کی خو د اعتمادی اور عزت نفس پر ایک ایسی کاری ضرب ہے جو اسے ہیجانی کیفیت میں مبتلا کر دیتی ہے۔ اس سے نہ صرف اس کے حفاظت نفس کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ بلکہ ہمیشہ کے لیے اس کی سیر ت وشخصیت پر ایک ایسا بد نما داغ لگ جاتا ہے جو کسی صورت نہیں جاتا اور سماج بھی اسے اچھی نظر سے نہیں دیکھتا۔‘‘ 1995)ایس سی سی (14 ہے۔
اگر کسی شخص کو کوئی مضرت پہنچی ہو،کوئی نقصان ہوا ہو یا اس کی حق تلفی ہوئی ہو تو اس کا یہ حق ہے کہ فریق ثانی اس کے نقصان کو پورا کرے اور اس کا جو حق تلف ہوا ہے وہ حق اس کو ملے۔ دراصل اسی کا نام انصاف ہے۔ انصاف اس طرح کیا جانا چاہیے کہ متاثر شخص کو اس بات کا مکمل اطمینان ہوجائے کہ اس کے ساتھ انصاف کیا گیا ہے۔
(مضمون نگار آزاد صحافی، مصنف، سابق بیورکریٹ اور عالمی ادارہ برائے انسانی حقوق سوسائٹی کے تاحیات رکن ہیں)
[email protected]