امام علی فلاحی: بھارت جوڑو یاترا انٹرنیشنل میڈیا کی نظر میں۔

0

ازقلم: امام علی فلاحی۔

ایم۔اے جرنلزم اینڈ ماس کمیونیکیشن۔
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد۔

ملک ہندوستان میں انڈین نیشنل کانگریس کے رہنما اور رکن پارلیمان راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا کے ایک سو بارہ دن مکمل ہو چکے ہیں،‌ جسے مسٹر راہل چار مہینوں سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یہ پیدل یاترا سات ستمبر کو جنوبی ریاست تمل ناڈو کے شہر کنیا کماری سے شروع ہوئی تھی۔ جس نے اب تک تقریباً 3000 کلومیٹر کا سفر طے کر لیا ہے۔
لیکن قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ یاترا صرف ایک قومی معاملہ ہی نہیں بلکہ ایک انٹرنیشنل معاملہ بن چکا ہے، ملک ہندوستان کی میڈیا تو اسے اپنے حساب سے دکھا ہی رہی ہے، لیکن اسکے علاوہ دیگر ممالک کی میڈیا میں بھی راہل گاندھی کے اس سفر کو جگہ دے رہی ہے اور اس یاترا پر لب کشائی کی جا رہی ہے۔

آئیے ذرا دیکھتے ہیں کہ بین الاقوامی میڈیا راہل گاندھی کی اس بھارت جوڑو یاترا کو کس انداز سے پیش کرتی ہے۔

جرمنی کے براڈکاسٹر DW نے گذشتہ مہینے دسمبر کے دوسرے ہفتے میں لکھا تھا کہ “کانگریس پارٹی اس یاترا کے ذریعے مہنگائی اور بے روزگاری کو دور کر کے نہ صرف اپنی کھوئی ہوئی سیاسی طاقت حاصل کرنا چاہتی ہے بلکہ وہ راہل گاندھی کو ایک بہترین لیڈر کی شکل میں بھی فائز کرنا چاہتی ہے” ۔

اسکے علاوہ بھی DW لکھتا ہے “ایک سیاسی پارٹی جس نے اپنے سو سال کے لمبے تاریخ میں سے زیادہ تر وقت ہندوستانی سیاست کو ایک راہ دکھائی ہے، اسی طرح اب وہ دوبارہ 2024 کے عام انتخاب سے پہلے کسی بھی طرح خود میں ایک نئی جان پھونکنے کی کوشش کر رہی ہے” ۔

امریکہ کے اخبار نیو یارک ٹائمز کے ایک مشہور صحافی سمیر یاسر نے بھارت جوڑو یاترا میں چل کر عام لوگوں میں اسکے اثر کو بھانپنے کی کوشش کی ہے۔
نیو یارک ٹائمز میں سمیر یاسر لکھتے ہیں کہ “اب جب عام چناؤ ہونے میں سولہ مہینے باقی ہیں تو راہل گاندھی کی یہ یاترا اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ ہندوستان کی اپوزیشن مودی اور بی جے پی کے عزائم کو روکنے میں کامیاب ہو جائے گی”۔

پاکستانی اخبار DAWN لکھتا ہے کہ “راہل گاندھی اپنی بھارت جوڑو یاترا کے ذریعے اپنی پارٹی اور ملک کی خستہ حالت کو سدھارنے کی کوشش کر رہے ہیں”۔

برطانیہ کے اخبار The guardian میں لندن اسکول آف اکنامکس کے ایک پروفیسر کا مضمون شائع ہوا، جس میں وہ لکھتی ہیں کہ “وہ خود اس یاترا کے ساتھ چلی تھیں، وہ لکھتی ہیں کہ یہ یاترا بہت ہی دلچسپ تھا کیونکہ اس میں الگ الگ زبان اور مختلف ثقافت و روایت کے لوگ شامل تھے”۔

پتہ یہ چلا کہ راہل گاندھی کی یہ بھارت جوڑو یاترا بین الاقوامی میڈیا کی نظر میں اس بات کی جانب اشارہ کر رہی ہے کہ راہل گاندھی اپنی اس یاترا کے ذریعے ملک کی بحالی کرنا چاہتے ہیں، امن و امان قائم کرنا چاہتے ہیں، ملک سے مہنگائی اور بے روزگاری کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور خاص طور سے آئندہ آنے والے الیکشن (2024) میں خود کی کامیابی چاہتے ہیں۔

قارئین! جیسے جیسے راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا آگے کو بڑھ رہی ہے اور راہل گاندھی کا پیغام محبت جتنی تیزی سے پھیل رہا ہے اسکا اندازہ بھی نہیں لگایا جا سکتا ہے۔
کیونکہ راہل گاندھی کی یہ بھارت جوڑو یاترا اب محض کوئی کانگریس پارٹی کا ایک پروگرام نہیں رہ گیا ہے، بلکہ یہ یاترا ہر اس ہندوستانی کی یاترا بن چکی ہے جو ہندوستان کو جوڑنا چاہتے ہیں، آئے دن اس یاترا میں بڑھتی بھیڑ اس بات کی جانب اشارہ کر رہی ہے کہ راہل کا پیغام محبت پھیل رہا ہے اور لوگ اس یاترا سے جڑ رہے ہیں۔
لیکن اب اسی کو دیکھتے ہوئے مخالفین کی جانب سے بھی بھارت توڑو یاترا شروع ہو چکی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت کے قول کے مطابق وزیراعظم نریندرمودی فی الحال راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا سے قدرے سہمے ہوئے ہیں، انہیں ڈر ہے کہ کہیں 2024 کے الیکشن میں راہل گاندھی مودی سرکار کو جھٹکا نہ دے دیں۔
اسی وجہ سے نتیش کمار نے کہا تھا کہ وزیراعظم نریندرمودی راہل گاندھی کی یاترا کو کورونا مہا ماری کا حوالہ دے کر بند کرانا چاہتے ہیں کیونکہ راہل اپنی یاترا کے ذریعے لوگوں میں بہت ہی معروف و مشہور ہو رہے ہیں اور لوگ بھی اس یاترا کی جانب بھارت کو جوڑنے کے واسطے کھچے چلے آرہے ہیں۔