بحرین نیتن یاہو کی جیت کے بعد بھی تعلقات جاری رکھے گا

0

یروشلم (ایجنسیاں) نیتن یاہو کی جیت کی ہمیشہ توقع تھی۔بحرین جیت اسرائیل سے تعلقات جاری رکھے گا۔بحرین نے اسرائیلی میں انتہائی دائیں بازو کی جماعت لیکوڈ پارٹی کی انتخابی جیت کے بعد اعلان کیا ہے کہ بحرین نیتن یاہو کی کامیابی کے بعد بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات جاری رکھے گا۔ یہ بات بحرین کے بادشاہ کے سفارتی مشیر نے شیخ خالد بن احمد نے کہی ہے۔نیتن یاہو کی انتخابی کامیابی کے بعد زیادہ عرب ملکوں کی طرف سے خاموشی ظاہر کی گئی ہے۔ تاہم بحرین جس نے حالیہ برسوں میں ہی اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کیے ہیں اس کی طرف سے نہ صرف یہ بیان سامنے آیا ہے بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ نیتن یا ہو کی’ جیت معمول کی طرح ہمیشہ متوقع تھی۔واضح رہے شیعہ اسلامی شناخت کے حامل ایران کے بارے میں نیتن یاہو کے سخت موقف نے سنی عرب ریاستوں کے اسرائیلی تعلقات کی استواری میں کافی اہم کردار ادا کیا ہے۔ یاہو کی 2020 کی حکومت کے دور میں ہی بحرین کے ساتھ اسرائیل کی نارملائزیشن ممکن ہوئی تھی۔یہ تعلقات امریکہ کے سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ ہونے والے معاہدہ ابراہم کے مرہون منت قائم ہوئے۔ سفارتی مشیر شیخ خالد بن احمد نے رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا ‘ ہمارا اسرائیل کے ساتھ ایک معاہدہ ہے ، جو معاہدہ ابراہم کا حصہ ہے۔ ہم اپنے اس معاہدے کے ساتھ جڑے رہیں گے اور توقع رکھیں گے کہ معاملات اور تعلقات انہی خطوط پر آگے بڑھتے رہیں گے۔سفارتی مشیر کہا کہنا تھا ‘ ہم چاہتے ہیں کہ مثال بنیں اور اکٹھے کامیاب ہوں اور جو بھی خطرات ہوں ان کا مقابلہ کریں۔امریکی اور اسرائیلی حکام نے یہ تجویز کیا تھا اسرائیل اور مشرق وسطیٰ فضائی دفائی نظام کے ایک نظام سے منسلک ہو جائیں۔ یہ تجویز صدر جوبائیڈن کے جولائی میں ہونے والے دورہ سعودیہ کے دوران سامنے آئی تھی۔ یہ ایک طرح سے معاہدہ ابراہم کی وجہ سے تھی مگر ابھی اسرائیل کو باقاعدہ طور پر تسلیم کیا جانا ہے۔ بحرینی مشیر نے کہا کہ ہم یہ یقینی بنانا چاہیں گے کہ ہم وہ دن نہ دیکھیں جو خطے کی سلامتی کے معاملات میں کمزوری کے دن ہوں۔ واضح رہے کہ یہ بحرین ہے جس میں امریکہ کا پانچواں بحری بیڑا موجود ہے۔شیخ کالد بن احمد کا ایک سوال کے جواب میں کہا تھا ‘ ہم نہیں چاہتے کہ خطے میں کوئی خطرے والی صورت حال پیدا ہو۔ ہم چاہتے ہیں کہ خطے کے تمام ملکوں کے درمیان صلح ہو اور کسی بھی جنگجوئی کے خلاف سب متحد رہیں۔خلیجی ممالک اور اسرائیل یکساں طور پر ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں تشویش رکھتے ہیں۔ اسی طرح ایران کی خطے میں عسکری توسیعات کے بارے میں بھی ایک ہی رائے رکھتے ہیں۔