شکرگزاربندوں کے اوصاف

0

ابونصر فاروقی

حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں سے اُن کے نفس اور اُن کے مال جنت کے بدلے خرید لئے ہیں،وہ اللہ کی راہ میں لڑتے اور مارتے اور مرتے ہیں، اُن سے ( جنت کا وعدہ) اللہ کے ذمہ ایک پختہ وعدہ ہے توراۃ اور انجیل اور قرآن میں اور کون ہے جو اللہ سے بڑھ کر اپنے عہد کا پورا کرنے والا ہو،پس خوشیاں مناؤ اُس سودے پرجو تم نے خدا سے چکا لیا ہے،یہی سب سے بڑی کامیابی ہے(۱۱۱)اللہ کی طرف بار بار پلٹنے والے،اُس کی بندگی بجالانے والے،اُس کی تعریف کے گن گانے والے،اُس کی خاطر زمین میں گردش کرنے والے، اُس کے آگے رکوع اور سجدہ کرنے والے،نیکی کا حکم دینے والے اور بدی سے روکنے والے اور اللہ کی حدود کی حفاظت کرنے والے، اس شان کے ہوتے ہیں وہ مومن جو اللہ سے بیع کا یہ معاملہ کرتے ہیں،اور اے نبی مومنوں کو خوشخبری دے دو۔ (توبہ: ۱۱۱/۱۱۲)
جو ہر حال میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں خواہ بد حال ہوں یا خوش حال۔جو غصے کو پی جاتے ہیں اور دوسروں کے قصور معاف کر دیتے ہیں، ایسے نیک لوگ اللہ کو بہت پسند ہیں۔(۱۳۴)اور جن کا حال یہ ہے کہ اگر کبھی کوئی فحش کام اُن سے ہو جاتا ہے یا کوئی گناہ کر کے وہ اپنے اوپر ظلم کر بیٹھتے ہیں تو فوراً اُنہیں اللہ یاد آجاتا ہے اور وہ اُس سے اپنے قصوروں کی معافی چاہتے ہیں، کیونکہ اللہ کے سوا کون ہے جو گناہ معاف کر سکتا ہواور وہ جان بوجھ کر اپنی غلطی پر ضد نہیں کرتے۔(۱۳۵)ایسے ہی لو گوں کا بدلہ اُن کے رب کے پاس یہ ہے کہ و ہ اُن کو معاف کر دے گا اور ایسے باغوں میں اُنہیں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ ہمیشہ وہاں رہیں گے۔ کیسا اچھا بدلہ ہے نیک عمل کرنے والوں کے لئے۔ (۱۳۶)…دل شکستہ نہ ہو، غم نہ کرو تمہیں غالب رہو گے اگر تم مومن ہو۔ (آل عمران:۱۳۴تا۱۳۹)
ان آیتوں میں کہا جا رہا ہے کہ سچے ایمان لانے والے اللہ سے جنت کے بدلے اپنی جان اور مال کا سودا کر لیتے ہیں، اس کے بعد اُن کی جان اور مال پر اُن کا اختیار ختم ہو جاتا ہے۔اُن کی جان اور مال اُن کے پاس اللہ کی امانت کے طو ر پر رہتی ہے۔وہ ان دونوں کا استعمال اللہ کے حکم کے مطابق کرتے ہیں۔ اپنی پسند اور اپنے شوق سے کچھ نہیں کرتے۔اُن کی ساری دوڑ دھوپ دنیا کمانے کے لئے نہیں اللہ کے دین کی سربلندی کے لئے استعمال ہوتی ہے۔
اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، اُنہیں مردہ نہ کہو،ایسے لوگ تو حقیقت میں زندہ ہیں، مگر تمہیں اُن کی زندگی کا شعور نہیں ہوتا۔(۱۵۴)اور ہم ضرور تمہیں خوف و خطر، فاقہ کشی، جان و مال کے نقصانات اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کر کے تمہاری آزمائش کریں گے۔اُنہیں خوش خبری دے دو (۱۵۵) ان حالات میںجو لوگ صبر کریں اورجب کوئی مصیبت پڑے تو کہیں،ہم اللہ ہی کے ہیں اوراللہ ہی کی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے۔(۱۵۶ )اُن پر اُن کے رب کی طرف سے بڑی عنایات ہوں گی، اُس کی رحمت اُن پر سایہ کرے گی اورایسے ہی لوگ سیدھی راہ چلنے والے ہیں۔ (البقرہ: ۱۵۴تا۱۵۷)
اوپر جن لوگوں کا ذکر کیا گیا وہ اللہ کی راہ میں اپنی جان دینے سے بھی گریز اور پرہیز نہیں کرتے ہیں۔ دنیا کے ہر طرح کے گھاٹے اور نقصان کو سہ کر بھی رنج و ملال نہیں کرتے بلکہ جواں مردی کے ساتھ ہر آزمائش میں ڈٹے رہتے ہیں۔سمجھتے ہیں کہ اللہ اُن کے ایمان کا امتحان لے رہا ہے۔اے لوگو جو ایمان لائے ہو یاد کرو اللہ کے احسان کو جو (ابھی ابھی)اُس نے تم پر کیا ہے۔ جب لشکر تم پر چڑھ آئے تو ہم نے اُن پر ایک سخت آندھی بھیج دی اور ایسی فوجیں روانہ کیں جو تم کو نظر نہ آتی تھیں،اللہ وہ سب کچھ دیکھ رہا تھا جو تم لوگ اُس وقت کر رہے تھے۔ (احزاب:۹)
بد ر و اُحد کی جنگ کا ذکر کیا جارہا ہے کہ جب اہل ایمان بہت کم تعداد میں تھے اور دشمن کی بڑی تعداد تھی تو اللہ نے اپنے نبی اور اُن کے ساتھیوں کی مدد کی اور دشمنوں کے مقابلے میں اُن کو کامیاب بنا دیا۔اللہ کا یہ قانون اور طریقہ آج بھی اُس کے فرماں بردار بندوں کے لئے موجود ہے۔
نیکی یہ نہیں ہے کہ تم نے اپنے چہرے مشرق کی طرف کر لئے یا مغرب کی طرف، بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اور یوم آخر کو اور ملائکہ کو اور اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب اور اُس کے پیغمبروں کو دل سے مانے اور اللہ کی محبت میں اپنا دل پسند مال رشتے داروں اور یتیموں پر،مسکینوں اور مسافروں پر، مدد کے لئے ہاتھ پھیلانے والوں پر اور غلاموں کی رہائی پر خرچ کرے، نماز قائم کرے اور زکوۃ دے، اور نیک وہ لوگ ہیں کہ جب عـہد کریں تو اُسے وفا کریں اور تنگی و مصیبت کے وقت میں اور حق و باطل کی جنگ میں صبر کریں ۔ یہ ہیں سچے لوگ اور یہی لوگ متقی ہیں ۔ (البقرہ:۱۷۷)
اس آیت میں بتایا جارہا ہے کہ ظاہر داری اور دکھاوے کا نام عبادت نہیں ہے۔اصلی اور سچی عبادت یہ ہے کہ مسلمان ایمان کی جو شرطیں اور تقاضے ہیں اُن کو پوراکریں اور دل کھول کر اپنا مال خرچ کریں۔تب ثابت ہو گا کہ وہ سچے اور اصلی مسلمان ہیں۔
سنو! جواللہ کے دوست ہیں،جو ایمان لائے اور جنہوں نے تقویٰ کا رویہ اختیار کیا ، اُن کے لئے خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے۔ (۶۲) یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور(برائیوںسے)پرہیز کرتے ہیں۔ (۶۳)دنیا اور آخرت دونوں زندگیوں میں ان کے لئے بشارت ہی بشارت ہے۔ اللہ کی باتیں بدل نہیں سکتیں۔یہی بڑی کامیابی ہے۔ (یونس:۶۲،۶۳)
اس آیت میں یہ خوش خبری دی جا رہی ہے کہ جو لوگ تقویٰ کے راستے پر چلتے ہیں یعنی ہر طرح کی برائی سے اپنا دامن بچاتے ہیں، دنیا کی زندگی میں اُن کے لئے قدم قدم پر خوش خبری اور کامیابی ہے۔ایسے نیک لوگوں کو زندگی میںنہ کبھی ڈر اور خوف کا سامنا ہوگا اور نہ اُن کو کسی نقصان کا رنج پہنچے گا۔قدم قدم پر اللہ کی رحمت اور مدد اُن کے ساتھ رہے گی۔
کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اُس کا ہمسر اور مد مقابل بناتے ہیں اور اُن کے ایسے دیوانے ہوتے ہیں جیسی اللہ کے ساتھ دیوانگی ہونی چاہئے،حالانکہ ایمان رکھنے والے لوگ سب سے بڑھ کر اللہ کو محبوب رکھتے ہیں۔ (البقرہ:۱۶۵)
اوپر کی آیت میں جو خوش خبری دی گئی ہے اُس کی شرط یہ ہے کہ اُن کو سب سے زیادہ اللہ سے محبت ہونی چاہئے۔اللہ کے سوا زندگی میں کوئی ایسی چیز نہ ہو جو اللہ کی محبت کے مقابلے میں آ جائے۔اگر ایسا ہوا تو اللہ کی محبت کا دعویٰ جھوٹا ثابت ہو گا۔ اللہ جس کو چاہتا ہے رزق کی فراخی بخشتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا رزق دیتا ہے،یہ لوگ دنیوی زندگی میں مگن ہیں حالانکہ دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میںایک متاع قلیل کے سوا کچھ نہیں۔(۲۶) … ایسے ہی لوگ ہیں وہ جنہوں نے (اس نبی کی دعوت کو) مان لیا ہے اور اُن کے دلوں کو اللہ کی یاد سے اطمینان نصیب ہوتا ہے، خبردار رہو اللہ کی یاد ہی وہ چیز ہے جس سے دلوں کو اطمینان نصیب ہواکرتا ہے۔ (الرعد: ۲۶،۲۸)
اے محمدؐ! تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیںپھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اُس پر اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ محسوس نہ کریں بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں۔( ۶۵)…جو لوگ اللہ اور رسول کی اطاعت کریں گے وہ اُن لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے یعنی انبیا اور صدیقین اور شہدا اور صالحین۔ کیسے اچھے ہیں یہ دوست جو کسی کو میسر آئیں۔ (النساء: ۶۵،۶۹)
ہر انسان کو دنیا میں روزی روٹی کی سب سے زیادہ فکر ہوتی ہے اور یہ فکر اللہ اور ایمان سے غافل کر دیتی ہے۔بتایا جا رہا ہے کہ روزی کا کم یا زیادہ ہونا انسان کی کوشش یا نااہلی کے سبب نہیں ہے۔یہ اللہ کی مشیت ہے جو ایسا کرتی ہے۔نبی اکرمؐ نے روزی روٹی کے متعلق جتنی باتیں بتائی ہیں اُن کو مان لینے والوں کے دلوں کو اطمینان اور سکون نصیب ہوتا ہے۔ اور دنیا کی اصل دولت یہی ہے۔ایسے لوگوں کی گنتی اُن لوگوں میں ہوگی جن کا رتبہ اور مرتبہ تمام انسانوں میں سب سے اعلیٰ اور اونچا ہے۔اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے اُن لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں کہ وہ اُن کو اُسی طرح زمین میں خلیفہ بنائے گا جس طرح ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو بنا چکا ہے، اُن کے لئے اس دین کو مضبوط بنیادوں پر قائم کر دے گا جسے اللہ تعالیٰ نے اُن کے حق میں پسند کیا ہے، اور اُن کی (موجودہ)خوف کی حالت کو امن سے بدل دے گا، بس وہ میری بندگی کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور جو اس کے بعد کفر کرے تو ایسے ہی لوگ فاسق ہیں۔(نور:۵۵)
یہاں کہا جارہا ہے کہ جو لوگ اوپر بیان کی ہوئی صفات اپنے اندر پیدا کرلیں گے تو اللہ اسی دنیا میں اُن کو سردار اور حاکم بنا دے گا۔ پھراُن کو نہ کسی دشمن کا خوف ہوگا اور نہ وہ کسی کے ماتحت رہیں گے۔وہ آزاد، خود مختار اورحاکم بن کر دنیا میں راج کریں گے۔جو ایسا نہ کریں وہ کافر ہیں۔
جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے ہم اُنہیں اپنے راستے دکھائیں گے اور یقینااللہ نیکو کاروں کے ہی ساتھ ہے۔ (العنکبوت:۶۹)کیااللہ اپنے بندے کے لئے کافی نہیں ہے ؟یہ لوگ اُس کے سوا تم کو ڈراتے ہیں۔حالانکہ اللہ جسے گمراہی میں ڈال دے اُسے کوئی راستہ دکھانے والا نہیں۔ (الزمر:۳۶)
یہاں اللہ تعالیٰ یہ خوش خبری سنا رہا ہے کہ جو لوگ اللہ کے نیک اور صالح بندے بن جائیں گے اور اللہ کی راہ میں جہاد یعنی دین کی سربلندی کی کوششیں کرتے رہیں گے، اللہ تعالیٰ زندگی کے ہر قدم اور مقام پر اُن کی رہبری کرے گا اورہر طرح سے اُن کی مدد کرے گا۔وہ کسی بھی طرح کہیں بھی خود کو بے سہارا محسوس نہیں کریں گے۔پھر یہ کہا جارہا ہے کہ جب بندہ اللہ پر ایمان لا کر اُس پر بھروسہ کرے تو اُس کو سمجھنا چاہئے کہ اللہ کے مقابلے میں کوئی اُس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ہے۔شیطان کے ساتھی جو اللہ کے بندوں کو ڈراتے ہیں،اللہ اُن کو ایسی گمراہی میں ڈال دیتا ہے کہ وہ کبھی دنیا میں بامراد اور کامیاب ہو ہی نہیں سکتے ہیں۔ جن لوگوںنے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے،یقینا اُن پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور اُن سے کہتے ہیں کہ نہ ڈرو نہ غم کرو، اور خوش ہو جاؤ اُس جنت کی بشارت سے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔(۳۰)ہم اس دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے ساتھی ہیں اور آخرت میں بھی۔ وہاں جو کچھ تم چاہوگے تمہیں ملے گااور ہر چیز جس کی تم تمنا کرو گے وہ تمہاری ہوگی۔ (۳۱)یہ ہے مہمانی کا سامان اُس ہستی کی طرف سے جو غفور اور رحیم ہے۔(۳۲)اور اس شخص سے اچھی بات اورکس کی ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں مسلمان ہوں۔(حم السجدہ: ۳۰،۳۱،۳۳)یقینا جن لوگوں نے کہہ دیا کہ اللہ ہی ہمارا رب ہے، پھر اس پر جم گئے،اُن کے لئے نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔(۱۳)ایسے لوگ جنت میں جانے والے ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، اپنے اُن اعمال کے بدلے جو وہ دنیا میں کرتے رہے ہیں۔(احقاف: ۱۳،۱۴)
اللہ کو رب بنا کر اُس پر ڈٹ جانے اور جم جانے والوں کی مدد کیلئے اللہ تعالیٰ فرشتوں کو بھیجتا ہے جو ہر قدم پر اُن کے ساتھی بن کر اُن کی مدد کرتے رہتے ہیں۔اُن کو دنیا میں نہ کوئی ڈر اورخوف ہوگا اور نہ وہ کسی قسم کا نقصان اٹھائیں گے۔اس سے زیادہ بڑی خوش خبری اور کیا ہو سکتی ہے ؟جو لوگ ایمان لائے ہیں اور اُن کی اولاد بھی ایمان کے کسی درجہ میںاُن کے نقش قدم پرچلی ہے تو اُن کی اولاد کو بھی (جنت میں)اُن کے ساتھ ہم ملا دیں گے اوراُن کے عمل کا کوئی گھاٹا اُن کو نہ دیں گے۔ ہر آدمی اپنی کمائی کے بدلے رہن ہے۔(طور:۲۱)
یہاں کہا جارہا ہے کہ جن لوگوں نے خود بھی نیکی کا راستہ اپنا یا اور اپنی اولاد کو بھی نیک بنانے کی کوشش کی اور اولاد نیک بن کر دنیا میں رہی تو ایسے آدمی کا سارا خاندان جنت میں ساتھ رہے گا،جو لوگ اپنی اولاد کو نیک مسلمان بنانے کی کوشش نہیں کرتے، سوچئے وہ کتنے نادان ہیں۔دنیا میںتو اولاد کی بھلائی چاہتے ہیں لیکن آخرت میں اُس کے جہنم میں جانے کا سامان کرتے رہتے ہیں۔ایسی اولاد نہ دنیا میں کام آتی ہے نہ آخرت میں کام آئے گی۔…علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں:
ہاتھ ہے اللہ کا بندۂ مومن کا ہاتھ
غالب و کار آفریں ، کار کشا ، کار ساز
خاکی و نوری نہاد ، بندۂ مولا صفات
ہر دوجہاں سے غنی اُس کا دل بے نیاز
اُس کی امیدیں قلیل ، اُس کے مقاصد جلیل
اُس کی ادا دل فریب ، اُس کی نگہ دل نواز

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here