کیا مسلمانوں کو قبر اور حشر کے ان سوالوں کی فکر ہے ؟

0

ابونصر فاروق

کسی کی موت کی خبر سن کر سبھوں کو بہت افسوس ہوتا ہے۔ لوگ اپنے رنج و غم کا اظہار کرتے ہیں۔کسی جوان کی موت ہو جائے تو مت پوچھئے،لوگوں کا تبصرہ ایساہوتا ہے جیسے مرنے والے کے ساتھ بڑی ناانصافی اور زیادتی ہو گئی۔ ابھی تو مرحوم کے کھانے کھیلنے اور دنیا کا مزہ لینے کے دن تھے۔ بے رحم موت نے ارمانوں کی دنیا میں آگ لگا دی۔کسی نوجوان لڑکی کا شوہر مر جائے تو اُس پر بھی اسی طرح کے تاثرات سننے کو ملتے ہیں۔ یعنی قدرت کو ذرا خیال نہیں آیا کہ بیچاری جوان بیوہ کا گزارا کیسے ہوگا۔ اُس کے چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کی پرورش اور آنے والی زندگی کا کیا انتظام ہوگا۔ کسی بوڑھے ماں باپ کا جوان بیٹا مر جائے تو اُس وقت بھی یہی باتیں ہوتی ہیں۔کہا جاتا ہے کہ مارنا ہی تھا تو جوان بیٹے کی جگہ بوڑھے ماں باپ کی جان لے لیتا۔یہ معاملہ تو ناانصافی کا ہوا۔ یہ سب باتیں غیر مسلم نہیں کہتے جواسلام اور ایمان کو نہیں جانتے ہیں، نہ مانتے ہیں اور نہ ان چیزوں کی اہمیت سمجھتے ہیں، بلکہ مسلمان ایسا کہتے نظر آتے ہیں جن کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ یہ تو ایمان والے ہیں۔
دراصل سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اس طرح کی باتیں کرنے والے مسلمان ہونے کے باوجودبالکل ویسے ہی باتیں کرتے ہیں جیسے ایمان سے محروم لوگ کرتے ہیں اور اپنی ان باتوں سے ثابت کرتے ہیں کہ یہ نام کے مسلمان ہیں۔ ان تمام باتوں کے پیچھے اللہ کی قدرت ، رحمت،حکمت اور مصلحت کا شدید اور مکمل انکار دکھائی دیتا ہے۔یعنی خدا نعوذ باللہ بے رحم ہے، انسانی ہمدردی سے محروم ہے،جوان دوشیزہ اورچھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کی مسائل سے ناواقف ہے۔ان تاثرات کے پیچھے ایک اہم بات یہ ہے کہ غیر مسلموں کی طرح اس دور کے مسلمان بھی یہی نظریہ اور عقیدہ رکھتے ہیں کہ زندگی دنیا کا مزہ لوٹنے اورعیش و عشرت کرنے کے لئے ملی ہے اور جب آدمی مر گیا تو ان تمام نعمتوں سے محروم ہو گیا۔ نبی ؐ نے فرمایا’’ دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔‘‘یعنی جب تم آخرت میں فصل کاٹنے کے لئے دنیا میں عمل کی کھیتی کرو گے تب تم کامیاب کہلاؤگے۔ تم نے اگر آخرت کے لئے دنیا میں کوئی کھیتی کی ہی نہیں، تب تو تمہاری آخرت میںاُس کسان جیسی حالت ہوگی جس کے کھیت میں فصل پیدا ہوئی ہی نہیں۔
موجودہ دور کے مسلمان شاید اس حدیث کے مضمون کو جانتے ہی نہیں،جاننا چاہتے بھی نہیں اور اس طرح اس پر نہ ان کا یقین و ایمان ہے اور نہ عمل ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہوا کہ یہ مسلمان اپنے عمل سے نبیؐ کے فرمان کو جھٹلا رہے ہیں۔ سچائی یہ ہے کہ کسی کی موت افسوس کی بات نہیں ہے۔ دنیا والے بھی مانتے ہیں اور اہل ایمان کا تو اس پر عقیدہ اور ایمان ہی ہے کہ موت کا وقت جب آجاتا ہے تو کسی کے ٹالے نہیں ٹلتا۔ موت کا جو وقت طے ہے موت اُس سے ایک سیکنڈ پہلے یا ایک سیکنڈ بعد میں نہیں آ سکتی۔ بالکل اپنے طے شدہ وقت پر آتی ہے۔ اس لئے کسی کے مرنے کے بعد فکر اس بات کی ہونی چاہئے کہ اُس کی موت ایمان کی حالت میں ہوئی یا انکار کی حالت میں۔ نبی ؐنے فرمایا ہے کہ جو ایمان کی حالت میں مرے گا آخرت میں ایمان کی حالت کے ساتھ اٹھایا جائے گا اور جو انکار کی حالت میں مرے گا وہ آخرت میں انکار کی حالت میں اٹھایا جائے گا۔ مرنے کے بعد کیا ہوتا ہے یہ بھی لوگ نہیں جانتے۔ دیکھئے اس سلسلے میں پیارے نبی ؐنے کیا فرمایا ہے اور پیش آنے والے معاملات کے متعلق کیا سمجھایا ہے: نبیؐ نے فرمایا انسان کی موت کے بعد جب اُسے قبر میں دفن کر کے اُ س کے رشتہ دار اور دوست احباب واپس آجاتے ہیں تو آسمان سے دو فرشتے آتے ہیں اور مردہ جسم میں روح کو دوبارہ لوٹا کر مرنے والے کو اٹھاتے ہیں اور اُس سے پوچھتے ہیں۔پہلا سوال…تیرا رب کون ہے ؟ دوسرا سوال… تیرا دین کیا ہے ؟ تیسرا سوال… وہ شخصیت کون ہے جو تم میں مبعوث ہوئی ؟
مرنے والااگر سچا مومن ہے اور اُس کی موت ایمان کی حالت میں ہوئی ہے تو وہ جواب دیتا ہے میرا ر ب اللہ ہے۔ میرا دین اسلام ہے۔ مبعوث ہونے والے آخری نبی حضرت محمد ؐ ہیں۔ فرشتہ سوالوںکے جواب سن کر چوتھا سوال کرتا ہے یہ باتیں تم کو کیسے معلوم ہوئیں ؟ مرنے والا کہتا ہے میں نے اللہ کی کتاب میں پڑھا ، اس پر ایمان لایا اور اس کو سچ جانا۔ اُس وقت آسمان سے آواز دینے والا آواز دیتا ہے میرے بندے نے سچ کہا، اس کے لئے جنتی فرش بچھاؤ، اسے جنتی لباس پہناؤ اور اس کے لئے جنت کے دروازے کھول دو۔ پھر اُس جنتی دروازے سے جنتی معطر ہوائیں آنے لگتی ہیں اور جہاں تک نظر جاتی ہے وہاں تک اُس کی قبر کشادہ کر دی جاتی ہے۔ لیکن مرنے والا اگر صرف نام کا مسلمان تھا، اسلام کے متعلق کچھ جانتا ہی نہیں تھا، اسلامی احکام پر عمل کرتا ہی نہیں تھا، اُس کو آخرت کی کچھ فکر تھی ہی نہیں، اُسے قبر کے عذاب کا خوف تھا ہی نہیں، تو وہ فرشتوں کے ہر سوال کے جواب میں کہتا ہے افسوس میں نہیں جانتا۔ (جب مرنے والا تینوں سوالوں کے صحیح جواب دیتا ہی نہیں تو اُس سے چوتھا سوال پوچھنے کی نوبت آتی ہی نہیں۔) اُس وقت آسمان سے آواز دینے والا آواز دیتا ہے اس نے جھوٹ کہا، اس کے لئے آگ کا بستر بچھاؤ اور اس کے لئے جہنم کے دروازے کھول دو۔ پھر اُس کی طرف جہنم کی تپش اور گرم تکلیف دینے والی ہوائیں آنے لگتی ہیں اور اُس کی قبر کو اس طرح تنگ کیاجاتا ہے کہ مرنے والے کی پسلیاں ایک دوسرے میں پیوست ہو کر دوسری طرف نکل جاتی ہیں۔(مسند احمد)
اب ذرا غور فرمائیے کہ اس مرنے والے کی مدد دنیا کا کوئی بھی انسان کر سکتا ہے ؟ جب دنیا میں حکومت کی پولیس یا سی آئی ڈی جیسا کوئی محکمہ کسی انسان کو گرفتار کر کے لے جاتا ہے تو چاہے کتنا ہی بڑا آدمی ہو، اُس کی مدد اُس کے رشتہ دار یا چاہنے والے کر ہی نہیں سکتے ہیں۔عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد اُس کو سزا ہوتی ہے اور وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے دنیا کی ہر لطف و لذت سے محروم اپنی زندگی کے دن کاٹتا رہتا ہے۔جب دنیا میں کوئی انسان مجرم کی مدد نہیں کر سکتا ہے تو اللہ کی بارگاہ میں جو آدمی مجرم قرار دے دیا گیا اور اُس پر عذاب ہونے لگا، کون مائی کا لال پیدا ہوا ہے جو اللہ کے اُس مجرم کی مدد کرے گا ؟ کسی کی موت افسوس کی بات ہے یا قبر اور حشر میں اُس کے ساتھ جو کچھ ہوگاوہ فکر مندی اور رنج و ملال کا مضمون ہے ؟
جب قیامت آ جائے گی اور دنیا کا خاتمہ ہو جائے گا تب حشر کے میدان میں پہلے سے آخر تک پیدا ہونے والے سارے انسان اپنے انجام کے انتظار میں کھڑے ہوں گے کہ دیکھیں کیا فیصلہ ہوتا ہے۔جنت ملتی ہے یا جہنم۔ اُ س وقت کے بارے میں’’رسول اللہ ؐنے فرمایا: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی عدالت سے آدمی ہٹ نہیں سکتا جب تک اُس سے پانچ باتوں کے بارے میں حساب نہ لے لیا جائے۔ پوچھا جائے گا۔عمر کن کاموں میں گزاری ؟ (حساب دو)جوانی کس مشغلہ میں گھلائی ؟(حساب دو)مال کس طرح کمایا ؟(حساب دو)مال کن کن کاموں میں خرچ کیا ؟ (حساب دو)دین کا جو علم حاصل کیا اُس پر کہاں تک عمل کیا ؟ (حساب دو) (ترمذی)
اب سمجھنے کی کوشش کیجئے: کیا کوئی بھی انسان ان سوالوں کا جواب دے پائے گا۔ اور جس طرح قبر کے سوالوں کے صحیح جواب نہ دینے والا قبر کے عذاب میں مبتلا رہا، یہاں بھی صحیح جواب نہیں دینے کے جرم میں جہنم کی آگ میں جھونک دیا جائے گا یا نہیں؟
صرف وہ نیک، دین دار اور خدا سے ڈرنے والا مومن اور مسلم جو انتہائی مفلسی اور پسماندہ حالت میں زندگی گزار رہا تھا وہ کہے گا کہ یا اللہ میرے ماں باپ اور خاندان والوں نے مجھے ایمان اور اسلام کا سبق پڑھایا تھا اس لئے میں زندگی بھر تیری فرماں برداری کرتا رہا اور ہمیشہ تیری نافرمانی سے ڈرتا اور بچتا رہا۔ پوری عمر جس میں میری جوانی بھی شامل ہے تیری غلامی کرتے ہوئے گزری۔ میری جو حلال آمدنی ہوتی تھی اُس میں مشکل سے میرے خاندان کا خرچ پورا ہوتا تھا۔ جو کچھ کمایا حلال کمایا اور جو کچھ خرچ کیا وہ اپنی بنیادی ضرورتوں پر خرچ کیا۔ مالک ابتدائی عمر میں اسلام کی جو تعلیم مجھے ملی تھی عمر بھر انہیں باتوں پر عمل کرتا رہا۔ اور ایسے جواب دینے کے بعد اللہ تعالیٰ اُس سے راضی اور خوش ہو کر اُس کو جنت کا پروانہ عطا کرے گا۔ آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ آپ کے ساتھ موت کے بعد جو کچھ ہونے والا ہے اُس کے سلسلے میں کیا عقیدہ ہے اور آپ اپنی زندگی میں کیا قبر اور حشر کے سوالوں کے صحیح جواب دینے کی تیاری میں لگے ہیں یا اللہ اور رسول کے احکام کا انکار کرنے والوں کی طرح قبر کے عذاب کا شکار اور جہنم کی آگ میں ہمیشہ جلتے رہنے کے انتظار میں ہیں ؟ابھی تک تو آپ نے یہ جانا کہ آخرت میں دین اسلام اور احکام شریعت کا انکار کرنے والوں کا کیا حال ہوگا۔ اب یہ جانئے کہ دنیا میں ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کیا معاملہ کرتا ہے:
جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے اُن کے لئے دنیا کی زندگی بڑی محبوب اور دل پسند بنا دی گئی ہے۔ایسے لوگ ایمان کی راہ اختیار کرنے والوں کا مذاق اڑاتے ہیں مگر قیامت کے روز پرہیزگار لوگ ان کے مقابلے میں اعلیٰ مقام پر ہوں گے۔ رہا دنیا کا رزق تو اللہ کو اختیار ہے جسے چاہے بے حساب دے۔(البقرہ:۲۱۲)
وہ لوگ جنہوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا،تو اللہ کے مقابلے میں اُن کو نہ ان کا مال کچھ کام دے گا نہ اولاد، وہ تو آگ میں جانے والے لوگ ہیں اور آگ ہی میں ہمیشہ رہیں گے۔ (آل عمران:۱۱۶)اور جس کسی نے ایمان کی روش پر چلنے سے انکار کیا تو اُس کا سارا کارنامۂ زندگی ضائع ہو جائے گا اور وہ آخرت میں دیوالیہ ہو جائے گا۔(المائدہ:۵)
کیا اُنہوں نے دیکھا نہیں کہ ان سے پہلے کتنی ایسی قوموں کو ہم ہلاک کر چکے ہیں جن کا اپنے اپنے زمانہ میں دور دورہ رہا ہے،اُن کو ہم نے زمین میں وہ اقتدار بخشا تھا جو تمہیں نہیں بخشا ہے،اُن پر ہم نے آسمان سے خوب بارشیں برسائیں اور اُن کے نیچے نہریں بہا دیں(مگر جب اُنہوں نے اللہ کی نعمت کی ناشکری کی تو) آخر کارہم نے اُن کے گناہوں کی سزا میں اُنہیں تباہ کر دیا اور اُن کی جگہ دوسری قوموں کو اٹھایا ۔(انعام:۶)
جب ایسے لوگوں کی موت کا وقت آتا ہے تو ان کا کیا حال ہوتا ہے،اس کو بھی جانئے:کاش تم اُس حالت کو دیکھ سکتے جبکہ فرشتے مقتو ل کافروں کی روحیں قبض کر رہے تھے۔ وہ اُن کے چہروں اور اُن کے کولہوں پر چوٹ لگاتے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے، لو اب جلنے کی سزا بھگتو۔یہ وہ جزا ہے جس کا سامان تمہارے اپنے ہاتھوںنے مہیاکر رکھا تھا، ورنہ اللہ تواپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔ (انفال۵۰/۵۱)پھر اُس وقت کیا حال ہوگا جب فرشتے اُن کی روحیں قبض کریں گے اور اُن کے منہ اور پیٹھوں پر مارتے ہوئے اُنہیں لے جائیں گے۔ یہ اسی لئے تو ہوگا کہ انہوں نے اُس طریقے کی پیروی کی جو اللہ کو ناراض کرنے والا ہے اور اُس کی رضا کا راستہ اختیار کرنا پسند نہ کیا، اسی بنا پر اُس نے اُن کے سب اعمال ضائع کر دیے۔(محمد:۲۷/۲۸)
حشر کے میدان میں جہنم میں جانے والے کیا کہیں گے اس کو بھی قرآن نے نقل کیا ہے، ملاحظہ فرمائیے:تباہی ہے اُس روز ان جھٹلانے والوں کے لئے (۱۱)جوآج کھیل کے طور پر اپنی حجت بازیوں میں لگے ہوئے ہیں(۱۲)جس دن اُنہیں دھکے مار مار کرجہنم کی آگ کی طرف لے جایا جائے گا(۱۳) اُس وقت اُن سے کہا جائے گا کہ یہ وہی آگ ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے (۱۴)اب بتاؤ یہ جادو ہے یا تمہیں سوجھ نہیں رہا ہے (۱۵)جاؤ اب جھلسو اس کے اندر، تم خواہ صبر کرو یا نہ کرو، تمہارے لئے یکساں ہے، تمہیں ویسا ہی بدلہ دیاجارہا ہے جیسے تم عمل کر رہے تھے(الطور:۱۶)
(جہنم میں جانے والاکہے گا،کاش! )اعمال نامہ مجھے دیا ہی نہ گیا ہوتا(۲۵)اور میںنہ جانتا کہ میراحساب کیا ہے (۲۶)کاش! میری وہی موت(جو دنیا میں آئی تھی ) فیصلہ کن ہوتی (۲۷) آج میرا مال میرے کچھ کام نہ آیا(۲۸)میرا سارا اقتدار ختم ہو گیا (۲۹)(حکم ہوگا) پکڑ واسے اور اس کی گردن میں طوق ڈال دو(۳۰)پھر اسے جہنم میں جھونک دو (۳۱)پھر اس کوستر ہاتھ لمبی زنجیر میں جکڑ دو(۳۲) یہ نہ اللہ بزرگ و برترپر ایمان لاتا تھا(۳۳) اورنہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتا تھا(۳۴)، آج نہ یہاں اس کا کوئی یار غمخوار ہے (۳۵) اورنہ زخموں، دھوون کے سوااس کے لئے کوئی کھانا ہے(۳۶)جسے خطاکاروں کے سوا کوئی نہیں کھاتا(الحاقہ:۳۷)
کیا قرآن کی ان باتوں کو پڑھنے کے بعد بھی نقلی اور نسلی مسلمانوں کی آنکھ نہیں کھلے گی ؟ اُن کو ہوش نہیں آئے گا ؟وہ اسلام کا انکار کرنے والوں جیسی زندگی گزارنے کی ضد پر اڑے رہیں گے؟ جس نے خود اپنی آخرت سنوارنے کا انتظام نہیں کیا، اُس کے مرنے کے بعد کوئی بھی اُس کی آخرت سنوارنے میں کچھ بھی مدد نہیں کر سکتا۔