بے وجہ گرفتاریاں آزادی پر حملہ ہیں

0

وراگ گپتا

مغربی بنگال میں ٹی ایم سی کے وزیراور ممبران اسمبلی کی گرفتاری کے معاملے پر ہائی کورٹ کے 5ججوں کی بنچ کئی دنوں سے سنوائی کررہی ہے۔ بھیما کورے گائوں معاملے میں سپریم کورٹ نے سی آرپی سی قانون کی دفعہ 167کے تحت ہائوس اریسٹ کے نظم پر مضبوط مہر لگائی ہے۔ اس کے باوجود ٹی ایم سی کے لیڈروںکو حراست میں لینے کے لئے سی بی آئی کی بے چینی قانون کے لحاظ سے خطرناک ہے۔ ضمانت کے معاملوں کا فیصلہ عام طور پر ہائی کورٹ کے ایک جج کی بنچ کے ذریعہ ہوجاتا ہے، لیکن مغربی بنگال کے نارد واقعہ میں پھنسے ٹی ایم سی لیڈروں کی بیل کے معاملے میں ہائی کورٹ کو 5ججوں کی بنچ بنانا پڑی۔ ججوں نے سالیسٹر جنرل سے پوچھا کہ گزشتہ 7برسوں سے چل رہی جانچ کے دوران ان لیڈروںکو گرفتار نہیں کیا گیا تو اب گرفتاری پر اتنا زور کیوں ہے؟ اس کا سیدھا جواب دینے کے بجائے، مرکزی سرکار نے اس معاملے کی سماعت کو دوسری ریاست میں کروانے کی عجیب مانگ کرڈالی۔ سی بی آئی مرکزی سرکار کے ماتحت آتی ہے، لیکن پولیس توریاستوں کا سبجیکٹ ہے۔ ملک کی بیشتر ریاستوں میں الگ الگ پارٹیوں کی سرکاروں کے دور میں بے وجہ گرفتاری کے معاملے میں اضافہ ہونا، کورونا وائرس سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ جوابی حملے میں ممتا بنرجی نے بی جے پی لیڈروںکے خلاف چوری جیسے معاملوں میں ایف آئی آر درج کروا دی۔ جنوب بعید کے کیرل میں کیمونسٹ سرکار نے بھی بی جے پی لیڈروں پر پولیس کا ڈنڈا چلانا شروع کردیا ہے۔ شیوسینا اور کانگریس کے زیر اقتدار مہاراشٹر میں گرفتاری سے بچنے کے لئے سینئر آئی پی ایس افسر پرم بیر سنگھ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی پناہ میں پہنچ گئے ہیں۔ مدھیہ پردیش میں پولیس کے ڈنڈوں سے کانگریسی لیڈروں کو بچانے کے لئے سابق وزیر اعلیٰ کمل ناتھ نے پین ڈرائیو کا کامیاب جوابی دائو چل دیا ہے۔ کانپور میں سیاستدان سے مافیا بنے وکاس دوبے کے اکائونٹر کے بعد اس کے کنبہ کی 4

سپریم کورٹ نے2020کے حالیہ فیصلے سے پھر صاف کیا ہے کہ جیل بھیجنے کے معاملوں میں مجسٹریٹ اور ججوں کو تفصیلی اور قانون کے موافق حکم پاس کرنا چاہیے۔ لیکن ایسے فیصلے لائبریری کی کتابوں میں ہی قید رہتے ہیں۔ اس لئے اب 2016 میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق غلط گرفتاری کے لئے ذمہ دار ہر پولیس افسر سے ہرجانہ وصولنے کا رواج شروع کرنا چاہیے۔ پولیس اگر بے وجہ گرفتار کر بھی لے تو سپریم کورٹ کے 1978 کے فیصلے کے مطابق ملزم کو جیل کی بجائے ضمانت ملنی چاہیے۔

خواتین پچھلے 10مہینے سے جیل میں بند ہیں۔
حکمراں بی جے پی کے ایم ایل سی امیش دویدی نے یوپی کے وزیر اعلیٰ کو مکتوب لکھ کر کہا ہے کہ بے گناہ خواتین پر جبراً مقدمہ تھوپ کر ان پر انگریزوں کے زمانے سے زیادہ ظلم ہورہا ہے۔ بی جے پی ایم ایل سی کے خط سے صاف ہے کہ آزادی کے 75ویں برس کے جمہوری ہندوستان میں پولیس کا نظام ابھی بھی انگریزی حکومت کی طرح استحصالی ہے۔ انگریزوں نے پولیسیا خاکی کے ڈنڈے کے زور پر ہندوستان میں200سال تک حکومت کی۔ آزادی کے بعد خاکی نے کھادی کے ساتھ ہاتھ ملا لیا جو اب جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے لئے سب سے بڑا ناسور بن گیا ہے۔ ٹی وی میڈیا اور سیاسی مخالفین کے لئے گرفتاری ایک کھیل ہے، لیکن بے گناہ عام لوگوں کے لئے گرفتاری زندگی بھر کا ناسورہے۔ اس مسائل کے کئی پہلوئوں پر لاء کمیشن اور سپریم کورٹ نے لاکھوںصفحات رنگ دئے، لیکن ابھی تک کوئی سدھار نہیں ہوا۔ پولیس کا ماننا ہے کہ سنگین جرم کے الزام یا شکایتو ںپر ایف آئی آر اور اس کے بعد گرفتار کرنا پوری طرح سے قانون کے موافق ہے۔ لیکن سیاست دانوں کے اشاروں پر کارروائی یا خاموشی اختیار کے بڑھتے رجحانات کے بعد قانون کی دہائی کی دلیل بے حد بونی اور گھنائونی نظر آتی ہے۔ سی آر پی سی کے تحت پولیس کے سامنے دئے گئے بیان کی قانونی اہمیت نہیں ہے۔ ثبوت اکٹھا کرنے کی بجائے حراست میں لے کر جانچ کرنے پر پولیس کے رویے کو ججوں کی روبوٹیا منظوری ملنے سے یہ مسئلہ سنگین ہوگیا ہے۔ 2014میں ارنیش کمار معاملے میں سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے کے مطابق ملز م اگر نیا جرم کرنے کے فراق میں ہو، ثبوتوں کو ختم کرسکتا ہو یا گرفتاری کے بغیر اسے عدالت کے سامنے پیش کرنا مشکل ہو، ان ہی معاملوں میں گرفتاری پر زور دیا جانا چاہیے۔
سپریم کورٹ نے2020کے حالیہ فیصلے سے پھر واضح کیا ہے کہ جیل بھیجنے کے معاملوں میں مجسٹریٹ اور ججوں کو تفصیلی اور قانون کے موافق حکم پاس کرنا چاہیے۔ لیکن ایسے فیصلے لائبریری کی کتابوں میں ہی قید رہتے ہیں۔ اس لئے اب 2016میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق غلط گرفتاری کے لئے ذمہ دار ہر پولیس افسر سے ہرجانہ وصولنے کا رواج شروع کرنا چاہیے۔ پولیس اگر بے وجہ گرفتار کربھی لے تو سپریم کورٹ کے 1978کے فیصلے کے مطابق ملزم کو جیل کی بجائے ضمانت ملنی چاہیے۔ آئین کے تحت سپریم کورٹ کا فیصلہ ملک کا قانون مانا جاتا ہے۔ اس لئے غلط گرفتاری کے ہر معاملے میں ذمہ دار پولیس افسر کے خلاف سپریم کورٹ کو توہین عدالت معاملہ شروع کرنے کی پیش رفت کرنی چاہیے۔ بے وجہ اور غلط گرفتاری زندگی کی آزادی کے آئینی حق پر سب سے بڑا اور منظم حملہ ہے۔ غلط گرفتاری روکنے کے لئے قانون کے چکے کو پورے ملک میں صحیح راستے پر لانے کی ضرورت ہے۔ اس سے عام لوگوں کو پولیس کے استحصال سے اور عدالتوں کو مقدمے کے بوجھ سے بڑی راحت مل سکتی ہے۔
سپریم کورٹ کے وکیل اور ’ان ماسکنگ وی آئی پی‘ کتاب کے مصنف ہیں
(بشکریہ: دینک بھاسکر)

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here