شوپیاں میں ایک اور کشمیری پنڈت کا قتل،5 سرکاری ملازمین برطرف

0

سرینگر (ایس این بی)جنوبی کشمیر کے شوپیاں ضلع میں آج ایک نا معلوم بندوق بردار نے ٹارگیٹ کِلنگ کے تازہ واقعہ میں ایک اور کشمیری پنڈت کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔ پورن کرشن بٹ ولد تارک ناتھ کو ا±سوقت گولی مار دی گئی کہ جب وہ ضلع کے چودھری گنڈ نامی گاو¿ں میں اپنے مکان کے صحن میں دھوپ سینک رہے تھے۔ذرائع کے مطابق نا معلوم بندوق بردارنے بٹ پر نزدیک سے گولی چلائی اور فرار ہوگیا۔انہیں فوری طور شدید زخمی حالت میں ایک نزدیکی اسپتال تک پہنچایا گیا تھا تاہم وہ جانبر نہیں ہوسکے۔ضلع اسپتال شوپیاں میں ذرائع نے بتایا کہ بٹ کا کافی خون ضائع ہوچکا تھا اور ا±نہیں بچایا نہیں جا سکا۔جنوبی کشمیر کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولس (ڈی آئی جی)سجیت کمار نے اس حوالے سے کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے اندازہ ہوتا ہے کہ حملہ آور اکیلا آیا تھا۔ا±نہوں نے کہا کہ اس افسوسناک واقعہ کی تحقیقات جاری ہے اور حملہ آور کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔ا±نہوں نے کہا کہ پولس اس واقعہ کی اس حوالے سے بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ کہیں سکیورٹی میں کوئی چ±وک تو نہیں ہوئی ہے اور اگر ایسا ثابت ہوتا ہے تو ملوثین کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ اس حملے کی ذمہ داری کشمیر فریڈم فائٹرس نے لی ہے جو دراصل کسی دوسری جنگجو تنظیم کا پراکسی نام ہے۔وادی کشمیر میں کئی مہینوں سے ٹارگیٹ کلنگ کا سلسلہ جاری ہے جس کے دوران ابھی تک کئی مسلمانوں اور مقامی و غیر مقامی ہندوو¿ں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔حالانکہ اس سلسلہ کو توڑنے کیلئے سیکورٹی ایجنسیوں کی جانب سے کئی طرح کے اقدامات کئے جاچکے ہیں اور کئی واقعات کے ذمہ داروں کو گرفتار یا ختم کرنے کے دعویٰ بھی کئے گئے ہیں تاہم آج کے واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس طرح کے حملوں کے امکانات کو پوری طرح سے ختم نہیں کیا جاسکا ہے۔دریں اثنا جموں و کشمیر انتظامیہ نے آج 5 سرکاری ملازمین کو دہشت گردوں سے تعلق کے الزام میں ملازمت سے برخاست کر دیا ہے۔ جن 5 افراد کے خلاف یہ کارروائی کی گئی ان میں تنویر سلیم ڈار، آفاق احمد وانی، افتخار ادرابی، ارشاد احمد خان، عبدالمومن پیر شامل ہیں۔ یہ لوگ دہشت گردی کے سنڈیکیٹ چلانے اور کالعدم تنظیموں کو دہشت گردانہ حملوں میں مدد دینے کے مقدمات میں ملوث تھے۔تنویر جموں و کشمیر پولیس میں بطور کانسٹیبل خدمات انجام دے رہا تھا۔ آفاق احمد وانی بارہمولہ سنٹرل کوآپریٹوبینک میں منیجر تھا اور افتخار ادرابی بی ڈی او آفس میں پلانٹیشن سپروائزر کے طور پر کام کر رہا تھا اور بعد میں گاو¿ں کی سطح کا کارکن بن گیا تھا۔ جبکہ ارشاد احمد خان محکمہ جل شکتی میں خدمات انجام دے رہا تھا اور عبدالمومن پیر پی ایچ ای سب ڈویڑن میں اسسٹنٹ لائن مین کے طور پر خدمات انجام دے رہا تھا۔ دہشت گرد وادی میں کشمیری پنڈتوں، مہاجروں کو نشانہ بنا کر یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔