اکھنڈ بھارت: اک خون کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے

0
اکھنڈ بھارت: اک خون کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے

اے- رحمان

چند روز قبل آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے ہری دوار میں ایک اجتماع کو خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اگلے پندرہ سال میں ’اکھنڈ بھارت‘ کا خواب حقیقت میں بدل جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ویسے تو نجومیوں کی پیشن گوئی ہے کہ پچیس برس میں بھارت اکھنڈ ہو جائے گا لیکن ہم کوشش کریں گے کہ یہ کام پندرہ سال میں پایہ تکمیل تک پہنچ جائے اور جو کوئی بھی اس میں کسی قسم کی اڑچن ڈالے گا فنا کر دیا جائے گا۔ لفظ اکھنڈ کے لغوی معنی ہیں ’غیر منقسم‘ یا متحد، لہٰذا گزشتہ جمعے کو رتن گڑھ (ڈونگر پور، راجستھان ) میں کانگریس کی ’’ آزادی گورو یاترا‘‘ کے یاتریوں کی وہاں آمد کے موقع پر تقریر کرتے ہوئے راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے اس بیان کی وضاحت طلب کرتے ہوئے معصومانہ سوال کیا ’’ کیا بھارت متحد نہیں ہے ؟‘‘ ظاہر ہوا کہ وہ آر ایس ایس کے اکھنڈ بھارت کی تعریف سے نا واقف ہیں۔ دراصل یہ اصطلاح متحد بر صغیر کے لیے استعمال کی جاتی ہے، یعنی وہ سیاسی نظریہ یا تصور جس کے تحت بھارت، پاکستان، افغانستان، بنگلہ دیش، نیپال، بھوٹان، تبت، سری لنکا، جزائر مالدیپ اور میانمار (سابق برما) ایک ہی قوم یا سیاسی اکائی ہیں۔ جدو جہد آزادی کے دوران کنہیا لال مانک لال منشی (کے ایم منشی) نے اکھنڈ ہندوستان کا تصور پیش کرتے ہوئے اس کی پر زور وکالت کی تھی اور مہاتما گاندھی نے بھی اس تجویز کو اس بنا پر منظور کیا تھا کہ انگریزوں کی ’’ پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو‘‘ والی حکمت عملی کے سبب ہندو مسلم اتحاد اور یکجہتی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک پورا بر صغیر برطانوی تسلط سے آزاد نہ ہو جائے۔ اس وقت کے جید صحافی مظہر علی خاں ( جو تقسیم کے بعد ’’ پاکستان ٹائمز‘‘ کے ایڈیٹر ہوئے) نے لکھا ہے کہ دونوں خان بھائی (عبدالغفار خاں اور عبدالجبار خاں) بھی اکھنڈ ہندوستان کے قیام کے لیے پر عزم تھے(لیکن اکھنڈ بھارت سے ان کی مراد تھی کہ بر صغیر سے برطانوی تسلط ختم ہو کر ایک متحدہ اکائی کا قیام عمل میں لایا جائے)۔ اکھنڈ ہندوستان کا تصور ونایک دامودر ساورکر نے 1937 میں ہندو مہا سبھا کے انیسویں اجلاس میں پیش کیا تھا جس کے تحت ’’کشمیر سے رامیشورم اور سندھ سے آسام ‘‘ تک غیر منقسم (اکھنڈ) ہندوستان کی بات کہی گئی تھی۔ پھر 7-8 اکتوبر1944 کودلی میں ’’اکھنڈہندوستان لیڈرس کانفرنس‘‘ ہوئی جس کی صدارت رادھا کمد مکھرجی نے کی۔ اس وقت سے ہی اکھنڈ ہندوستان یا اکھنڈ بھارت کا نظریہ ہندوتو (اور ہندو راشٹر) سے وابستہ ہے اور ہندو مہا سبھا، آر ایس ایس، وشو ہندو پریشد،شو سینا، ہندو سینا، ہندو جن جاگرتی سمیتی، اور بھارتیہ جنتا پارٹی جیسی تمام ہندو قوم پرست تنظیموں نے اسے اپنا نصب العین قرار دیا ہوا ہے۔ ساتویں جماعت کے لیے اکھل بھارتیہ گیان پریکشا کے ذریعے مرتب کردہ آر ایس ایس کے نصاب کی کتاب میں شامل جغرافیائی نقشے میں پاکستان اور بنگلہ دیش کو ’’اکھنڈ بھارت کا حصہ بتایا اور دکھایا گیا ہے، اور اسی تنظیم سے شائع ہونے والے ایک کاروباری مجلے کے موجودہ نقشے میں نیپال، بھوٹان اور میانمار( برما) بھی اکھنڈ بھارت میں شامل کر لیے گئے ہیں۔ آر ایس ایس کے ایک اہم رہنما ایچ وی سیشادری نے اپنی کتاب The Tragic Story Of Partition (تقسیم کی المناک کہانی) میں نہایت پرزور طریقے سے اکھنڈ بھارت کے تصور کی اہمیت پر زور دیا۔ یہ الگ بات ہے کہ اس سوال سے وہ پہلو بچا گئے کہ تقسیم پر امن کیوں نہیں ہوئی۔ آر ایس ایس کے ترجمان اخبار The Organiser میں تنظیم کی اہم شخصیات بشمول موہن بھاگوت کے وقتاً فوقتاً شائع ہوتے رہے مضامین اور اداریوں میں یہ کہا جاتا رہا ہے کہ صرف اکھنڈ بھارت اور’ سمپورن سماج‘ (متحد معاشرہ) ہی ملک کو ’اصل‘ آزادی سے ہمکنار کر سکتا ہے۔لیکن وہ اصل آزادی کیا ہے اور انگریزوں کے تسلط سے آزاد ہو کر اپنا جمہوری ملک قائم کر لینے کے باوجود ہم آزاد کیوں نہیں کہے جا سکتے اس معمے کا حل بتانا تو دور اس کا ذکر تک نہیں کیا گیا۔دسمبر 2015 میں وزیر اعظم مودی کے اچانک بن بلائے لاہور پہنچ جانے (جس کی وجوہات سے ہندوستانی عوام کو آج تک لا علم رکھا گیا ہے) اور وہاں سے واپسی کے بعد ’الجزیرہ چینل‘ کے مہدی حسن کو انٹرویو دیتے ہوئے آر ایس ایس کے قومی سکریٹری اور ترجمان رام مادھو نے کہا تھا ’’ آر ایس ایس کو پورا یقین ہے کہ ایک دن انڈیا، پاکستان اور بنگلہ دیش جو بعض تاریخی وجوہات کے سبب ساٹھ سال پیشتر الگ ہو گئے تھے ایک مرتبہ پھر عوام کی رضامندی اور خیر سگالی سے ساتھ آ جائیں گے اور اکھنڈ بھارت کی تعمیر کی جائے گی ‘‘ تاریخی وجوہات ؟ کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی ! مارچ 2019 میں آر ایس ایس مسلم راشٹر منچ کے سربراہ اندریش کمار نے کہا کہ2025 تک پاکستان کا ہندوستان سے الحاق ہو جائے گا، ہندوستانی باشندے لاہور اور تبت کی مانسروور جھیل کا سفر کریں گے اور وہاں مستقل قیام پذیر ہوں گے (گویا تبت بھی بھارت کا حصہ ہوگا)، ڈھاکہ میں ہندوستانی سربراہی والی حکومت قائم ہو گی (جو بھی اس کا مطلب ہو) اور یوروپی یونین کی طرزپر اکھنڈ بھارت کا قیام عمل میں آئے گا۔ سابق ڈپٹی پرائم منسٹر لال کرشن اڈوانی نے بھی یوروپین ہی نہیں بلکہ روسی وفاق، ریاستہائے متحدہ امریکہ اور چین کی عوامی جمہوریت کی طرز پر ہندو پاک وفاق کی حمایت کی تھی۔ 17نومبر 2020 کو وشو ہندو پریشد نے جے پور سے ایک اکھنڈ بھارت کلنڈر جاری کر دیا جس میں افغانستان، بنگلہ دیش، میانمار،تبت ،پاکستان اور مکمل جموں کشمیر کو اکھنڈ بھارت میں شامل دکھایا گیا ہے۔
درج بالا واقعات اور پیش رفت میں مضمر تمام تضادات اور تناقضات سے قطع نظر سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ مجوزہ اور متوقع اکھنڈ بھارت کی تعمیر کرنے یا اسے تشکیل دینے کا طریقہ کیا ہو گا۔ شو سینا نے تو بی جے پی کو طعنہ دیتے ہوئے یہاں تک کہا ہے کہ پہلے پاکستان سے مقبوضہ کشمیر تو واپس لے لو بعد میں اکھنڈ بھارت کی بات کرنا۔ صورت حال یہ ہے کہ پاکستان ہی نہیں افغانستان، بنگلہ دیش اور میانمار آزاد اور خود مختار ممالک ہیں۔ کیا ان میں سے کوئی بھی ملک برضا و رغبت اکھنڈ بھارت کا حصہ بننے پر راضی ہو جائے گا یا بصورت دیگر ہندوستان ان ممالک پر فوج کشی کرے گا؟ رضا و رغبت کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اور اگر فوج کشی یعنی جنگ کا راستہ اپنایا گیا تو کیا عالمی برادری ایسا ہونے دے گی؟ اور جنگ ہوئی تو کم از کم پاکستان سے کی گئی جنگ تو دونوں ممالک کے لیے پورے طور سے تباہ کن ثابت ہو گی کیونکہ دونوں کے پاس جوہری ہتھیار ہیں۔ لیکن اس پورے معمے میں ایک اور معمہ پوشیدہ ہے۔ ہندوتو سے وابستہ ہندو راشٹر کے جس نظریے کے لیے اتنی تگ دو کی جا رہی ہے اس ’راشٹر‘ میں ہندوؤں کے علاوہ کسی کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔ مسلمان تو خصوصاً ہندو راشٹر کے نقشے سے باہر ہیں اور یہ نہ صرف کہا جاتا رہا ہے بلکہ گرو گولولکر کے ذریعے بنائے گئے ہندو راشٹر کے منصوبے میں واضح طور سے تحریر ہے کہ ہندو سماج (سمپورن سماج) میں مسلمانوں کو جگہ دینا ممکن ہی نہیں۔لیکن اکھنڈ بھارت میں کئی ایسے ممالک بشمول پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش کی شمولیت فرض کرلی گئی ہے جو خالصتاً مسلم ہیں اور اس حقیقت کے پیش نظر اس اکھنڈ بھارت کا منصوبہ اور ذکر دیوانے کے خواب جیسا ہی ہے۔ مزید برآں وطن عزیز میں مسلمانوں کے خلاف شدید نفرت پھیلا کر جو ماحول پیدا کیا گیا ہے اور جو کچھ ان کے ساتھ ہو رہا ہے اسے دیکھتے ہوئے کون سا مسلم ملک اکھنڈ بھارت کے لیے رضا و رغبت یا خیر سگالی کا اظہار کرے گا۔بلکہ یہی حالات رہے اور ہندوتو کے جذبے اور جنون کے تحت دوسری اقلیتوں کے ساتھ بھی یہی سلوک شروع کر دیا گیا تو ملک کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کے امکانات زیادہ ہیں اور یہ بات کئی غیر مسلم یعنی ہندو دانشور اور صحافی کہہ بھی چکے ہیں۔ ناچیز کا تو یہی خیال ہے کہ اکھنڈ بھارت کی الجھی ہوئی تصویر اور اس کے سلسلے میں پیش کردہ متضاد نظریات و بیانات کو دیکھ کر یہی کہا جا سکتا ہے کہ ہندوتو کی افیم میں اکھنڈ بھارت کا الکحل ملا کر اندھ بھکتوں کے نشے کو دو آتشہ کیا گیا ہے اس کے سوا کچھ نہیں۔
[email protected]