معصوموں کے خون سے پھرلہولہان اسرائیل کا دا من

0

21 لاکھ کی آبادی پر مشتمل غزہ ایک بار پھر صہیونی اسرائیل کی استبدادی پالیسیوںکا شکار ہے۔ گزشتہ 5دن سے چلے آرہے تنازع میں اب تک 44افراد کی موت ہوچکی ہے۔ تادم تحریر اس کارروائی میں 15فلسطینیبچے اسرائیل کے استبداد کا شکار ہوچکے ہیں۔ مرنے والوں میں چار خواتین بھی شامل ہیں۔ زخمیوں کی تعداد 350 سے زائد بتائی جاتی ہے۔ ایک امید بندھی تھی کہ شاید یہ جنگ بند ہوجائے اور دونوںمتحارب فریق کسی سمجھوتہ پر پہنچ جائیں مگر اسرائیل پر سمجھوتہ کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے غزہ میں سب سے بااثر جنگجو گروپ جہاد اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ جب تک اس سمجھوتے کی تمام شرائط کو پورا نہیں کیا جائے گا اورمکمل طورپر عمل آوری نہیں ہوجاتی تب تک حقیقی جنگ بندی نافذالعمل نہیں ہوگی۔ خیال رہے کہ اقوام متحدہ کی سرگرم حمایت اور مصر کی مصالحت سے غزہ پر بم باری کا سلسلہ تھم گیا تھا اور دونوں متحارب گروپ جنگ بندی پر راضی ہوگئے تھے۔ غزہ پر حالیہ کارروائی سے یہ اندیشہ پیدا ہوگیا ہے کہ مغربی ایشیا ایک بار پھر ایک بھیانک تصادم کی طرف جارہا ہے۔ اسرائیل میں ایک نگراں سرکار ہے۔ جس کے وزیراعظم بائیرلیپڈنے اپنے آپ کو سخت گیر ثابت کرنے کی کوشش میں یہ کارروائی کی۔ انہوں نے معمولی وارننگ کے بعد غزہ کے انتہائی گنجان آباد علاقے میں جس سفاکی کے ساتھ بم باری کی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ اسرائیل اس کارروائی کو احتیاط کی کارروائی جسے وہ Pre-empt قرار دیتا ہے۔ مغربی دنیا نے بطور خاص برطانیہ نے اس کارروائی کو اسرائیل کی دفاعی کارروائی قرار دے کر درست قرار دینے کی کوشش کی ہے۔ امریکہ نے اس معاملے میں مصر کی مصالحتی کوششوں کی تعریف کی۔ یوروپ کے ایک اہم ملک یوکرین پر روس پر حملہ کر رکھا ہے۔ جغرافیائی لحاظ سے یوکرین یوروپ کا سب سے بڑا ملک ہے۔ روس کا نظریہ ہے کہ یوکرین ناٹو کو اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دے کر اس کے لئے مسائل پیدا کر رہا تھا۔ یوکرین سوویت یونین کا حصہ تھا اور 1992-93میں جب یوایس ایس آر کے ایک درجن سے زائد ٹکڑے ہوگئے تھے تو ان الگ ہوئے ٹکڑوں میں یوکرین بھی شامل تھا۔ روس کو لگتا ہے کہ ولادیمیرپوتن کی مضبوط قیادت میں یوکرین کو دوبارہ روس کے ساتھ شامل کرلیا جائے گا یا کم از کم وہاں پر ایک ایسی حکومت قائم کردی جائے گی جوکہ روس کے لئے مددگار اورمعاون ہو۔ روس کی جارحیت بلا روک ٹوک جاری ہے اورپوری دنیا اس کی مذمت کر رہی ہے۔ اس دوران مغربی ایشیا میں ایک اورمحاذ کا کھلنا شاید امریکہ اور اس کے حواریوں کے لئے کچھ ایسے سوال کھڑے کرسکتا ہے جن کا جواب دینا اتنا آسان نہ ہو۔ مغربی میڈیا برابر یوکرین پر روس کے حملے کی زوردار طریقے سے مذمت کر رہا ہے۔ یوروپ اور مغرب کے ایک طبقہ کو لگتا ہے کہ یوروپ کے کسی بھی ملک کو اس طریقہ سے برباد نہیں ہونا چاہئے جس طرح مغربی ایشیا اور افریقہ کے ممالک کے لوگ ہوتے ہیں۔ کئی مغربی مبصرین اس طرح کے تبصرے کرتے ہوئے نکتہ چینی کا شکار ہوئے تھے جن میں ان کو لگتا تھا کہ یوروپی لوگ کسی بھی طرح اس قسم کی نفرت آمیز جنگی مہم کا شکار نہیں ہونے چاہئیں۔ الجزیرہ کے ایک صحافی نے ایک مذاکرہ کے درمیان یہاں تک کہہ دیا تھا کہ بھورے بالوں والے اور نیلی آنکھوں والے لوگوں کا اس طرح سے مرنادیکھا نہیں جاتا۔ جارحیت، بربریت کو نسل پرستی کی عینک سے دیکھنا انسانیت کی عین خلاف ورزی ہے۔ خاص طورسے ایسے حالات میں جب اہم عہدوں پر بیٹھے لوگ اس قسم کے تبصرے کرتے ہیں تواس کا ردعمل آنا غیرفطری نہیں ہے۔
غزہ کا علاقہ تقریباً 11میل پرمشتمل ہے۔ اس کو دنیا کی سب سے گنجان آبادی والا علاقہ کہا جاتا ہے۔ اسرائیل نے 15سال پہلے اس علاقے کو چاروں طرف سے ایک اونچی دیوار سے گھیر دیا تھا اور یہاں پر ضروریات زندگی کا سامان لانا لے جانا انتہائی مشکل ہے۔ اشیائے خوردونوش، ادویات، درس وتدریس کا سامان بغیر اسرائیل کی اجازت کے غزہ میں داخل نہیںہوسکتا ہے۔ داخلہ چوکیوں پر سختی کی وجہ سے تعمیراتی سامان لے جانے میں بھی عام فلسطینی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

پچھلی مرتبہ 2021 کی فوجی کارروائی گیارہ دن تک چلی تھی اس کارروائی میں کم از کم 26 فلسطینی افراد جاں بحق ہوئے تھے جبکہ اسرائیل کے بھی 13 لوگوںکی موت ہوگئی تھی۔ اس وقت اس یک طرفہ کارروائی میں جان بوجھ کر بنیادی ڈھانچے، تنصیبات، بجلی ٹرانسمیشن، پانی سپلائی کرنے والے پلانٹ، اسکول، اسپتال اور شفاخانے تباہ کئے گئے تھے۔
اس وقت بھی مصر نے مصالحت کرکے جنگ رکوائی تھی اور اس نے فلسطین کو یقین دہانی کرائی تھی کہ تباہ عمارتوں، گھروں، اسکولوں اوراسپتالوں کی تعمیر نو کے لئے ہر ممکن تعاون دیا جائے گا۔ مگراس کے باوجود یہ تمام ادارے، عمارتیں، اسکول اوراسپتال خراب حالت میں اور ٹوٹے پڑے ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ اسرائیل مصر کے ساتھ تعلقات استوار کرکے غزہ اورمصر کے درمیان سرنگیں بند کرانے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ مگر مصر فلسطین یا عرب موقف کی شرائط پورا کرانے میں اکثر اوقات ناکام رہتا ہے۔ غزہ کی بربادی اس کی بدترین مثال ہے۔

دراصل اسرائیل کے لئے پریشانی والی بات یہ ہے کہ یہ علاقہ حماس کی کنٹرول والا علاقہ ہے۔ 2007 میں انتخابات کے بعد جب سے یہاں حماس کا کنٹرول ہے اب تک 4مرتبہ اسرائیل حملہ کرچکا ہے۔ اس مرتبہ اسرائیل نے اس حملے کا جواز بتایا ہے کہ دہشت گرد تنظیم اسلامک جہاد اس کی سرزمین پر اینٹی ٹینک میزائل سے حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ گزشتہ دو ہفتوں سے اسرائیل مغربی کنارے اور دیگرمقامات پر اسلامک جہاد کے جنگجوئوں کے خلاف کارروائیاں کر رہا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اسلامک جہاد ان کارروائیوں سے اتنا پریشان ہے کہ وہ اسرائیل پر براہ راست حملے کا ارادہ رکھتا ہے۔

فلسطینیوں میں آ زادی کی رمق ختم کرنے اسرائیل بطور خاص نئی نسل کو نشانہ بناتا ہے۔ غزہ میں شہری سہولیات بہت محدود ہیں اور وہاں کے اسپتالوں میں طبی عملہ ، ادویات اور آلات بہت کم ہیں، کسی بھی بحران کی صورت میں فلسطینیوں کو جان بجانے کے لئے کافی جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ اسرائیل نے غزہ میں آمدورفت انتہائی محدود کردی ہے۔ مغربی کنارے میں رہنے والے غزہ میں محصور اپنے رشتہ داروں سے نہیں مل سکتے ہیں۔ فلسطینیوں کی نئی نسل ان سہولیات کے فقدان میں نفسیاتی اور دیگر عارضوں کا شکاررہتی ہے۔ عام فلسطینیوں کو روزگار اور دیگر سہولیات کے لئے علاقے سے نکلنے میں غیرمعمولی پابندیوںکا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسرائیل کی فوج سیکورٹی کا بہانہ بناکر کسی کو بھی باہر جانے سے یا داخل ہونے سے روک دیتی ہے۔ فلسطینیوں کی نئی نسل کو بے بس، غیرصحت مند، غیرتعلیم یافتہ بناکر چھوڑنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ عام شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جارہا ہے جس میں عام شہری، بچے اور عورتیں بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔2021 کے حملہ میں اسرائیل کی کارروائی میں مرنے والے لوگوں میں261 میں سے 67بچے اور 41خواتین تھیں۔ اس سے قبل 2019 میں اسرائیلی جارحیت میں 63معصوم بچے مرے تھے۔

اسرائیل کے کارگزار وزیراعظم یائیرلپیڈ اس پوری کارروائی کو جس میں15بچے اور 4خواتین ہلاک ہوگئی ہیں، ایک انتخابی ایشو بنانے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔ ان کو لگتا ہے کہ نومبر کے عام انتخابات میں اس کا فائدہ ان کی پارٹی کو ہوجائے گا۔ ان کی پارٹی جوکہ سابق وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کے خلاف برسرپیکار ہے اور بنجامن نیتن یاہو شدت پسند یہودیوںمیں زبردست گرفت رکھتے ہیں۔ لیپڈ چاہتے ہیں کہ الیکشن میں اس کارروائی کا ان کوفائدہ پہنچے۔ وہ لگاتار سیاست دانوں اور اعلیٰ فوجی حکام سے ملاقات کرنے، اپنے آپ کو ایک بڑا لیڈر ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ گزشتہ چار سال میں اسرائیل میں پانچویں انتخابات کے لئے مہم تیز ہوچکی ہے اور تمام سیاسی پارٹیاں ایک بار پھر عوام کی عدالت میں جارہی ہیں۔

اسرائیل کی وحشیانہ بم باری میں شہید ہونے والے بچے
1-جمیل نجم الدین نجم(4سال)
2-اعلیٰ عبداللہ ریاض قدوم (5سال)
3-مومن النیراب (5سال)
4-حسین ابوقاعدہ (8سال)
5-احمد النیراب (11سال)
6-جمیل ایہاب نجم (13سال)
7-محمدیاسر نمبر النباہن (13سال)
8-دالیال عاصر نمبر النباہن (13سال)
9-محمد حسونا (14سال)
10۔حامد حیدر نجم (16سال)
11-احمد ولید الفرام (16سال)
12-محمدصالح نجم (17سال)
13-خلیل ابوحمادہ (18سال)
14-ناظم سلیم (9سال)
15-ناظم فیاض ابوقرش (16سال

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS