افغانستان: نصف آبادی کو علم سے بے بہرہ کیوں رکھا جائے

0

مسلم دنیاآسمانوں پر کمند ڈال رہی ہے چاند ستاروں کا سفرکر رہی ہے۔ سیاروں کے درمیان فاصلوں کو ناپ رہی ہے تو دوسری طرف طالبان عورتوںاورلڑکیوں کی تعلیم پر قید وبندکی پابندیاں عاید کر رہے ہیں۔ طویل عرصہ تک اقتدار سے دور غیرملکی مغربی طاقتوں اور خارجی فوجی حملوںکا شکار بننے والے طالبان نہ صرف اہل افغانستان کے مصائب اور آلام کا سبب بنے ہوئے ہیں بلکہ ایک خوشحال اورتعلیم یافتہ ملک کے قیام میں رکاوٹ ثابت ہورہے ہیں۔ پچھلے سال اگست میں مغربی طاقتوں کو ملک بدرکرنے میں کامیاب ہونے کے بعد آج بھی طالبان اس قوم کی خواتین کوتعلیم کے زیور سے محروم کرنے پر بضد ہیں جن کی مذہبی کتاب کا پہلا لفظ اقراء یعنی پڑھو ہے۔ امتحان سے عین قبل حصول علم میں مصروف خواتین کو کابینہ کے ایک حکم اور اچانک لئے گئے فیصلہ سے روک کر یہ ثابت کردیا ہے کہ طالبان ابھی بھی تاریکیوں کے حکمراں ہیں اور جدید باخبردنیا اور نہ ہی اسلامی تعلیمات سے ان کا کوئی لینا دینا ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ طالبان نے اس قدم کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ وہ عورتوں کے وقار اور قومی مفادات کے پیش نظر یہ پابندی عائد کر رہا ہے۔ اگرچہ یہ بات بھی درست ہے کہ افغانستان کے حکمرانوں کو رقوم اور وسائل کی شدید قلت کا سامنا ہے اور شاید طالبان کا خیال ہے کہ وہ اس بحران سے نمٹنے کے لئے اخراجات میں کٹوتی کر رہے ہیں۔ مگر جس انداز سے طالبان نے صرف خواتین کی تعلیم کو نشانہ بنایا وہ اس کے اس اعلان سے قبل کے فیصلوں سے جوڑ کر دیکھا جارہا ہے جس میں عورتوں کو ملازمتوں، پارلروں اور جم میں جانے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ رجعت پسندی پر مبنی اس فیصلہ کے خلاف عالمی برادری کا سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ کئی مسلم ملکوں نے طالبان کے اس قدم کی مذمت کی ہے۔ خیال رہے کہ 20سال تک جنگ وجدال اور بدترین بمباری کا شکار رہنے والا ملک انسانی حقوق کی بدترین صورت حال سے دوچار افغانستان کی معیشت بری طرح منہدم ہوکر رہ گئی ہے۔ 38ملین کی آبادی والا یہ ملک انسانی بنیادی حقوق سے بری طرح متاثر ہے۔ زندگی کے کسی بھی شعبہ میں قابل قدر انتظامی بنیادی ڈھانچہ نہیں ہے۔ غذائی بحران دنیا کے دیگرملکوں سے زیادہ بھیانک اور پانی کی قلت کا مسئلہ دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ شدید ہے۔ سیلاب، زلزلہ اور دیگر قدرتی آفات نے حالات اور ابتر بنا دیے ہیں۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ 223000افغانی قدرتی آفات سے متاثر ہیں۔ سینٹرل ایشیا کا قریب ترین ملک افغانستان سردموسم میں ناقابل بیان مسائل سے گھرا ہوا ہے۔ اس بحران کا سب سے زیادہ اثر بچوں پر پڑ رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے ہی اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ موسم اور آفات کی شدت سے 13ملین بچوں کے متاثرہونے کا اندیشہ ہے۔ پچھلے دنوں مصر کے سیاحتی مرکز شرم الشیخ میں بین الاقوامی کلائمیٹ کانفرنس ہوئی تھی اس میں بے یارومددگارملک کو اس کانفرنس سے باہر رکھا گیا تھا۔ عالمی اداروں بشمول اقوام متحدہ میں طالبان کو شامل نہیں کیا گیا ہے اور اقوام متحدہ کی حالیہ کانفرنس میں اس فیصلہ کی توثیق ہوتی ہے۔ اسی طرح دیگر عالمی اداروں میں بھی طالبان کونمائندگی نہیں دی گئی۔امدادی سامان کی تقسیم سے بھی طالبان حکومت کو دو رکھا ہے۔ اس پوری صورت حال کا مقصد طالبان کو اپنا اثرورسوخ بڑھانے سے روکنا ہے۔ حالانکہ افغانستان کا شمار دنیا کے چھٹے سب سے بڑے موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ہونے والے ملک میں ہوتا ہے۔ مگراس کے باوجود افغانستان کے مسائل پیش کرنے میں اس کوخاطرخواہ موقع نہیں دیا گیا ہے۔ غیرسرکاری طورپر اس بدقسمت ملک کے نمائندے کو شرکت کی اجازت ملی تھی۔
افغانستان کا شکوہ ہے کہ اس کے پاس انسانی ضروریات کو بہم پہنچانے تک کے لئے بنیادی سہولیات نہیں ہیں۔ سرمایہ کا شدید بحران ہے، ملک میں 15؍اگست 2021کے بعد سے اب تک کوئی نظام نہیں بن پایا ہے۔ سرکاری ملازمین کو دینے کے لئے تنخواہیں نہیں ہیں، اسکول نہیں ہیں، کلاس روم نہیں ہیں، بجلی پانی نہیں ہے، ٹیچروںکو دینے کے لئے تنخواہیں نہیں ہیں۔ یہی حال اسپتالوں، یونیورسٹیوں ، دفاتر اور یہاں تک کہ دفاعی اداروں وغیرہ کا ہے۔
15؍اگست 2021: امریکی قیادت والی بین الاقوامی افواج کے اچانک اورغیرعلانیہ انخلاء کے بعد افغانستان میں غیرمعمولی صورت حال پیدا ہوگئی۔ اشرف غنی کی قیادت والی سرکار اور انتظامیہ کے گرنے سے پورے ملک میں افراتفری پھیل گئی۔ اقتصادی نظام، بینکنگ سسٹم بکھر گیا۔ سینٹرل اور قومی بینک کے سربراہ اور دیگر عہدیداران بھی فرار ہوگئے۔ طالبان کے خوف سے پولیس، فوج، دفاتر کے ملازمین، اہلکار اپنی ذمہ داریوں کو چھوڑکر ملک سے بھاگنے کی کوشش کرنے لگے۔ پولیس اور فوجی نظام کی عدم موجودگی کی وجہ سے ایئرپورٹ اور دیگراہم تنصیبات بے یارومددگار چھوڑکر بھاگ گئے۔ ملک کے صدر اشرف غنی جو جمہوری طریقہ سے منتخب ہوئے تھے اور دیگر عہدیداران مال ومتاع کے ساتھ فرار ہوگئے۔
طالبان کے اقتدارمیں آتے ہی عورتوں کی آزادی کو لے کر شکوک وشبہات ظاہر کئے جانے لگے۔ 23؍مارچ 2022 کو لڑکیوں پر تعلیم حاصل کرنے کو لے کر پابندیوں کا اعلان کیا۔ مئی آتے آتے عورتوںکا برقعہ اوڑھنا لازمی قرار دے دیا گیا۔ 13؍اگست کو طالبان نے عورتوں کے اس ہجوم کے خلاف کارروائی کی۔دراصل طالبان نہ صرف یہ کہ ملک کی نصف آبادی کو مجرمانہ طورپر نظرانداز کرنے کے مرتکب ہیں۔ ان اقدامات سے وہ یہ بھی ثابت کر رہے ہیں۔ اخرجات کو کم کرنے کے بہانے کئے گئے اقدام ان کی انتظامی صلاحیتیں نہ ہونے کے نقص کو بھی ثابت کر رہے ہیں۔ ٭٭٭