افغانستان: خواتین کے حقوق کے لیے سنجیدگی سے اقدامات کیے جائیں، طالبان

0
dw

افغانستان میں اقتدار میں واپسی کے بعد سے عسکریت پسند گروہ طالبان شدید دباؤ کا شکار ہے۔ کیونکہ، بین الاقوامی ڈونر ممالک نے ترقیاتی فنڈز کی ادائیگی روک دی اور افغانستان کے اربوں ڈالر کے مالی اثاثوں تک رسائی روک دی گئی۔ مالی امداد کی بحالی کو خواتین کے حقوق کے نفاذ سے مشروط کردیا گیا۔ عورت ایک آزاد انسان ہے
آخر کار طالبان نے خواتین کے بعض حقوق کے احترام کی حمایت کر دی ہے۔ طالبان نے ایک حکم نامے میں ملک کی بعض تنظیموں، مذہبی اسکالرز اور عمائدین کو خواتین کے حقوق کے نفاذ کے لیے سنجیدہ اقدام کرنے کا حکم دیا ہے۔ تاہم نئے اعلامیے میں افغان خواتین کے لیے تعلیم، ملازمت اور روزگار کے حقوق کے بارے میں واضح ذکر نہیں کیا گیا۔اعلامیے کے چند نکات:
عورت جائیداد نہیں بلکہ ایک عظیم اور آزاد شخص ہے۔
کوئی بھی غیر شادی شدہ عورت یا بیوہ کو شادی کے لیے مجبور نہ کرے۔
دشمنی ختم کرنے یا صلح کرنے کے لیے خواتین کا تبادلہ نہ کیا جائے۔
بیوہ خواتین کو وراثت میں حصے اور دوبارہ شادی کا حق دیا جائے۔
اعلامیے میں عدالت سمیت دو وزارتوں، ثقافت اور اطلاعات کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان حقوق کی عوامی سطح پر تشہیر ہو اور ان پر عمل درآمد کیا جائے۔
طالبان نے افغانستان کا دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد خواتین کے حقوق میں نمایاں کمی کی تھی۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کی طرف سے سڑکوں پر کیے جانے والے احتجاج کو پرتشدد طریقے سے کچلنے کی کوشش کی گئی۔ بہت سی خواتین اپنی ملازمت پر واپس نہیں جا سکیں۔ زیادہ تر لڑکیوں کے سیکنڈری اسکول بھی بند کردیے گئے۔
افغانستان میں سن 1996 سے سن 2001 تک اپنے سابقہ ​​دور حکومت کے دوران، طالبان نے خواتین کو کسی مرد رشتہ دار کے بغیر گھر سے باہر جانے سے منع کر رکھا تھا۔ خواتین اور لڑکیوں کے لیے سر اور جسم کو مکمل طور پر ڈھانپنا لازمی تھا۔ اس دوران لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے کا بھی کوئی حق نہیں تھا۔

ع آ /ا ب ا (ڈی پی اے، روئٹرز، اے ایف پی)

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here