نوعمری اور عادات و اطوار کی تبدیلیاں

0

ڈاکٹرعبد الرحیم
بچوں میں عمر کے مراحل کے مطابق ان کی تربیت کے طریقے بھی مختلف ہوا کرتے ہیں۔ تمام ریسرچ اور سرویز کے بموجب سب سے اہم مرحلہ تیرہ سے انیس سال ( Teenage ) یعنی نوعمری کا ہوتا ہے۔ اس نوعمری میں بھی چودہ سے سترہ سال کی عمر سب سے زیادہ حساس ہوا کرتی ہے۔ یہ وہ عمر ہوتی ہے جب بچہ بچپنے سے نکل کر جوانی میں داخل ہورہا ہوتا ہے، اس کے جسم میں طبعی طور پر بہت سی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں، جو اس کی نفسیات اور اس کے عادات و اطوار کو براہ راست متاثر کرتی ہیں۔ کم علمی کی بنا پر اکثر والدین کو لگتا ہے کہ ان کا بچہ بگڑ رہا ہے اور اس میں غیر طبعی عادات و اطوار پیدا ہوگئے ہیں اور نتیجتاً وہ نامناسب انداز میں بچے کو ہینڈل کرنا شروع کردیتے ہیں، جس کے ردعمل میں بچہ اس قدر برباد ہوجاتا ہے کہ تاعمر اس کی اصلاح مشکل ہوجاتی ہے۔ میں خود ایک پندرہ سالہ بچے کا باپ ہوں اور ان طبعی تبدیلیوں کو دیکھ رہا ہوں۔ باپ ہونے کے ساتھ ساتھ چونکہ ایک طبیب بھی ہوں اس لئے ان طبعی تبدیلیوں کا نہ صرف مجھے علم ہے بلکہ کوشش بھی ہوتی ہے کہ اس نازک عمر میں بہت ایجابی طریقے سے بچے کی پرورش کرسکوں۔ چونکہ اکثر اس موضوع پر میں بیگم کے ساتھ بچے سے بھی بات کرتا ہوں، اس لئے آج خیال آیا کہ اس پر کچھ لکھنا بھی چاہئے، شاید کچھ والدین کے لئے کارآمد ثابت ہوجائے۔ نوعمری بالخصوص مذکورہ عمر میں بچے کے جسم میں ہارمون، بالخصوص سیکس ہارمون (Estrogen, Progesterone, Testosterone ) میں تبدیلیاں ہوتی ہیں۔ انکے نتیجے میں جہاں بچے کی جسمانی ساخت میں تبدیلیاں ظاہر ہوتی ہیں وہیں اس کی روز مرہ کی حرکات اور نفسیات میں بھی خاطر خواہ تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ جسمانی تبدیلیوں کا ہم سبھی کو علم ہے، البتہ دیگر کو ہم درج ذیل نکات کی روشنی میں کچھ یوں سمجھ سکتے ہیں۔
1۔ Emotional Change اس دوران ہارمونل تبدیلیوں کے باعث بچے کے ایموشنز پہلے کی بہ نسبت زیادہ اسٹرانگ ہوجاتے ہیں۔ وہ والدین کی بار بار ڈانٹ کو پہلے جیسا نہیں قبول کرپاتا ہے، والدین کی بار بار کی روک ٹوک جسے وہ پہلے بنا دل و دماغ پے لئے اگنور کردیا کرتا تھا‘ اب نہیں کرپاتا بلکہ اسے وہ اپنے لئے خیر کے بجائے برا بھی سمجھنے لگتا ہے۔ اب وہ نہیں پسند کرتا کہ راہ چلتے اسے اسکے بڑے سمجھاتے اور ٹوکتے پھریں کہ بیٹا ایسا مت کرو، یوں کرو، یہاں مت جاؤ، یہ مت پہنو، ایسے مت بات کرو وغیرہ وغیرہ۔ بلکہ اس سے بھی آگے اسے خود شناسی Self Identity کی فکر لاحق ہوجاتی ہے، وہ اپنے فیصلے خود لینا چاہتا ہے، والدین کے بجائے اپنی پسند کے کپڑے پہننا چاہتا ہے، اپنی مرضی کے ہیئر اسٹائل و جوتے چاہتا ہے، اپنی پسند کے دوست بنانا چاہتا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اب وہ والدین اور اپنے بڑوں کی خامیوں پر بھی روک ٹوک کرنا پسند کرتا ہے، اسے تکلیف ہوتی ہے اگر اسکے اپنے اس کے حساب سے نہ رہیں۔ اسے اپنے علاوہ اپنے لوگوں کی بھی فکر ہونے لگتی ہے کہ وہ ایسا کریں اور ایسے رہیں وغیرہ وغیر۔
2۔ Mood Swing / Change انہیں تبدیلیوں کے نتیجہ میں بچے کا موڈ بہت تیزی سے بدلتا رہتا ہے۔ اس کا ردعمل پہلے سے زیادہ تیز اور اسٹرانگ ہوجاتا ہے۔ بات بات پر چِڑچِڑا پن دکھانے لگتا ہے، غصہ نسبتًا زیادہ آتا ہے۔ اس عمر میں موڈ اس تیزی سے بدل سکتا ہے کہ پل بھر میں بچہ اوور کانفیڈینس تو دوسرے ہی پل احساس کمتری کا شکار بھی ہو سکتا ہے۔ نیند کی زیادتی بھی ہوجاتی ہے۔ اگر بچے میں جسمانی کے ساتھ ساتھ ایموشن و موڈ کی تبدیلیاں مذکورہ حد تک ہیں، تو نہ صرف انہیں طبعی مانا جائے بلکہ ان پر بیجا پریشان نہ ہوکر اس وقت بہت ہی مخصوص انداز میں بچے کی تربیت و پرورش کا کام انجام دیا جائے۔ بڑوں اور بالخصوص والدین کو سمجھنا ہوگا کہ اب اس عمر میں بھی وہی طریقہ اپنانے سے کام نہیں بننے والا جو دس بارہ سال کی عمر تک بچے کی تربیت کے لئے اپنایا گیا تھا، بلکہ اسے کافی حد تک بدلنا ہوگا۔ مختصراً ہمیں درج ذیل باتوں کا خیال واہتمام کرنا ہوگا۔
غیر ضروری ردعمل: جب بھی بچہ اس عمر میں کوئی غلطی یا حرکت کرے تو والدین کو چاہئے کہ فوری طور پر طیش میں آکر غیر ضروری ردعمل کا مظاہرہ نہ کریں۔ بلکہ جب بچہ درست موڈ اور ایموشن میں ہو تو بہتر انداز میں اسے اس کی غلطی کا احساس مناسب وقت پر دلایا جائے۔
نصیحت: بچے کو نصیحت کبھی بھی اسکے دوستوں، بھائی بہنوں اور بالخصوص چھوٹوں کے سامنے نہ کریں، بلکہ اکیلے میں اسے اچھے اور مشفقانہ انداز میں بتایا جائے۔ کیونکہ وہ اس عمر میں داخل ہوچکا ہے کہ جہاں اسے اس کی شناخت اور اس کا نفس اسے بہت عزیز ہوچکا ہوتا ہے۔
اسباب: بچوں کی اس عمر میں غلطیوں پر فوری بھڑکنے کے بجائے والدین کو اطمینان اور شائستگی اپنانی چاہئے، ردعمل سے قبل اسباب کا پتہ لگانے کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ اسی کے مطابق تنبیہ کی جائے اور حل نکالا جاسکے۔
وقت: تمام تر مصروفیات کے باوجود بچوں کو کوالٹی ٹائم دینا بیحد لازمی ہے۔ طلبِ معاش کی خاطر اگر والدین میں سے کوئی دور ہو تو بھی ضروری ہے کہ ٹیلی فونک والیکٹرانک ذرائع کا استعمال کرکے بچوں سے جڑا رہے۔ ان سے اچھی باتوں کے ساتھ لطائف و ہیومر بھی شیئر کیا جائے۔ گفتگو تکلف سے پرے بالکل دوستانہ ہو۔ عادت ڈالیں کہ والدین کم بولیں اور بچوں سے زیادہ سنیں۔ ان کو اس قدر فری بنائیں کہ وہ اپنے عزائم، اپنے سپنے اور اپنے دل کی باتیں حتیٰ کہ سرزد ہوچکی غلطیاں بھی آپ سے شیئر کرسکیں۔
حوصلہ افزائی: بچے کو اس عمر میں خود کی تلاش اور خود کو اچھا کہلوانے کی بڑی چاہ ہوتی ہے، اسلئے جب بھی وہ کوئی معمولی سا بھی اچھا کام کرے تو اس پر اسے شاباشی دی جائے اور ہر ممکن طریقے سے اسکی حوصلہ افزائی کی جائے۔
تعامل: بچے کے ساتھ اس عمر میں والدین کا تعامل سب سے زیادہ ضروری ہے۔ کوشش ہو کہ کھانا ساتھ کھائیں، نمازوں میں ساتھ ہوں، اپنے ساتھ رشتے داروں یا دوسرے مقامات پر لے جائیں، دوسروں سے بہتر الفاظ میں تعارف کرائیں۔ عادت ڈالیں کہ بچہ آپ کو دیکھ کر اپنی روٹین سیٹ کرے، مثلاً صبح آپ کو جلدی اٹھتا دیکھے، موبائل کا غیر ضروری استعمال کم سے کم تر ہو، آپ کو بہتر کپڑوں میں دیکھے، آپ کا اپنا تعامل دوسروں کے ساتھ بہتر ہو۔ یہ نہ بھولنا چاہیے کہ ہمارا تعامل اپنے بچے کے ساتھ خواہ کتنا بھی مثبت ہو لیکن اگر دوسروں کے ساتھ مثبت نہیں تو بچے پر کبھی اثر انداز نہ ہوگا۔
اعتماد: بچوں کو باتوں اور اعمال سے یہ احساس دلایا جائے کہ آپ ان پر اعتماد کرتے ہیں۔ مثلاً انہیں کوئی کام سونپ کر کہیں کہ مجھے یقین ہے کہ میرا بیٹا اس کام کو اچھے سے انجام دے گا، گھریلو سامان لانے بھیجا کریں، اسکے چھوٹے بھائی بہنوں کو پڑھانے کی ذمہ داری اسے دیں۔ کبھی آؤٹنگ کا پروگرام ہو تو اس سے کہیں کہ بیٹا آپ طے کرو کہ اس سنڈے کہاں جایا جائے، کون سے ہوٹل میں کھایا جائے ۔ اگر اس کی رائے غیر مناسب بھی ہو تو بڑے ہی پیار محبت سے اسے بدل بتائیں۔ کسی کے ذریعہ بچے کی کسی غلط عادت کی خبر بھی ملے تو اُسے اعتماد میں لےکر اس پر گفتگو کریں۔
سرزنش: اگر اس کی طرف سے کوئی غلطی سرزد ہوجائے تو بجائے اس پر لعن و طعن کے اسے محبت سے سمجھا ئیں کہ آئندہ اعادہ نہ ہو۔ ماضی میں سرزد اسکی غلطی کا تذکرہ آئے دن گفتگو کے دوران قطعی نہ کیا جائے۔
امیدیں: والدین اپنے بچوں سے وابستہ امیدیں ضرور ان کے سامنے رکھیں، لیکن انہیں ان پر تھوپنے کی بالکل کوشش نہ کریں۔ بلکہ دیکھیں کہ بچے کی دلچسپی اور صلاحیت کس سمت میں ہے اور اگر وہ غیر مناسب نہ ہو تو اس میں اس کا حتی الامکان تعاون کریں۔
حدود: بچوں کی نگہداشت بےحد ضروری ہے، البتہ ان کی بیجا نگرانی نقصان کا باعث بنتی ہے۔ ان کے اسکول، روٹین، اخراجات، سوشل سرکل کی ہم خبر رکھیں البتہ ہر معمولی معمولی بات پر استمرار کے ساتھ ان سے پوچھ گچھ کرتے رہنا اور ان کی روزمرہ کی حرکات و سکنات کو دوربین والی آنکھوں سے مونیٹر کرتے رہنا بےحد نقصان دہ ہے۔ اس سے بچے میں چڑ چڑا پن اور فرسٹریشن میں سوائے اضافے کے کچھ حاصل نہ ہوگا۔
دینی ماحول: اس عمر میں بیحد ضروری ہے کہ روز مرہ کے تمام معمولات میں عملی طور پر دینداری کا والدین مظاہرہ کریں اور بچوں میں دینی شعائر سے دلچسپی کی کوشش کی جائے۔ انہیں یہ باور کرایا جائے کہ دین ہی ایسی واحد حد ہے جو انہیں تمام وسائل کی فراہمی کے باوجود برائیوں کی طرف جانے سے روک سکتی ہے۔ بچے گرچہ دنیاوی تعلیم میں ہوں مگر والدین پر لازم ہے کہ روزمرہ کی گفتگو میں دینی شخصیات و تاریخ اور شعائر کا وقتاً فوقتاً تذکرہ ہوتا رہے۔ یہ چند اثباتی طریقے ہیں جن سے ہم نوعمری میں بچوں کی تربیت بہتر انداز میں کرسکتے ہیں۔ ایک بار پھریہ نہ بھولنا چاہیے کہ اسی عمر میں سب سے زیادہ بچے اسکول ڈراپ آؤٹ کرتے ہیں اور نشے و جرائم جیسی بری عادتوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ بہت ساری وجوہات میں سے اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس نازک عمر میں ہم بچوں کو نہ صحیح سے سمجھ پاتے ہیں اور نہ انکی ٹھیک سے تربیت کر پاتے ہیں۔ ہاں، درج بالا طبعی تبدیلوں کے علاوہ بعض بچوں میں شدید قسم کے عوارض اس عمر میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔ مثلا شرارت سے بڑھ کر جرائم کی حد تک پہونچ جانا، نشے وغیرہ کی لت لگ جانا۔ چڑ چڑا پن اور معمولی ردعمل جیسی چیزوں کے بجائے تشدد و وائلینس کے دائرے میں داخل ہوجانا، اور اس جیسے بہت سے دیگر عوارضات۔ ظاہر ہے کہ اس صورت حال میں پیار محبت کے ساتھ ساتھ سختی، کاؤنسلنگ سے بھی آگے کئی دیگر اصلاحی ہتھکنڈوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔