دارالعلوم فیض محمد ی کی مسجد ” النور،، میں علماءکا خطاب

تعلیم نور ہے ،جہاں تک ممکن ہو نور کی کرنیں بکھیرتے رہئے :مولانا لیاقت علی قاسمی

0

کل گزشتہ روز دارالعلوم فیض محمدی ہتھیا گڈھ میں مولانا لیاقت علی قاسمی، مولانا محمد شمشاد قاسمی، مولانا صدر عالم قاسمی، حافظ محمد رفیق پر مشتمل علماء ایک موقر وفد عروس البلاد ممبئی سے پہنچا ، مہمانوں کے اعزاز میں ایک شاندار استقبالیہ پروگرام ادارہ کے سربراہ اعلیٰ مولاناقاری محمد طیب قاسمی کے صدارت میں منعقد ہوا، جس کی نظامت کے فرائض مولانا محمد انتخاب ندوی نے انجام دیئے۔
پروگرام کا افتتاح متعلم ادارہ حافظ عاطف ممتاز کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ بعدہ حافظ محمد عفان سلمہ نے اپنی خوبصورت آواز میں شان نبی میں نعت کے چنداشعار گن گنا کر گلہائے عقیدت ومحبت کا نذرانہ پیش کیا ۔اس کے بعد دارالعلوم فیض محمدی کے مہتمم مولانا محی الدین قاسمی ندوی نے مہمانوں کا اسقبال کرتے ہوئے ، ان کی تشریف آوری پر پر زور انداز میں خیر مقد م کیا،اور مہمانوں کے سامنے دارالعلوم کا اجمالی طور پر تعارف کراتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ جس کی عمر صرف چونتیس سال ہے مگر اپنے تعلیمی معیار ، زمانہ سے ہم آہنگ جامع نصاب، طلبہ کی ذہنی واخلاقی ٹھوس تربیت کی بنیاد پر ، سربراہ اعلیٰ کی نگرانی میں تیزی کے ساتھ شاہراہ ترقی کی طرف گامزن ہے۔
پروگرام کے مہمان خصوصی مولانا محمد شمشاد قاسمی نے اپنے پند ونصائح سے طلبہ کو مستفیض کیا ، آپ نے طلبہ سے گناہوں سے اجتناب اور سنت پرعمل پیر ا ہونے کی تلقین کرتے ہوئے دینی تعلیم کی اہمیت پر بھر پور روشنی ڈالی ، آپ نے اصلاح نفس پر زور دیتے ہوئے کہا ہمیں صحابہ کرام کو مشعل راہ اور آئیڈئل بنانا چاہئے،بلاشبہ انہیں کے نقش قدم پر چل کر ہم ترقی کے منازل طے کرسکتے ہیں۔آپ نے ادارے کے سربراہ اعلیٰ مولانا قاری محمد طیب قاسمی کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ایسے دینی قائد و ملی رہنماءہیں جن کے اند رکشتیاں جلا کے آگے بڑھنے کا حوصلہ ہے ، یہی وجہ ہے کہ آپ کی پوری زندگی، علاقے میں تعلیمی شمع روشن کرنے کی جدوجہد اور فرقہ باطلہ سے نبرد آزمائی اور مزاحمت سے لبریز رہی ہے، آج یہ ادارہ ان کی محنتو ں وقربانیوں کا گواہ ہے۔
جامع مسجد، بھنڈی بازار ممبئی کے امام وخطیب وجمعیة علماءمہاراشٹر کے موقر رکن مولانا لیاقت علی قاسمی نے اپنے تاثر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ: ادارہ کی تعلیمی سرگرمیوں کا چرچہ نہ صرف ممبئی آنے والے احباب سے سنتے رہتے ہیں ، بل کہ نفس نفیس ہم نے ادارہ کو متعدد بار قریب سے دیکھا بھی ہے، اور آج پھر ایک بار یہاں حاضری کی سعادت نصیب ہوئی ، الحمد للہ یہ ادارہ نونہالوں کی تعلیم کیلئے اس دیار کا قابل قدر خدمات انجام دینے والا ایک اہم ادارہ ہے، طلباءکے ذریعہ پیش کئے گئے پروگرام سے مجھے بے حد خوشی ہوئی۔آپ نے طلباء سے اپنے خصوصی خطاب میں کہا کہ : آپ احساس کمتری کا کبھی بھی احساس نہ کریں ، آپ کی تعلیم بہت ہی اعلیٰ وعنداللہ مقبول وارفع ہے ، یہ وہی علم ہے جس کے ذریعہ ایک انسان ، دوسرے انسان کے حقوق کی ادائیگی کے ساتھ اپنے مالک کے حقوق کو ادا کرنے والا بن جاتا ہے، جو تخلیق انسانیت کا بنیادی سبب بھی ہے۔
مولانا صدر عالم قاسمی جو اسی ادارہ کے تعلیم یافتہ ہیں، نے کہا کہ دودہائی کے بعد میرا آنا ہوا، تعمیری وتعلیمی ترقی اور طلباءکے پروگرام کو سن کر بے پناہ خوشی ہوئی ،اور دو ٹوک لفظوں میں کہہ سکتا ہوں کہ ہمیں کئی صوبوں کے مدرسوں میں جانے کا موقع ملا ہے، مگرجتنا خوبصورت تعلیمی ماحول یہاں دیکھنے کو ملا ، و ہ اپنے آپ میں یقینا ایک مثال ہے۔ اس موقع پر ماہ نامہ احیاءاسلام کے نائب مدیر مفتی احسان الحق قاسمی، ڈاکٹر مولانا محمد اشفاق قاسمی ، مولانا ظل الرحمان ندوی، مولانا محمد سعید قاسمی، مولانا شکراللہ قاسمی مولانا وجہ القمر قاسمی، ماسٹر محمد عمر خان، مولانا محمد یحی ندوی، حافظ ذبیح اللہ ، ماسٹر جاوید احمد، ماسٹر فیض احمد ، مولانا محمد صابر نعمانی، وغیرہ موجود تھے۔