علمی اور ملی دنیا سوگوار،شیرپنجاب کا سانحہ ارتحال

0

لدھیانہ،(ایجنسی) شاہی امام پنجاب مولانا حبیب الرحمٰن ثانی لدھیانوی کا گزشتہ شب لدھیانہ میں انتقال ہو گیا۔ ان کے انتقال کی خبر سے ان کے دنیا بھر میں چاہنے والوں کو شدید جھٹکا لگا ہے۔ حضرت مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی کے فرزند ارجمند مولانا حبیب الرحمن ثانی نے پنجاب میں بہت کام کیا ہے سیکڑوں مسجدیں جن میں پاکستان سے آئے پناہ گزیں قابض ہوگئے تھے ان سے بغیر لڑے جھگڑے وہ مسجدیں خالی کرالیں۔ اس کے علاوہ جو مسلمان پنجاب کے دیہاتوں میں چھپ گئے تھے انہیں بھی رفتہ رفتہ واپس بلا لیا اور اب مالیر کوٹلہ میں تو ہزاروں گھر مسلمانوں کے ہیں اور ان کے علاوہ بھی دوسرے شہروں میں قصائی، بڑھئی، تیلی جیسے پیشے کے کافی مسلمان آگئے ہیں اور ان کے ساتھ کوئی تعصب نہیں ہے۔
مولانا حبیب الرحمٰن ثانی لدھیانوی ہندوستانی سطح پر حکومت کے ہر غلط فیصلے کے خلاف آواز اٹھانے میں پیش پیش رہتے تھے، آپ نے ہمیشہ مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف احتجاج کیا، میڈیا پر مکمل بے باکی سے بیان دینا اور مسلمانوں کے حوصلوں کو بڑھانا ان ہی کی شان تھی۔
ان کی خصوصیات میں سے ایک یہ تھی کہ آپ ہمیشہ اپنے ساتھ تلوار رکھا کرتے تھے، بیان کرنے بیٹھتے تب بھی تلوار ہاتھوں میں ہوا کرتی تھی۔ کانگریس کے اقلیتی شعبہ کے چیئرمین عمران پرتاپ گڑھی نے مولانا حیب الرحمٰن لدھیانوی کی وفات پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ ایک معروف عالم دین تھے، آپ کا جانا ملت کے لئے ایک بکڑا نقصان ہے۔
واضح رہے کہ حضرت مولانا حبیب الرحمٰن صاحب ثانی لدھیانوی رئیس الاحرار مولانا حبیب الرحمٰن کے پوتے تھے، اسی لیے وہ اپنے نام کے ساتھ ثانی لکھا کرتے تھے۔ ان کے دادا رئیس الاحرار مولانا حبیب الرحمٰن صاحب یک باصلاحیت تحریک ساز عالم دین تھے۔ وہ لدھیانہ میں پیدا ہوئے تھے۔ احرار کے سرگرم رکن تھے۔ ان کے والد حضرت مولانا زکریا ایک ممتاز عالم دین تھے۔ مولانا حبیب الرحمن نے تحریک خلافت اور بعد میں تحریک احرار میں بڑے انہماک اور تن دہی سے حصہ لیا اور متعدد بار جیل گئے۔ بہت اچھے خطیب اور آزاد خیال رہنما تھے۔ ان کے انتقال سے ایک خلا محسوس کیا جارہا ہے ۔

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here