طویل ہوتی انصاف کی لڑائی

0

انصاف کی امید لیے ایوان عدل کی زنجیر کھٹکھٹانے والی بلقیس بانو کو کیا پھر مایوسی ہی ہاتھ لگے گی؟کیا انصاف کی لڑائی اور طویل ہوگی؟ کیا عدلیہ پر دبائو ہے یا جج خوف زدہ ہیں؟
یہ سوال آج ہر انصاف پسند کی زبان پر ہے کیوں کہ سپریم کورٹ کی جج جسٹس بیلا ایم ترویدی نے بلقیس بانو کی عرضی سماعت سے خود کو الگ کرلیا ہے۔ خاتون جج نے اس علیحدگی کی کوئی وجہ نہیں بتائی ہے۔ہوسکتا ہے کہ اس معاملے کی سماعت اب کوئی دوسری بنچ کرے لیکن اجتماعی عصمت دری کے11مجرموں کو بری کردیے جانے کے خلاف بلقیس بانو کی عرضی کی سماعت سے جج کی علیحدگی نے پورے ملک کوششدر ضرورکردیا ہے۔
اجتماعی آبروریزی اور قتل جیسے سنگین جرائم کا وحشیانہ ارتکاب کرنے والے مجرموں کی اسی سال اگست کے مہینہ میں اچانک رہائی کے بعد سے پورا ملک چیخ اٹھاتھا۔ متاثرہ بلقیس بانو کے زخم ہرے ہوگئے تھے۔انہوں نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کرکے ان کی رہائی کو چیلنج کیا اور طالب انصاف ہوئیں۔بلقیس بانو نے اپنی عرضی میں کہا ہے کہ وہ مجرموں کی اچانک رہائی سے مایوس اور پریشان ہیں۔ مجرموں نے انہیںانتہائی درجے کے مظالم اور سفاکی کا نشانہ بنایا تھا۔ سماعت کیلئے یہ معاملہ جسٹس اجے رستوگی اور جسٹس بیلا ترویدی کی بنچ کے روبرو تھا۔
بلقیس بانو نے یہ عرضی ایڈووکیٹ شوبھا گپتا کے توسط سے دائر کی ہے۔ جس میں کہاگیا ہے کہ تمام مجرموں کی قبل از وقت رہائی نہ صرف درخواست گزار، اس کی بیٹیوں، اس کے خاندان بلکہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر سماج کیلئے صدمے کی طرح ہے۔ مجرموں کی رہائی پر تمام طبقات کے لوگوں نے غم و غصے کا اظہار کیا اور مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ عرضی میں رہائی کے آرڈر کو میکانیکل قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مجرموں کی قبل از وقت رہائی نے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ایڈووکیٹ شوبھا گپتا نے 30نومبرکو اس معاملہ کی سماعت کے دوران اس معاملے کی کھلی عدالت میں سماعت پر بھی زور دیا تھا۔ لیکن دوسری سماعت سے قبل ہی جسٹس بیلا ایم ترویدی نے خود کو اس سماعت سے ہی الگ کرلیا۔اس کی وجہ کیا ہے یہ تو قابل احترام جج خود ہی بتاسکتی ہیں لیکن بین السطور نظر رکھنے والے تشویش کا شکار ضرور ہیں۔
ان دنوں ملک کے جوحالات ہیں،اس میں فریادیوں کو انصاف ملنے کا امکان کتنا روشن ہے یہ کسی سے چھپا ہوا نہیں ہے۔ جہاں تک گجرات فساد اور بلقیس بانو کے معاملہ کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں حکومت کا رویہ شروع سے ہی قابل اعتراض رہا ہے۔ویسے بھی ہندوستان میں خواتین کے خلاف جنسی تشدد کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے اورمعاشرہ اسے ایک معمول کی طرح لے رہاہے۔حال ہی میں نیشنل فیملی ہیلتھ سروے-5کے اعداد و شمار آئے تھے جن میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں 95 فیصد سے زیادہ شادی شدہ خواتین جنسی تشدد کاشکار ہوئی ہیں اوراس کے مجرم ان کے اپنے شوہریا سابق شوہر ہیں۔حکومتی اعداد و شمارمیںمردوں کی بے حسی بھی کھل کر سامنے آچکی ہے۔ 5ماہ کی حاملہ بلقیس بانوکو بھی صرف اس لیے مردوں کے مسلح ہجوم نے جنسی تشددکا نشانہ بنایا کہ اس کا تعلق ایک مخصوص مذہب سے تھا۔ مجرموں نے اس تین سالہ بیٹی کو بھی زمین پر گرا کر قتل کر ڈالا۔ انسانیت کے خلاف اس بدترین اور نفرت انگیز جرم کا ارتکاب کرنے والے 11افراد کو عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی۔ لیکن 15 اگست 2022 کو یوم آزادی کے موقع پر حکومت نے ان مجرموں کو ’ قانون کے دائرے میں‘ رہ کر اور ’ قانون کے مطابق ‘ رہا کردیا۔
پوری دنیا اس رہائی کو انسانیت کے خلاف ’ جرم ‘ قرار دے رہی ہے لیکن گجرات حکومت اور مرکزی حکومت کو اس میں خلاف قانون کوئی بات نظر نہیں آتی ہے۔مجرموں کی رہائی کے فیصلہ کو طرح طرح سے جواز دینے کی کوشش اب بھی جاری ہے حتیٰ کہ معاملہ کو چھوٹا اورمعمولی قرار دیتے ہوئے مجرموں کے چال چلن اور بہتر کردار کا حوالہ بھی دیاجارہاہے۔بلقیس کے مجرموں کی رہائی پر عوامی اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے ’ بیٹی بچائو- بیٹی پڑھائو ‘ والی پارٹی بی جے پی کی ایم پی اندو گوسوامی کا کہنا ہے کہ یہ چھوٹی سی بات ہے، اس پر ہنگامہ آرائی مناسب نہیں۔مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ نے تواس سے بھی دو قدم آگے پورے گجرات فساد2002کو ہی ’ امن‘ قائم کرنے کا ذریعہ تک بتاڈالاہے۔
جس حکومت اور پارٹی کے لیڈروں اور رہنمائوں کی نظر میں خواتین کی عصمت دری چھوٹی سی بات اور فساد میںہزاروں افراد کا قتل امن کا سبب ہو، وہاں اگر کوئی جج خود کو کسی مقدمہ سے الگ کرلے تو اس میں کسی کو حیرانی نہیں ہونی چاہیے۔جج کی علیحدگی سے ممکن ہے انصاف کا عمل متاثر نہ ہو لیکن اس سے انصاف کی منزل دور ضرور ہوگئی ہے۔
[email protected]