سعودی – ترکی رشتے میں نیا موڑ

0

صبیح احمد

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے حالیہ دورے کے دوران ترکی اور سعودی عرب نے سعودی کالم نگار جمال خاشقجی کے بہیمانہ قتل کے بعد پیدا ہونے والی برسوں کی دشمنی کو سرد بستے میں ڈال کر ’تعاون کا نیا دور‘ شروع کرنے کے عزم کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ خاشقجی کی ہلاکت کے بعد شہزادہ محمدبن سلمان کا ترکی کا یہ پہلا دورہ تھا اور ترک صدر رجب طیب اردگان کے ساتھ انہوں نے تقریباً 2 گھنٹے تک بالمشافہ ملاقات کی۔ خاص بات یہ ہے کہ دونوں رہنمائوں کی اس میٹنگ کے دوران وہاں تیسرا کوئی موجود نہیں تھا۔ میٹنگ کے بعد جاری مشترکہ بیان میں دونوں ملکوں کے درمیان ’سیاسی، اقتصادی، تزویراتی اور ثقافتی شعبوں سمیت باہمی تعاون کو مزید بڑھانے پر زور‘ دیا گیا ہے۔ اقتصادی شعبے پر خاص توجہ دی گئی ہے۔ ملاقات کے دوران تجارت اور سرمایہ کاری کے امکانات کی تلاش کے ساتھ ساتھ مختلف شعبوں میں پارٹنرشپ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
محمد بن سلمان کا یہ دورہ کئی زاویوں سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ سعودی کالم نگار جمال خاشقجی کے قتل کے بعد سعودی ولی عہد کی شبیہ پر لگنے والے داغ اور دونوں ملکوں کے رشتوں میں آنے والی تلخی کے ساتھ ساتھ ترک معیشت کی موجودہ خستہ حالی اور ترکی میں اگلے ایک سال میں ہونے والے صدارتی الیکشن جیسے کئی معاملوں کے تار اس دورے سے جڑے ہوئے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ 2018 کے بعد سے بھلے ہی دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات خراب چل رہے ہیں لیکن مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب اور ترکی کے درمیان دشمنی سلطنت عثمانیہ کے دور سے ہی موجود ہے۔ ترکی اور سعودی عرب دونوں سنی مسلم اکثریتی ملک ہیں لیکن مسلم دنیا کی قیادت کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان صدیوں سے مقابلہ رہاہے۔ رقابت کا حالیہ دور اس وقت شروع ہوا تھا جب صدر اردگان نے خاشقجی کے قتل کے لیے براہ راست سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی طرف انگلی اٹھائی تھی۔ اس کے بعد مسلم دنیا کے 2 انتہائی بااثر ممالک کے درمیان تعلقات تیزی سے خراب ہونے لگے۔ ایک سال کے اندر دونوں کے درمیان تعلقات اس قدر بگڑے کہ سعودی عرب نے سرکاری طور پر ترکی سے اشیا کی درآمد پر پابندی لگا دی۔ دوسری جانب صدر اردگان سعودی شاہی خاندان کو تنقید کا نشانہ بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ دونوں ممالک کے سرکاری میڈیا کے ذریعہ دونوں حکومتوں کے درمیان طویل عرصہ تک ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کا سلسلہ جاری رہا لیکن رواں سال اپریل میں ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کے سعودی عرب کے اچانک دورے اور جدہ میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے مصافحہ کے بعد ان کے تعلقات میں تبدیلی کے آثار نظر آنے لگے۔ تجارت اور طیاروں کی نقل و حرکت سے پابندیاں ہٹا دی گئیں۔ سعودی عرب میں ترک ٹیلی ویژن سیریلز کی نشریات شروع ہو گئیں اور دونوں ممالک کے میڈیا میں ایک دوسرے کے خلاف مہم بھی بند ہوگئی۔ اس کے بعد اردگان کی خصوصی دعوت پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دورہ ترکی سے یہ بات واضح ہے کہ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات پر پڑی برف پگھل رہی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ صدر اردگان گزشتہ چند ماہ کے دوران سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات میں آنے والی تلخی کو دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جنگ کے لیے ہمیشہ تیار رہنے والی شناخت والے صدر اردگان آخر گھٹنے کیوں ٹیک رہے ہیں؟ اس کی پہلی اور واحد وجہ ترکی کا معاشی بحران ہے۔ ترک کرنسی لیرا منھ کے بل گر گئی ہے۔ مہنگائی کی شرح بھی 70 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔ انتخابات میں صرف ایک سال باقی رہ گیا ہے۔ اردگان الیکشن سے قبل مشرق وسطیٰ بالخصوص سعودی عرب سے کچھ سرمایہ کاری کے ذریعہ اقتصادی بحران کو کسی حد تک قابو کرنے کی کوشش میں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اردگان اپنی ’فطری طور پر جارحانہ‘ خارجہ پالیسی سے کسی حد تک پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ اپنی لاحاصل جارحانہ خارجہ پالیسی کی وجہ سے انہوں نے امیر عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کشیدہ کردیے تھے، خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں۔ اس سے ترکی کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اردگان مصر کے صدر السیسی سے بھی بہت ناراض تھے۔ مصر کے موجودہ صدر 2013 میں محمد مرسی اور اخوان المسلمون کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر براجمان ہوئے تھے۔ اس بغاوت کو سعودی عرب کی حمایت کی وجہ سے بھی اردگان سعودی شاہی خاندان سے ناراض تھے۔ یہی وجہ ہے کہ2017 میں جب سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت مشرق وسطیٰ کے 4 ممالک نے قطر پر پابندیاں عائد کیں تو ترکی قطر کی حمایت میں کود پڑا۔ اس کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ کے بااثر ممالک جیسے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور مصر کے ساتھ ترکی کے سفارتی اور اقتصادی تعلقات میں تلخی بڑھتی چلی گئی۔ اس کے بعد 2018 میں جمال خاشقجی کے قتل کے بعد اردگان نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ تعلقات میں دراڑ آنے سے پہلے سعودی عرب کے لوگ ترکی میں فکسڈ اثاثوں کے سب سے بڑے خریدار تھے۔ سعودی عرب میں 100 سے زائد ترک کمپنیاں کاروبار کر رہی تھیں اور تقریباً ایک لاکھ ترک شہری وہاں کام کرتے ہیں۔ یہ بھی کہا جا نے لگا تھا کہ اردگان کی وجہ سے ترکی کے دوستوں کی تعداد کم ہو رہی ہے اور دشمنوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ بحیرہ روم میں ایندھن کی ملکیت پر ترکی کے ساتھ تنازع میں مصر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات قبرص اور یونان کی حمایت میں آ گئے۔
اردگان کو شاید اب یہ احساس ہونے لگا ہے کہ وہ خطہ کے ممالک پر اپنی پسند مسلط کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ اس پس منظر میں اب اردگان نے مخالف سمت میں چلنا شروع کر دیا ہے۔ ترکی نے حال ہی میں جمال خاشقجی قتل کیس میں سماعت بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ توکیا اردگان نے اپنی جارحانہ خارجہ پالیسی ترک کر دی ہے؟ شاید فی الحال وہ اپنی ترجیحات تبدیل کر رہے ہیں۔ در حقیقت اردگان الیکشن سے پہلے ترک شہریوں کو دکھانا چاہتے ہیں کہ وہ داخلی مسائل کو اہمیت دے رہے ہیں۔ تو کیا موجودہ اقتصادی بحران کے ختم ہونے اور انتخابات مکمل ہونے کے بعد اردگان اپنی پرانی شکل میں واپس آ جائیں گے؟ اگر یہ بات ہے تو سعودی عرب یا متحدہ عرب امارات اردگان کو اہمیت کیوں دے رہے ہیں؟ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان صحافی خاشقجی کے قتل سے اپنی شبیہ پر لگنے والے داغ دھونے کے لیے بے چین ہیں۔ یہ بات معمولی ہی سہی لیکن صدر اردگان نے انہیں ایک موقع دیا ہے اور یہ کہ سعودی عرب موجودہ معاشی بحران میں ترکی کے ساتھ بہت سستی قیمت پر دوستی بڑھانے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتا۔ سعودی عرب بھی اس میں اپنا مفاد دیکھ رہا ہے۔ وہ ترکی کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنا کر اپنی علاقائی طاقت کی شبیہ بحال کرنا چاہتا ہے۔ وہ اس کے ذریعہ اپنی سرمایہ کاری بڑھانا چاہتا ہے۔
[email protected]