سر سید شنا سی کا ایک نیا باب، شافع قدوائی کی انگریزی کتاب

0

صفدر امام قادری
صدر شعبۂ اردو، کالج آف کامرس، آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ

سر سید کی پیدا ئش کو اب دو سو برس ہو نے کو آئے، دنیا کی متعدد زبانوں میں بلا شبہ ہزاروں کتا بیں ان کی خدمات پر لکھی گئیں ۔ان کی تحریر وں پر نر م گرم بحث بھی لگا تار ہو تی رہی لیکن ولی نے جو کہا تھا ’ راہِ مضمونِ تا زہ بندنہیں‘ ،اس کے مصداق اب بھی روزانہ سر سید کی حیات و خدمات کے نئے نئے پہلو اجا گر ہو تے رہتے ہیں اور لکھنے والوں کی توجہ اس طرف سے ہر گز کم نہیں ہو ئی ۔پچھلے بر سوں میں افتخار عالم خاں کی کتاب ’سر سید درون ِخانہ‘ سامنے آئی تو محسوس ہوا کہ حیات ِسر سید کے ابھی کئی کام باقی تھے جو اُن کی وفات کے سیکڑوں برس گزر جانے کے بعد انجام دیے جانے تھے ۔اسی طرح ابھی پچھلے دنوں اردو کے معروف نقاد شافع قدوائی کی کتاب”CEMENTING ETHICS WITH MODERNISM : An Appraisal of Sir Sayyid Ahmad Khan’s Writing” (Gyan, 2010, P-320)سامنے آئی تو یقین آگیا کہ سر سید شناسی کے ابھی بہت سارے نئے ابواب کھلنے باقی ہیں ۔شافع قدوائی اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں لکھتے ہیں ۔اردو میں انھیں مابعد ِجدید نقّاد اور ہم عصر فکشن کی سوجھ بوجھ رکھنے والے ادیب کے طور پر پہچانا جاتا ہے ۔سر سید کے تعلق سے ان کے کچھ زیا دہ مضامین کبھی اردو رسائل کی زینت نہیں بنے ۔رسا لہ’ آج کل ‘میں منشی سراج الدین کے تعلق سے ایک مضمون کے علاوہ سر سید شنا سی میں ان کی کو ئی دوسری قابل ذکر اردو تحریر بالعموم دکھائی نہیںدیتی ۔یہ عجیب اتفاق ہے کہ سر سید کی خدمات کے حوالے سے ان کی مستقل تحقیقی و تنقیدی کتاب بھی اردو کے بجاے انگر یزی زبا ن میں منظر عام پر آئی ۔ پتا نہیں، اسے کب اردو کا قالب نصیب ہو گا ؟اس لیے یہ ضروری معلوم ہو تا ہے کہ اردو کے علمی حلقے کو اس کتاب کی اہمیت سے واقف کرا یا جائے ۔
یہ کتاب سر سید کی صحافتی تحریروں کا تقریباً مکمل احاطہ کرتی ہے ۔سر سید کی حیات و خدمات سے واقفیت کے لیے دو ذرا ئع عام طور پر استعمال میں لائے جاتے ہیں :(۱)سر سید کی کتابیںاور (۲)سر سید سے متعلق لکھی گئیں معروف افراد کی مستند کتابیں (حیات جاوید وغیرہ )۔شافع قد و ائی نے سر سید کے اخبارات و رسائل کو بنیا دی وسیلے کے طور پر استعمال کیا ہے ۔اس سے یہ فائدہ حاصل ہو ا ہے کہ سر سید کے خیا لات کا ایک سلسلہ وار گراف بھی ابھر تاجاتا ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ ان بنیا دی ماخذات تک رسائی جتنی مشکل تھی، یہ راہ ِتحقیق کے مسا فر ہی سمجھ سکتے ہیں ۔ سر سید کی صحافت کے تعلق سے اردو میں بھی چند محققانہ جلدیں سامنے آئی ہیں لیکن بنیا دی مواد کا اس بڑے پیمانے پر استعمال اور انھیں سر سید کی فکری نشو ونما کے پہلو بہ پہلو جانچنے پرکھنے کا کام اب تک کسی اردو سر سید شنا س نے انجام نہیں دیا تھا۔
شافع قدوائی نے اخبار کے تر اشوں اور اداریوں یا مضامین کے اقتباسات کی کھِتونی تیار کرکے اپنی کتاب مکمل نہیں کی ہے ۔یہ بھی نہیں کہ کچھ چُنے ہو ئے اقتباسات جمع کر کے اپنے Pre-conceived notion کو لفظوں کا جامہ پہنا کر کام چلا لیا گیا ہے ۔اس کے بر خلاف ان کا مطمح نظر بالکل واضح ہے ۔اخبارات ،رسا ئل اور سر سید کے مضامین ؛سب سے مل کر اس دانشورانہ جہت کی ایک شکل بنتی ہے جس کی بدو لت ہند ستان کی جدید کاری کے مرحلے میں سر سید نے اتنی زبر دست کا میا بی پائی ۔شافع قدو ائی نے سر سید کے معتقدین و معترضین دو نوں کی تحریر وں سے وا سطہ رکھتے ہو ئے اپنی گفتگو کے دوران جہاں جہاں ضرورت ہوئی، بھر پور بحث کی ہے اور اپنے نتائج کو پختگی عطا کی ہے۔
سوانحِ سرسیّد کی گم شدہ کڑیاں:
شافع قدوائی نے سر سید کی صحافتی خدمات کی تفصیلات بتانے سے پہلے سوانح ِسر سید کے بعض گم شدہ پہلوؤں کو اپنی تحقیق کا حصہ بنا یا ہے ۔یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ سر سید کے سو انح نگاروں کی تعداد اچھی خاصی رہی اور ہر زمانے میں نہایت سنجیدگی سے اس مو ضو ع پر گہرا ئی کے ساتھ لکھنے وا لوں کی کمی نہیں رہی ہے ۔جی ۔ایف ۔آئی۔ گر اہم ،الطاف حسین حالی اور افتخار عالم خاں نے سو انح سر سید سے متعلق نہایت گہرے کا م کیے ہیں ۔اس کے با وجو د شافع قدوائی نے حیات ِسر سید کی کڑیوں کو جو ڑنے کے مر حلے میں ان سوا نح نگا روں کی حدو د کا صاف صاف احساس کر ا دیا ہے ۔ مذکو رہ تینوں کتا بیں سوا نح سر سید کے سلسلے سے اسا سی اہمیت کی حامل ہیں اور سر سید شنا سوں کے لیے معتبر ترین حوا لے کا در جہ رکھتی ہیں لیکن ان کتا بوں کے نتا ئج پر انگلی رکھ کر ان کی خامیوں کی اصلا ح کر دینا شافع قد وا ئی کا بڑا کار نامہ ہے۔ نمونتاً سوانح سر سید کے چند پہلوؤں پر شافع قدوا ئی کی بحث کا خلا صہ پیش ہے جس سے اس کتاب کی اہمیت واضح ہو جا تی ہے :
(۱)سر سید نے اپنے آبا و اجداد کے ہندستان پہنچنے کا زمانہ عہد اکبر مانا ہے لیکن حالی اور ان کی تقلید میں خلیق احمد نظامی اور افتخار عالم خاں وغیرہ نے یہ و اضح کیا ہے کہ سر سید کے آبا و اجداد شا ہ جہاں کے عہد میں ہندستان آئے ۔شافع قد وا ئی کا اصرا ر ہے کہ جب تک کو ئی دو سری شہا دت نہ ہو،سر سید کے بتا ئے زمانے سے کیوں انحراف کیا جائے ؟
(۲)منشی سرا ج الدین جنھیں سر سید کی سو انح لکھنے پر ما مور کیا گیا تھا لیکن بہ وجو ہ وہ سو انح سر سید کو پسند نہیں آئی اور غیر مطبوعہ صو رت میں ہی حالی کو وصو ل ہو ئی ۔شافع قدوا ئی نے اپنی بحث میں یہ وا ضح کر نے میں کا میا بی پا ئی ہے کہ منشی سر اج الدین کی کتاب کو حالی نے حیات ِجاوید لکھتے وقت تقریباً ضم کر لیا یا اسے بہ خو بی استعمال میں لا یا ہے ۔
(۳)سر سید نے اپنے نا نا خواجہ فر یدالدین احمد کے سات سو روپے ماہا نہ مشاہرے پر مدرسۂ عالیہ، کلکتہ میں فائز ہونے کی جو بات ’ سیرت ِفریدیہ‘میں لکھی ہے ،اُسے شافع قدوائی نے مولوی عبد الستار اور محمود برکاتی کے نتائج سے اتفاق کر تے ہوئے باطل قرار دیا ہے ۔
(۴)سر سید کے والد کے نام کے سلسلے سے بعض اختلافات پیدا ہوئے ہیں ۔ سر سید کے پہلے سوانح نگار گراہم نے ان کا نام سید محمد تقی لکھا اور حالی نے میر متقی۔شافع قدوائی کا کہنا ہے کہ سر سید نے اپنے والد کے نام میں کہیں بھی میر کاسابقہ استعمال نہیں کیا ۔سر سید نے خود اپنے والد کا نام سید محمد متقی لکھا ہے ۔ شافع قدوائی نے بجا طور پر تعجب کا اظہار کیا ہے کہ گر اہم کی کتاب پر’ علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ ‘میں سر سید کے دو دو خطو ط شائع ہوئے لیکن کہیں بھی سر سید نے ا س نام کی غلطی پر نہ کوئی تبصرہ کیا اورنہ اصلاح کی کوئی تجویز پیش کی ۔
(۵)سر سید کے والد کی وفات کا سال گراہم نے 1836 ء لکھا ہے اور حالی نے 1838 ء ۔شافع قدوائی نے اس خلفشار کی طرف واضح اشارہ کیا لیکن کو ن سی تاریخ واقعتاًدرست ہے ،اس پر اپنی رائے واضح نہیں کی ۔
(۶)شافع قدوائی کا کہنا ہے کہ حالی نے سر سید کی والدہ کی خصو صیات تو بڑی تفصیل سے لکھی ہیں لیکن وہ ان کا نام نہیں لکھتے ۔ شافع قدوائی نے سر سید کی ماں کانام عزیزالنسا (بیگم )بتایا ہے اور ان کی بعض خوبیوں کی طرف اشارہ کر تے ہوئے ان کی تاریخ وفات 19 نومبر 1857 ء در ج کی ہے ۔ غدر کے ہنگاموں کے دوران سر سید کی والدہ کو بہت مشکلوں سے دہلی سے سر سید کے پاس میرٹھ پہنچایا گیا ۔اس سلسلے سے سر سید کے ایک رفیق خاص مولوی سمیع اللہ نے بہت تعاون دیا تھا ۔شافع قد وائی نے مولوی ذکا ء اللہ کے ایک مضمون کا حوالہ پیش کر تے ہوئے اس بات پر بجا طور پر تعجب کا اظہار کیا ہے کہ سر سید کے مورخین نے اس اہم پہلو سے کیسے صر ف ِنظر کیا ۔
(۷)سر سید کی بہن کا نام حالی نے صفیتہ النسا بیگم لکھا ہے لیکن شافع قدوائی نے سر سید کی تحریر سے یہ واضح کیا ہے کہ ان کی بہن کا نام عجبت النسا تھا ۔
(۸)سر سید کی شخصیت میں موجو د بذلہ سبخی کی طرف ان کے کسی سوانح نگار کا دھیان نہیں گیا۔شافع قدوائی نے سر سید کے سوانح نگاروں کی حدود یہاں بتادی ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ سر سید نہایت پُر مذاق شخصیت رکھتے تھے اور ان کے دو ستوں اور ہم عصرو ں نے سر سید کے اس رنگ کو پہچانا تھا لیکن ان کے سوانح نگارو ں نے اس عنصر کی طرف سے عدم توجہی بر تی ۔
(۹)سر سید کی خوش دامن اور اہلیہ کے تعلق سے بھی شافع قدوائی کے تحقیقی نتائج بہت کار آمد ہیں ۔ ’سیرت فریدیہ‘میں سر سید نے اپنے نا نا کی تین صاحب زاد یوں کا ذکر کیا ہے لیکن شافع قدوائی نے افتخار عالم خاں کی تحقیق کو درست ما نا ہے جس کی رو سے سر سید کی اہلیہ پارسابیگم عرف مبا رک بیگم اپنی ماں فخر النسا کی تنہا اولاد تھیں ۔ کسی دو سری او لاد کا ،خو اہ بیٹا ہو یا بیٹی ،کو ئی سراغ نہیں ملتا ۔ سر سید کی نانی کی آخری عمر میں تقریباً بینائی زائل ہوچکی تھی ۔ وہ سر سید کی اہلیہ کے ساتھ ہی رہیں ۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ سر سید کی نانی کی کو ئی دوسری بہن یا بھا ئی نہیں ۔سر سید کی اہلیہ کے تعلق سے سر سید یا ان کے سوانح نگا روں کی جا نب سے بہت کم اطلاعات پیش کر نے کی شکا یت شافع قدوائی ضرور کرتے لیکن اس مو ضوع پر پڑی ہو ئی گر د کو وہ بھی بہ طریقِ احسن جھاڑ نہیں پاتے۔
ان مثالوں سے یہ اندازہ لگا نا مشکل نہیں کہ شافع قدوائی نے کس قدر تحقیقی گہرائی کے ساتھ حیات ِسر سید کا مطالعہ کیا ہے ۔ ان کے نتائج اس بات کا ثبوت ہیں کہ حیاتِ سر سید کے تعلق سے جو تحقیقی ذخیرہ مو جود ہے ،اس کا انھوں نے تقابل اور تطا بق کے ساتھ جائزہ لیا ہے ،تب جا کر یہ ممکن ہو ا کہ حالی اور گر اہم یا دو سرے معتبرمحققینِ سر سید سے جو تحقیقی فر و گذاشتیں ہو ئیں ،ان کی شافع قدوائی نے اکثر و بیشتر اصلاح کر دی ہے ۔حیاتِ سر سید کے تحقیقی جائزے میں انھوں نے سر سید کی ملا زمت ،کتا بوں کی اشاعت او ر ان کے مختلف ایڈیشنز کے ساتھ ساتھ سر سید کے قائم کر دہ علمی اداروں اور دیگر علمی اور سماجی تنظیموں سے سر سید کے رو ابط کی ضروری تفصیلات اس تحقیقی کتاب کے باب اول میں تقریباً پچاس صفحات میں پھیلی ہو ئی ہیں ۔حیات سر سید کے مضمرات پر شافع قدوائی کے نتائج اس وجہ سے بھی قابل یقین ہیں کہ انھوں نے سر سید کے ان تمام اخبارات و رسائل کو اپنا مو ضوع ِبحث بنایا ہے جنھیں سر سید نے قائم کیا تھا اور جن میں علی گڑھ تحریک سے متعلق چھوٹی بڑی ہر اطلاع مندرج ہو تی تھی ۔اسی لیے اکثرو بیشتر بحث و تمحیص میں حجّت کی تان کبھی’ علی گڑھ انسٹی ٹیو ٹ گزٹ‘پر ٹو ٹتی ہے تو کبھی’تہذیب الاخلاق ‘کے اوراق پر ۔ان رسائل اور اخبارات کا بر اہ راست مطالعہ شافع قدوائی کے نتا ئج کومعتبر اور باوقار بنا تا ہے ۔
یو ں تو اس کتاب کا اصل مقصد سر سید کے دو آثار ’علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ ‘اور’ تہذیب الاخلاق‘ کے مشتملات کا جائزہ لینا ہے لیکن جس طرح حیات سر سید کی گم شدہ کڑیوں کو جو ڑنے کے لیے ایک بھر پور اور کار آمد باب اس تحقیقی مقالے میں شامل کیا گیا ہے ،اسی طرح سر سید کی مشہو رِزمانہ صحافتی تحریر وں کے معیار و مر تبے کے تعین سے پہلے ۲۵؍صفحات کا ایک مختصر سا باب سر سید کی ابتدائی صحافتی دل چسپیوں کے لیے وقف ہے جہاں خاص طو ر سے ’سید الاخبار‘ اور ’زبدۃالاخبار ‘کا اختصار کے ساتھ جائزہ لیا گیا ہے ۔سر سید کی ابتدائی تحریریں اپنی کامیابی کے پر چم انھی اخبار ات و جر ائد میں لہرا رہی تھیں ۔اس گو شے میں’ لائل محمڈنس آف انڈیا‘ کا بھی بہ غور مطالعہ کر کے سر سید کی صحافت سے ابتدائی دل چسپیوں کو روشن کرنے میں کامیابی پائی گئی ہے ۔شافع قدوائی نے ان دونوں ابواب کو اپنے اصل مطالعے کے پس منظر کے طور پر شامل کیا ہے لیکن یہاں سر سری گزرنے یا ایک طائرانہ نگا ہ ڈالنے کے بجاے علمی اور تحقیقی ضبط اور ٹھہراوکے ساتھ گفتگو کا حق ادا کردیا گیا ہے ۔کسی تحقیقی مقالے کی اتنی ٹھوس اور قابلِ اِتّباع پیش بندی اس سے پہلے اردو میں زیادہ دیکھنے کو نہیں ملی ۔

علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ:
اس کتاب میں ’علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ‘ کے تعارف اور تجزیے کے لیے تقریباً نوّے صفحات مخصو ص کیے گئے ہیں۔کثیر لسانی معاشرے کی ضرورتوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے سر سید احمد خاں نے اردو ،فارسی ،عربی اور انگریزی چارزبانوں میںاس اخبار میں تحریریں چھاپیں۔ اسے1866 ء میں ہفتہ وار کے طور پر سر سید نے شروع کیا اور سر سید کی زندگی میں تقریبا ًیہ لگا تار نکلتا رہا ۔بعد میں تویہ ہفتے میں دو بار شائع ہو نے لگا ۔سر سید اور علی گڑھ تحریک کے تعلق سے اس کی حیثیت اساسی ہے ۔اس لیے یہ اچھا ہو اکہ شافع قدوائی نے اپنے مطالعے میں ’انسٹی ٹیوٹ گزٹ ‘کو مر کزیت عطاکی ۔
اخبارات اور خاص طور سے قدیم اخبارات پر تحقیق اور تعارف اس وجہ سے نہا یت مشکل کام ہے کیوں کہ جیسے ہی آپ مو اد کی جانچ پر کھ میں منہمک ہوتے ہیں ،آپ کا بنیا دی کا م متفر قات کے تعارف اور تجزیے پر منحصر ہونے لگتا ہے ۔اسی لیے اخبارات کے سلسلے سے جو تحقیقی کتابیں منظر عام پر آئی ہیں ،ان میں اخبارات کے تراشے اور طویل مضامین کے ضروری اقتباسات کی بھیڑ چال رہتی ہے ۔ہر چند یہ تر اشے نہایت قیمتی اور پڑھنے والوں کے لیے معلومات کے نئے اور انو کھے خزانے ہو تے ہیں لیکن اکثر و بیشتریہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ ایسی تحقیقات پر یشاں خیا لی کا مجمو عہ بن جاتی ہیں ۔شافع قدوائی علی گڑھ مسلم یو نی ور سٹی کے شعبۂ صحافت کے استاد ہیں جہا ں انھوں نے صحافت کی تعلیم وتدریس کا معیاری نمونہ پیش کیا ۔قدیم اخبارات کی تحقیق کے مو ضوعاتی بکھر او سے وہ واقف تھے ،اسی لیے اپنی تحقیق میں ابتدا ًانھوں نے اس بات کا خیا ل رکھا کہ ان کی تحقیق گراں باری یا انتشار کاشکار نہ ہو جائے ۔اسی مقصد سے انھوں نے اخبار کے متعلقات کی جانچ پر کھ کے لیے بہت سارے ضمنی عنوانات قائم کیے ہیں تاکہ اخبار میں شامل تما م معاملات پر بحث کر نے میں کامیا بی حاصل ہوسکے ۔’علی گڑ ھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ‘ کے متعلقات کے تعارف کے دو ران شافع قدوائی کا مطمح ِنظر یہ بھی ہے کہ مختلف ضر وری تاریخی حو ا لوں کاا ندراج بھی ’گزٹ‘ کے صفحات سے تلاش کر کے نمو نتا ًپیش کر دیے جائیں ۔شافع قدوائی نے ا خبارکے تعزیتی شذرات پر جو بحث کی ہے ،وہ بے حد دل چسپ ہے اور سر سید کی وسعتِ ذہنی اور گزٹ کے دائرۂ کا ر کو سمجھنے کے لیے کا فی ہے ۔انگر یزی شاعر لارڈٹینی سن ،منشی نول کشور اور سالار جنگ وغیرہ کے شامل کل ایک سو نو تعزیتی شذرے ہیں۔ اخبارات میں اجتماعیت کا زور سب سے زیا دہ ہو تا ہے ،اس لیے بہت ساری تحریریں اپنے لکھنے والوں کے نام سے آزاد ہو تی ہیں ۔اس لیے یہ مشکل بات ہے کہ’ انسٹی ٹیوٹ گزٹ ‘میں شائع شدہ ان تعزیتی تحر یر وں میں کو ن سر سید کے قلم سے نکلی ہے، اس کی نشان دہی کی جا سکے۔ شافع قدوائی نے متعدد داخلی شواہد کی بنیا د پر یہ ثابت کیا ہے کہ دیا نند سر سو تی ،مو لوی چراغ علی ،عبد الحی فر نگی محلی وغیرہ کے شامل بارہ افراد کے تعزیتی گوشوارے لازماًسر سید کی کا وش ِقلم کا نتیجہ ہیں۔
’علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ ‘کی خصو صیات پر گفتگو کر تے ہو ئے شافع قدوائی نے اس میں شائع شدہ کتابوں کے تبصروں کو بجا طو ر پر اہمیت عطاکی ہے ۔ان کا کہناہے کہ اردو میں کتابوں کے تفصیلی تبصرے کی اشاعت کا سلسلہ یہیں سے شر و ع ہو تا ہے ۔’گزٹ‘ میں شیخ محمد ابراہیم ذوق ،محمد حسین آزاد ،شبلی نعمانی ،حالی ،منشی ذکا ء اللہ، سید احمد دہلوی ،شوق قدوائی ،ڈپٹی نذیر احمد اور عبد الحلیم شرر کی تازہ کتا بوں پر تفصیلی تبصرے شائع ہو ئے ۔ ’آبِ حیات‘، ’نیرنگِ خیال‘،’ حیاتِ سعدی‘ ،’دیوانِ ذوق‘ ،’دیوانِ حالی‘اور ’سفر نامۂ مصر و شام‘ جیسی کتابوں پر’گزٹ ‘میں ان کی اہمیت کے مطابق تبصرے شائع ہو ئے ۔’آب حیات‘ پر سر سید ،حالی اور منشی ذکا ء اللہ کے الگ الگ تبصروں (مطبو عہ ۱۸دسمبر ۱۸۸۰ء )کے بارے میں شافع قدوائی نے وضاحت سے لکھا ہے کہ ذکا ء اللہ نے آب حیات کی خصو صیات تسلیم کر نے کے باوجو د بعض شعر ا کی عدم شمو لیت پر سوالات قائم کیے تھے ۔ خاص طور سے مو من کا’ آب حیات‘ میں شامل نہیں ہو نا محمد حسین آزاد کے سامنے ایک بڑا سوال بن گیا تھا ۔ اس سلسلے میں’ گزٹ ‘کی اہمیت بھی سمجھ میں آتی ہے کہ یکم فر وری 1881ء کے مطبو عہ خط میں محمد حسین آزاد نے واضح کیا ہے کہ’ آب حیات ‘کا نیا ایڈیشن سامنے آنے وا لا ہے جس میں بہت ساری اصلاحیں شامل ہیں ۔’گزٹ‘ میں کو ن سی تحر یریں سر سید کی ہیں اور کون سی دو سروں کی، اس سلسلے سے شافع قدوائی نے بحث کر تے ہوئے اردو کے دیگر محققین سے اختلاف کیا ہے اور سر سید کے ایک سو مضامین یا شذرات کے عنوانات تاریخ وار پیش کر دیے ہیں جن کے مطا لعے سے سر سید کے عبقری ذہن اور مزاج کی وسعت نظری کے ثبوت فرا ہم ہو تے ہیں ۔
’علی گڑھ انسٹی ٹیو ٹ گزٹ‘ میں سر سید کے وہ مضامین بھی محفو ظ ہو ئے جو کسی نہ کسی جہت سے تعلیم یا زبان سے وا ضح تعلق رکھتے ہیں ’انسٹی ٹیوٹ گزٹ‘ میں ہی سر سید نے اردو کے خلاف غیر ضروری طور پر چل رہے پروپیگنڈہ کو سمجھتے ہوئے اپناسلسلۂ مضامین قائم کیا۔’ انسٹی ٹیوٹ گزٹ ‘میں اس سلسلے سے سرسید اور دوسروں کے چھبیس مضامین شائع ہوئے۔ سرسید کی صحافتی دیانت داری کا یہ ادناثبوت ہے کہ انھوں نے ’انسٹی ٹیوٹ گزٹ ‘میں ہندی کی حمایت اور اردو کی مخالفت میں لکھے گئے مضامین بھی شائع کیے۔ اردو ہندی تنازعات پر گفتگو کرتے ہوئے عام طور پرسرسید برادرانِ وطن کے نفسیاتی پہلوؤں کو بہ خوبی توجہ میں رکھتے ہیں۔ شافع قدوائی نے اردو ہندی تنازعات کے سلسلے سے’علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ ‘کے نقطۂ نظر کو مثالی صحافتی اقدار کا حامل قرار دیا ہے۔
’انسٹی ٹیوٹ گزٹ‘ کی جانچ پرکھ کے لیے شافع قدوائی نے تعلیم کے موضوع کا بھی انتخاب کیا ہے کیوں کہ فکرِ سرسید کا یہ بنیادی عنصر ہے۔ گزٹ میں ایسے تیس مضامین شائع ہوئے جن کا موضوع براہِ راست تعلیم و تدریس ہے۔ شافع قدوائی نے اس ضمن میں سرسید کے صرف ایک مضمون کا ایک مختصر اقتباس شامل کیا لیکن ان کی محققانہ خوبی کہیے کہ یہاں سرسید شناسی کا ایک اہم پہلو اپنے آپ روشن ہوجاتا ہے۔ یہ اقتباس تعلیم نسواں سے متعلق ہے۔ شافع قدوائی نے تو یہ نتیجہ اخذ کرلیا کہ سرسید عورتوں کی تعلیم کے طرف دار تھے اور اس سلسلے سے سرسید کی تنقید کرنے والے لوگوں پر طنزیہ فقرے بھی پیش کیے ہیں۔ میرا کہنا ہے کہ وہ جوشِ دفاع میں سرسید کی تمام تحریروں اور دوسرے کام کاج کو نگاہ میں رکھے بغیر اس موضوع پر ایک اقتباس یا ایک تحریر کی روشنی میں فیصلہ کرنا چاہتے ہیں، یہ درست نہیں۔
’انسٹی ٹیوٹ گزٹ‘ کے سیاسی، سماجی اور دیگر موضوعات پر شائع شدہ مضامین کی بنیاد پر شافع قدوائی نے بجاطور پر سر سید کاایک اعلا صحافتی بُت قائم کیا ہے۔ یہ بُت عقائد نہیں بلکہ حقائق کی بنیاد پر مکمل کیا گیا ہے۔یہ انھوں نے اچھا کیا کہ اپنی باتوں کو کہتے ہوئے اخبار سے ضروری اقتباسات بھی ترجمہ کرکے بہ طورِ ثبوت پیش کردیے۔’ انسٹی ٹیوٹ گزٹ‘ سے متعلق نوّے صفحات میں شافع قدوائی نے جس جاں فشانی کے ساتھ سرسید کی تحریروں اور موقف کا جائزہ لیا ہے، اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ سرسید شناسی کا نہایت سنجیدہ اور گہرا کام، دوسرے لفظوں میں بھاری پتّھر شافع قدوائی نے اٹھایا ہے۔ دورانِ گفتگو تحلیل و تجزیہ کے مرحلے میں شافع قدوائی، سرسید کی تحریروں کو اس طرح سے پیش کرتے ہیں جیسے معلوم ہو کہ ان ہی کے زمانے میں یہ سب چیزیں شائع ہوتی رہیں جب کہ معاملہ سوسواسو برس قبل کا ہے۔ یہ محقق کا اپنے موضوع پر پورے طور پر قادر ہونے کا ثبوت ہے۔

تہذیب الاخلاق:
علی گڑھ تحریک کے فیضان کو’ تہذیب الاخلاق‘ اور”The Muslim Social Reformer” کے بغیر نہیں سمجھا جا سکتا۔ 1869ء میں سرسید جب انگلینڈپہنچے ،اس وقت وہاں “The Tattler” اور “Spectator” کا چرچا تھا۔ ان کا نکلنا ہرچند کہ بندہوچکا تھاکہ لیکن ذکر جاری تھا۔ سرسید نے وہیں طے کرلیا کہ اپنے ملک میں وہ واپس آنے کے بعد اِسی طرح کا ایک رسالہ شائع کریں گے۔ ان کے اردو اور انگریزی نام بھی انگلینڈ میں ہی طے ہوگئے تھے۔سرسید نے’ تہذیب الاخلاق ‘میں جس سرگرمی سے اپنے مضامین شائع کیے ،اس سے اس رسالے سے ان کے تعلق خاطر کو سمجھا جاسکتا ہے۔ سرسید کی حیات تک’ تہذیب الاخلاق‘ کے جو شمارے سامنے آئے ان میں کل تین سو پچیس مضامین شائع ہوئے۔ ان میں تنہا ایک سو ستّاسی یعنی 53% سرسید کے قلم سے نکلے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ سرسید کے خیالات اور علی گڑھ تحریک کی سانسوں اور دھڑکنوں کو سمجھنے کے لیے رسالہ’ تہذیب الاخلاق ‘ایک بنیادی ماخذ ہے جس پر شافع قدوائی نے اپنے مقالے میںکوئی پچاس صفحات وقف کیے ہیں۔
شافع قدوائی کے اس تحقیقی مقالے کی ایک خاص خوبی یہ بھی ہے کہ سرسید اور ان کے صحافتی کاموں سے متعلق جو تحقیقی غلطیاں ایک سے دوسری کتابوں میں نقل درنقل کے سبب دیکھنے کو ملتی ہیں؛ان کا بھرپور حقائق کے ساتھ تدارک کردیا گیا ہے۔ کہنے کو یہ ایک غلطی کی اصلاحِ محض ہے لیکن غور کرنے پر پتا چلتا ہے کہ یہ تحقیقی بھول ان بزرگوں سے ہوئی ہے جن کے نقشِ قدم پر چلنا کامیابی کی ضمانت ہے۔ شافع قدوائی نے بھی ایسی اصلاحوں میں جوشِ بے جا کو روا نہیں رکھّا۔ چند مثالوں سے یہ بات واضح ہو جائے گی:

(۱)’تہذیب الاخلاق ‘کس کس زبان میں نکلا؟ :
آج ہم سب کو یہ معلوم ہے کہ رسالۂ’ تہذیب الاخلاق ‘اردو زبان کا معتبر رسالہ رہا ہے۔ ’حیات جاوید ‘میں حالی نے کہیں بھی’ تہذیب الاخلاق ‘کو ذولسانی یا کثیر لسانی رسالے کے طور پر پیش نہیں کیا بلکہ انھوں نے اسے خالص اردو رسالہ تسلیم کیا ہے۔ شافع قدوائی نے محسن الملک کے نام لندن سے لکھے گئے سرسید کے مکتوب کا ترجمہ پیش کردیا ہے۔ اس کے بعد شافع قدوائی نے وہ تفصیلات پیش کی ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ’ تہذیب الاخلاق ‘میں انگریزی اور اردو دونوںزبانوں میں ؛کبھی کبھار انگریزی اور عربی زبان میں بھی متعدد چیزیں شائع ہوتی تھیں۔ مضامین، رپورٹیں، خطوط اور اداریے سب حسبِ ضرورت انگریزی اور عربی میں بھی شائع ہوئے ۔اس طرح یہ تحقیقی امرکہ’ تہذیب الاخلاق‘ میں انگریزی اور عربی زبانوں کا بھی حصّہ ہے، سرسید شناسی میں غالباً پہلی بار شافع قدوائی کے حوالے سے سامنے آتا ہے۔

(۲)تہذیب الاخلاق کا وقفۂ اشاعت:
اردو صحافت کی تاریخ کے مشہو رمحققین امدا د صابری، عبدالسلام خورشید اور عتیق صدیقی نے اپنی کتابوں میں یہ لکھا ہے کہ’ تہذیب الاخلاق ‘ایک ماہ میں تین بار شائع ہوتا تھا لیکن شافع قدوائی اِسے درست نہیں مانتے۔ انھوں نے محسن الملک کے نام سرسید کے لکھے خط کا اقتباس پیش کرکے یہ بتایا ہے کہ ابتداً سرسید کے ذہن میں ماہانہ رسالے کا ہی تصور تھا۔ لیکن پہلے ہی شمارے میں یہ اعلان شائع ہوگیا کہ ایک ماہ میں ایک بار یا دو بار یا جتنی بار ضرورت ہو ،یہ رسالہ شائع ہو گا۔ اسی وجہ سے کبھی مہینے میں ایک یا کبھی دو یا کبھی تین شمارے بھی شائع ہوئے۔ شافع قدوائی نے یہ لکھا ہے کہ 1896 ء کے بعد ہی یہ ہفتہ وار ہو سکا۔ شافع قدوائی نے لکھا ہے کہ اپنے پہلے سال میں ’تہذیب الاخلاق‘ کے ابتدائی چھے شمارے دس دن کے وقفے سے شائع ہوئے اور پھر ان کی اشاعت کا دورانیہ پندرہ روزہ ہو گیا۔

(۳) تہذیب الاخلاق کے پہلے شمارے کی انگریزی تاریخ :
تہذیب الاخلاق کے پہلے شمارے کی اشاعت کی انگریزی تاریخ حالی نے ۲۴ دسمبر ۱۸۷۰ء درج کی ہے۔ ہجری تاریخ یکم شوّال ۱۲۸۷ء ہے۔’ علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ‘ میں انگریزی اور ہجری دونوں تاریخیں ایک ساتھ شائع ہوتی تھیں۔ لیکن’ تہذیب الاخلاق ‘میں سرسید نے صورت بدل دی اور صرف ہجری تاریخ ہی شائع ہوتی رہی۔اس تاریخ کی حالی نے جو عیسوی مطابقت پیش کی، اُسے دیگر ماہرینِ سرسید یا محققینِ صحافت بہ شمول مولوی عبدالحق، سید عبداﷲ، امداد صابری، محمد عتیق صدیقی، عبدالسلام خورشید، خلیق احمد نظامی، شان محمد، قدسیہ خاتون اور نفیس بانو وغیرہ نے حالی کی مکھّی پر مکھّی بٹھاتے ہوئے ۲۴ دسمبر ۱۸۷۰ء کی ہی تاریخ درج کی ہے۔ شافع قدوائی کا کہنا ہے کہ یہ تاریخ درست نہیں ہے۔ انھوں نے تقویم کی مدد سے یہ تاریخ ایک دن آگے یعنی ۲۵ دسمبر ۱۸۷۰ء طے کی ہے۔ محققین کی ہدایت ہے کہ تقویم ہجری وعیسوی کی مطابقت قائم کرتے ہوئے جب تاریخ معلوم ہو تو ایک دن کی اور تاریخ یا ماہ نہیں معلوم ہو تو ایک سال کے لیے باز پرس نہیں کی جا سکتی۔ اس اعتبار سے شافع قدوائی کی طرف سے ایک دن کی زیادہ کی تاریخ کوئی بڑا کارنامہ نہیں مانی جاتی اگر شافع قدوائی نے سرسید کاقول نہ پیش کر دیا ہوتا کہ ان کے رسالے کی افتتاحی شان بھی کیا خوب ہے کہ عید اور کرسمس ایک ہی روزوقوع پذیر ہوئے۔
مذکورہ بالا تینوں مثالوں سے یہ سمجھنا آسان ہوجاتا ہے کہ شافع قدوائی نے سرسید کے رسالے کا سرسری طور پر مطالعہ نہیں کیا بلکہ اُسے لفظ بہ لفظ اور صفحہ درصفحہ پڑھنے کی کوشش کی۔ اسی لیے تحقیقی جہت سے گفتگو کرتے ہوئے انھیں بہت سارے مسلّمات پر انگلی رکھنی پڑی اور آج یہ صورتِ حال ہے کہ بعض امور میں وہی نتائج لائق اعتنا ہیں جو شافع قدوائی نے طے کردیے۔ لیکن یہ کتاب صرف تحقیقی جہت سے کارآمد نہیں ہے بلکہ علمی نقطۂ نظر سے سرسید کے اخبار و رسائل کے اندر جو خزینہ چھپا ہوا تھا، اس پر بہت سارے لوگوں نے اپنے دانشورانہ نتائج ظاہر کیے ہیں لیکن شافع کا کمال یہ ہے کہ وہ ایسی سیکڑوں بنیادیں فراہم کرتے ہیں جو افکارِ سرسید کے طالب علم کو نئے سرے سے غور وفکر کے لیے مجبور کردے۔ ان کے پاس معلومات کا اتنا وسیع دائرۂ کار ہے کہ حقائق کی پیش کش میں دوسرے متعلقات سے مناسبت پیدا کرکے تصدیقِ نو کرتے چلے جاتے ہیں۔ نتائج اخذ کرنے کے دوران شافع قدوائی کا ایک اور انداز قابل اتّباع معلوم ہوتا ہے ۔وہ کسی موضوع پر بحث کرتے ہوئے اپنے مرکز یعنی ’علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ ‘اور’ تہذیب الاخلاق‘ کے مضامین پر حاوی تو رہتے ہیں لیکن مزید صراحت کے لیے وہ متعلقہ مطبوعات اور سرسید کے خطوط یعنی دیگر مضامین سے بھی فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی تحریر کو استحکام عطا کرتے ہیں۔ اتفاق سے سرسید کی صحافت پر اردو میں مضامین اور کتابو ں کی کمی نہیں لیکن تفہیم و تجزیہ کا تازہ ترین اور ترقی یافتہ اسلوب جو شافع قدوائی کے ہاتھ آیا ہے، وہ کسی دوسرے کو نصیب نہیں۔
دونوں اخبارات ورسائل کے تجزیے میں شافع قدوائی کا ایک اختصاص یہ بھی ہے کہ وہ صرف اردو زبان کے محقق اورنقاد نہیں بلکہ شعبۂ صحافت میں پروفیسر بھی ہیں اور یہ کتاب شعبۂ صحافت میں رہتے ہوئے ان کی تحقیق کا نتیجہ ہے۔ اس لیے سرسید کے جرائد پر گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے جن تکنیکی پہلوؤں سے اورزیادہ تفصیلات درج کی ہیں، وہ تو اردو کا کوئی عالِم پیش ہی نہیں کر سکتا تھا۔ اس سے ظاہری صورتِ حال بھی صاف صاف سمجھ میں آجاتی ہے۔ مضامین کتنے کالم انچ میں شائع ہوئے اور خبروں کا تناسب کیا تھا، فیچر کتنا شامل ہوا اور تبصروں کے لیے اخبار میں کتنی جگہ رکھی گئی، یہ تمام باتیں شافع قدوائی نے اپنے تکنیکی ناپ تول سے ظاہر کردی ہیں۔ یہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ شافع قدوائی نے ایک ایک شمارہ ملاحظہ کیا اور ہر تحریر کو اپنے جائزے میں اہمیت دی۔ بے صبر محققین کی ایک خوٗ یہ ہوتی ہے کہ ’’تھوڑا پڑھا، اور زیادہ سمجھا، اور اس سے بھی زیادہ لکھا‘‘ کے سنہرے اصولوں پرعمل پیرا ہونا کامیابی کا زینہ سمجھتے ہیں لیکن جِسے پِتّاماری کاکام کہتے ہیں، وہ تحقیق ہے جس میں کبھی یہ اصول کا ربند نہ ہو سکا کہ چاول کے ایک دانے کو دیکھ کر پوری ہانڈی کے بارے میں فیصلہ کرلیا جائے۔ شافع قدوائی نے واقعتا ’تہذیب الاخلاق ‘اور’ علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ ‘کے ایک ایک دانے کو دیکھا، جہاں ناپ تول کی ضرورت تھی، وہ بھی کیا اور پھر سرسید کی تحریک اور ان کی زندگی کے تناظر میں ان شذرات کی اہمیت کو روشن کیا۔ رسائل اور اخبارات کا ظاہری طور پر کتنا مؤثر جائزہ وہ لے سکتے ہیں،اس کا ایک نمونہ’ تہذیب الاخلاق‘ کے سرورق پر لکھے گئے نام کی تفصیل میں ملاحظہ کرنا چاہیے۔ اس سے یہ بھی اندازہ ہوگا کہ وہ مختصر نویسی کا فن جانتے ہیں اور تکنیکی تفصیلات پوری صفائی کے ساتھ پیش کرنے پر قادر ہیں:
“The upper half of the masthead was devoted to the English name – The Mahomedan Social Reformer – the first part of English name – The Mahomedan – appeared in semi circle and the rest of the name- Social Reformer” published in a 3-inch long horizontal box. The upper half carrying floral decoration is followed by Urdu name which also appeared in similar horizontal box. The masthead comprised name, volume, issue number and dateline.”
شافع قدوائی کی اس کتاب کے آخری دو ابواب سرسید کے مضامین کو فکری طور پر سمجھنے کی کوشش میں وقف ہوئے ہیں۔ تحقیقی مقالے کی
معروضیت کا یہ تقاضا بھی تھا کہ حیات اور مطبوعات کی تمام تفصیلات کے بعد اب اختصار میں یہ بتا دیا جائے کہ سرسید کے افکار و نظریات کے اصل نکات کیا ہیں؟ یوں تو پوری کتاب میں انھوں نے’ علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ ‘اور’ تہذیب الاخلاق ‘کے مشتملات کو زیر بحث لاکر سرسید کے اس عبقری دماغ میں اترنے کی کوشش ہی کی ہے۔ اور سیکڑوں مثالوں سے وہ بہت حد تک سرسید کے متعلقات واشگاف کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ پانچویں باب میں جہاد اور اسلام، مسلم ریزرویشن، حق رائے دہی اور ہندستان میں جمہوریت، اردو ہندی تنازعات، جنسی مساوات، مجالسِ قانون ساز کا عوام کے مفاد میں استعمال جیسے موضوعات پر سرسید کے خیالات اور کار کردگی کا الگ الگ اختصار کے ساتھ جائزہ لیا گیا ہے۔ اس باب میں شافع قدوائی نے سرسید کے زمانے کے بعد کے حالات اور مسائل و مباحث کو بھی سامنے رکھ کر اپنے تجزیے کے لیے نئی بنیادی زمین تلاش کی ہے۔ یہاں وہ صحافتی آثار اور قدیم کتب خانے کے طالب علم نہیں معلوم ہوتے جیسا کہ وہ اس کتاب میں سوا دو سو صفحات سے زیادہ تک میںدکھائی دیتے ہیں بلکہ یہاں زمانہء موجود کے سلگتے ہوئے سوالات اور تنازعات پیدا کر دینے والی باتوں یا کتابوں کے نتائج سے گریز نہیں کرتے بلکہ سرسید کے تناظر میں ان تمام امور کا بے لاگ اور منصفانہ جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس حصّے میں سرسید کے تعلق سے شائع شدہ بعض اہم تحریروں کا بھی اپنے جائزے میں وہ استعمال کرتے نظرآتے ہیں۔ یہ ضرور ہے کہ وہ بڑے پیمانے پر اردو میں سرسید سے متعلق چھپی ہوئی کتابوں سے واقف ہیں لیکن اس کتاب میں ان کا بھرپور استعمال ہوتا ہوا کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ البتہ انگریزی ماخذات کا حسبِ ضرورت وہ جائزہ لیتے رہتے ہیں اوران کا استعمال بھی حوالہ جات کے لیے کرتے چلتے ہیں۔
پانچویں باب کی فہرست میں خواتین کی تعلیم کے سلسلے سے ایک پوری شق قائم کی گئی ہے لیکن کتاب کے متن میں اس شق یا باب کا کہیں پتا نہیں چلتا۔ اِسے محض چھپائی کی بھول کہنا مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ اس طرح سرسید کے سماجی امور پر تصورات کو سمجھنے کے لیے یہاں کوئی جگہ دکھائی نہیں دیتی۔ سرسید کے محققین نے سرسید کے ذہنی تحفّظات کے سلسلے سے بھی دوچار باتیں پیش کی ہیں۔ یہ تمام باتیں سرسید کے گزٹ اور تہذیب الاخلاق کے مضامین پر گفتگو کرتے ہوئے زیر بحث آسکتی تھیں۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ ان اندھیرے گوشوں پر بھی روشنی پڑے۔ ہر چند اس میں سرسید کی تھوڑی شبیہ بگڑتی ہی کیوں نہ معلوم ہولیکن کسی عہد ساز شخصیت کی عظمت پر دوچار سوالات سے کوئی گہن نہیں لگتا۔ شافع قدوائی نے اپنے محسن کا ہزار حقائق کے ساتھ جو بُت قائم کیا تھا، شاید اُسے وہ چھوڑنا نہیںچاہتے تھے۔ اسی لیے تیز دھوپ میں وہ سرسید کو جلنے سے بچانے میں کامیاب ہوئے۔
یہ سچّائی ہے کہ یہ کتاب سرسید کی صحافتی تحریروں کا جائزہ ہے۔ یہاں ان کی مقصود با لذات کتابیں زیر بحث نہیں رہیں۔ ضمنی طور پر ان کا کہیں ذکر آگیا ہو تو یہی بہت بڑی بات ہے۔ لیکن کتاب کا جو انھوں نے سرنامہ بنایا،اس میں’writing‘ لفظ سے اپنے آپ یہ توقع پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ سرسید کے مکمل ذہنی سانچے کو سمجھنا چاہتے ہیں۔ اختتامی باب میں تو اور بھی اختصار آگیا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کام کی باتوں پر انحصار کرتے ہیں اور سرسید کی صحافت سے زیادہ دور ہو کر گفتگو کرنا ان کے لیے موضوع سے الگ ہونے جیسا ہے۔ اس لیے آخری باب کا لہجہ پھر تمام و کمال سرسید کی صحافیانہ حیثیت پرواضح روشنی ڈالنے جیساہے۔ شاید محقق کی حیثیت سے ان کی یہ حد ہے۔
سرسید پر اردو میں صحافت کے حوالے سے جو کتابیں موجود ہیں، ان سے اگر شافع قدوائی کی کتاب کا موازنہ کیا جائے تو کئی دل چسپ نتائج برآمد ہوں گے۔ علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ کے حوالے سے اصغر عباس کی کتاب کی بہت شہرت ہے۔ لیکن اس میں سرسید کی تحریروں کو مکمل یا اقتباس کی صورت میں پیش کرنے میں زیادہ توجہ دی گئی ہے۔ تحلیل و تجزیہ یا بحث طلب امور سے جوجھنے میں مصنف کی طبیعت مائل نہیں ہوئی۔ اس کے برعکس شافع قدوائی کی اس کتاب میں حقائق کے متوازی سرسید اور ان کے رفقا کی تحریریں اور سرسید کے خطوط، اخباری تراشے اور نہ جانے کتنی چیزیں ساتھ ساتھ چلتی رہتی ہیں۔ تحقیق کا یہ انداز بہت دل پذیر اور قلب کو ٹھنڈک پہنچانے والا ہے۔ شافع قدوائی کو کچھ فائدہ انگریزی زبان سے بھی ہوا ہے۔ کیوں کہ اردو اور انگریزی کے علمی مزاج میں جو واضح فرق ہے، اس سے انھوں نے خودکو غیر ضروری صفات اور مبالغہ آمیزی سے وہ دور رکھاہے ۔ اﷲ کرے کہ اس کتاب کا اردو ترجمہ فوری طور پر سامنے آجائے تا کہ اپنے موضوع پر اتنے سلیقے سے لکھی ہوئی یہ کتاب اپنے اصل قارئین تک بھی پہنچ جائے۔

 

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here