افغان سرکار کے فیصلے کیخلاف اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام کا اجلاس طلب

لڑکیوں کی تعلیم اور ملازمت پر پابندی افغانستان کوپیچھے کی طرف لے جائے گی: اقوام متحدہ

0

واشنگٹن(ایجنسیاں)
اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ طالبان کو ملک میں خواتین کی تعلیم اور کام کرنے سے روکنا افغانستان کو پیچھے دھکیل دے گا۔اقوام متحدہ نے کہا کہ ہم طالبان رہ نماؤں سے ملاقات کریں گے تاکہ بین الاقوامی اداروں میں خواتین کی ملازمت پر پابندی کے ان کے فیصلے کو واضح کیا جا سکے۔”انہوں نے مزید کہا کہ “طالبان کے فیصلوں کی وجہ سے افغانستان میں امن اور استحکام کا حصول خطرے میں ہے۔اقوام متحدہ کی طرف سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری طرف طالبان حکومت نے بنیاد پرستی کامظاہرہ کرتے ہوئے لڑکیوں کی تعلیم پرپابندی کے بعد ان کی ملازمت پربھی پابندی عاید کردی ہے۔افغانستان میں کام کرنے والی این جی اوز کے لیے لائسنس کی منظوری کے لیے ذمہ دار وزارت نے ’اے ایف پی‘ کے ذریعے دیکھے گئے ایک خط میں کہا “اسلامی طرز کے مطابق سرڈھانپنے اور مقامی اور بین الاقوامی اداروں میں کام کرنے والی خواتین سے متعلق دیگر قواعد و ضوابط کی عدم تعمیل کے حوالے سے سنگین شکایات موصول ہوئی ہیں۔وزارت نے بین الاقوامی اور مقامی غیر سرکاری تنظیموں کو لکھے گئے اپنے خط میں یہ بھی کہا ہے کہ ہدایت کو نظر انداز کرنے کی صورت میں تنظیم کا لائسنس منسوخ کر دیا جائے گا۔اپنی طرف سے ملک کے کئی دور دراز علاقوں میں انسانی ہمدردی کے کاموں میں شامل ایک بین الاقوامی تنظیم کے ایک سینیر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ ہم اتوار تک اپنی تمام سرگرمیاں معطل کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم جلد ہی تمام ’این جی اوز‘ کے سینیر عہدیداروں کی ایک میٹنگ کریں گے تاکہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ اس مسئلے سے کیسے نمٹا جائے۔”یہ اعلان طالبان کی حکومت کی جانب سے افغان خواتین کے سرکاری اور نجی یونیورسٹیوں میں غیر معینہ مدت کے لیے جانے پر پابندی کے فیصلے کے محض چار دن بعد سامنے آیا ہے۔ہائیر ایجوکیشن کے وزیر ندا محمد ندیم نے اس فیصلے کے دو دن بعد “طالبات کی جانب سے سر کے اسکارف سے متعلق ہدایات پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے” کا جواز پیش کیا۔طالبان حکام کو اس فیصلے پر بین الاقوامی غم و غصہ کا سامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ دنیا کے بیشتر ممالک نے طالبان کے ہاتھوں افغان خواتین کے جبر کی مذمت کی۔خواتین کو زیادہ تر سرکاری ملازمتوں سے بھی نکال دیا گیا یا انہیں گھر میں رکھنے کے لیے کم اجرت دی گئی۔
دریں اثنا افغان طالبان کی جانب سے فلاحی تنظیموں میں خواتین کے کام کرنے پر پابندی کے بعد آئندہ لائحہ عمل طے کرنے کے لیے اقوام متحدہ اور افغانستان میں کام کرنے والی درجنوں فلاحی تنظیموں (این جی اوز) کے اعلیٰ حکام کا اجلاس طلب کرلیا گیا ہے۔طالبان انتظامیہ نے گزشتہ روز دھمکی دی تھی کہ اگر حکم نامے پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو این جی اوز کے آپریٹنگ لائسنس معطل کر دیے جائیں گے۔ترجمان وزارت اقتصادیات عبدالرحمٰن حبیب نے کہا تھا کہ خواتین کے لباس سے متعلق ’اسلامی قوانین‘ پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے تمام افغان خواتین اگلے نوٹس تک کام نہیں کرسکتیں۔اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر برائے انسانی امور کے پبلک انفارمیشن آفیسر نے بتایا کہ ’انسانی ہمدردی کی کنٹری ٹیم (ایچ سی ٹی) کا ا?ج ایک اجلاس طے ہے جس میں اس معاملے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا‘۔ایچ سی ٹی میں اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام اور درجنوں افغان اور عالمی فلاحی تنظیموں کے نمائندے شامل ہیں جو ملک بھر میں امداد تقسیم کرتے ہیں۔چند فلاحی تنظیموں کے عہدیداروں نے بتایا کہ اجلاس میں اس بات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا کہ طالبان کی تازہ ترین ہدایت کے بعد تمام امدادی سرگرمیوں کو معطل کیا جائے یا نہیں۔اقوام متحدہ نے وزارت اقتصادیات کی جانب سے اس پابندی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ طالبان سے اس حکم کے بارے میں وضاحت طلب کی جائے گی۔اقوام متحدہ نے کہا کہ افغان طالبان کی جانب ملک میں خواتین کی تعلیم اور کام کرنے سے روکنا افغانستان کو پیچھے دھکیل دے گا جس سے ملک میں امن یا استحکام کی بامعنیٰ کوششوں کو خطرہ لاحق ہوگا۔امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا کہ یہ پابندی افغان عوام کے لیے تباہ کن ہو گی کیونکہ اس سے لاکھوں لوگوں کے لیے امدادی سرگرمیوں میں خلل پڑے گا۔خیال رہے کہ یہ پابندی ایک ایسے وقت میں لگائی گئی ہے جب ملک بھر میں لاکھوں افراد فلاحی تنظیموں کے ایک وسیع نیٹ ورک کے ذریعے بین الاقوامی عطیہ دہندگان کی جانب سے فراہم کی جانے والی انسانی امداد پر انحصار کرررہے ہیں۔گزشتہ سال اگست میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے افغانستان کا معاشی بحران مزید شدت اختیار کر گیا، امریکا نے افغانستان کے اربوں ڈالر کے اثاثے منجمد کر دیے اور غیر ملکی امداد دہندگان نے امداد بھی روک دی۔واضح رہے کہ اس سے قبل افغان طالبان نے خواتین کی اعلیٰ تعلیم پر بھی پابندی عائد کردی تھی جس کے بعد عالمی سطح پر شدید مذمت کی گئی اور افغانستان میں بھی اس فیصلے کے خلاف احتجاج کیا گیا۔اقتدار میں واپسی کے بعد سے طالبان نے نوعمر لڑکیوں کے سیکنڈری اسکول جانے پر بھی پابندی عائد کر رکھی ہے۔خواتین پر بیشتر سرکاری ملازمتوں کے دروازے بند کردیے گئے ہیں، انہیں کسی مرد رشتہ دار کے بغیر سفر کرنے سے روک دیا گیا ہے اور گھر سے باہر شرعی پردے کی پابندی کا حکم دیا گیا ہے۔