اسمبلی میں نماز کے لیے مختص کمرے پر ہنگامہ،بی جے پی نے کیا ہنومان چالیسہ کا پاٹھ

0
Image: Tv9 Bharatvarsh

رانچی (ایجنسی): جھارکھنڈ قانون ساز اسمبلی میں نماز کے لیے مختص کمرے کے معاملے پر ہنگامہ ہوا۔سیشن سے پہلے اپوزیشن بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ویز کے داخلی دروازے کے قریب سیڑھیوں پر بیٹھ کر ہنومان چالیسہ اور “ہرے رام” کا پاٹھ کیا۔ کارروائی کے دوران ایوان ویل میں جاکر جے شری کا نعرہ بھی لگایا۔ نعرے کے دوران وہ “نماز کے کمرے” کی الاٹمنٹ سے متعلق حکم کو واپس لینے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ صدررابندرناتھ مہتو نے پھر بی جے پی کے دیگر ارکان بشمول بھانو پرتاپ شاہی پر زور دیا کہ وہ اپنی نشستوں پر واپس چلے جائیں۔ “آپ ایک اچھے ممبر ہیں۔ براہ کرم ایوان کے ساتھ تعاون کریں۔ ”

تاہم ہنگامہ آرائی جاری رہنے پر اسپیکر نے ایوان کو 12.45 تک ملتوی کردیا۔ بی جے پی کارکنوں نے اتوار کو اس فیصلے کے خلاف ریاست بھر میں احتجاج کے دوران وزیر اعلی سورین اور اسپیکر کے پتلے جلائے تھے۔  بتادیں کہ اسپیکر نے نماز ادا کرنے کے لیے کمرہ نمبر TW 348 الاٹ کیا ہے،جس کے بعد بی جے پی نے اسمبلی احاطے میں ہنومان مندر اور دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں کی تعمیر کا مطالبہ کیا ہے۔

بی جے پی نے اسمبلی احاطے میں نماز پڑھنے کے لیے ‘نماز ہال’ مختص کرنے سے متعلق حکم پر سخت ردعمل ظاہر کیا تھا۔ پارٹی نے پہلے کہا تھا کہ یہ مکمل طور پر غیر آئینی اقدام ہے۔ بی جے پی نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر اسپیکر کو ایسا کرنا ہے تو اسے اسمبلی میں ہندوؤں کے لیے ایک عظیم ہنومان مندر تعمیر کرنا چاہیے۔ عبادت کے کمروں کو دوسرے مذاہب کے لیے بھی مخصوص کیا جانا چاہیے ورنہ جمہوریت کے مندر کو جمہوریت کا مندر رہنے دیا جائے۔

سابق ریاستی وزیراعلیٰ اور بی جے پی کے قومی نائب صدر رگھوور داس نے پی ٹی آئی کو بتایا “ہیمنت سورین حکومت کے ایم ایل اے کھل کر طالبان کی حمایت کرتے ہیں۔ ریاستی اسمبلی میں نماز کے لیے ایک الگ کمرہ اسی نظریے کا نتیجہ ہے۔ ورنہ کوئی بھی جو ہندوستانی جمہوریت پر یقین رکھتا ہے وہ ایسا عمل نہیں کرے گا۔ داس کے بقول “ہیمنت حکومت خوش کرنے اور ووٹ بینک کی سیاست کے لیے آئینی اداروں کے وقار کو بھی داغدار کر رہی ہے۔ یہ جھارکھنڈ کے لیے اچھی علامت نہیں ہے۔ جمہوریت کے مندر کے وقار کو بچانے کے لیے میں خود اسمبلی کے باہر دھرنے پر بیٹھوں گا۔

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
1
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here