شرپسندوں کیلئے واضح پیغام

0

صبیح احمد

بنگلہ دیش میں حالیہ درگاپوجا کے دوران ہندو کمیونٹی کے لوگوں کے خلاف تشدد کے واقعات کی پریشان کن گونج پڑوسی ملک ہندوستان کی سرحدی ریاست تریپورہ میں بھی سنی گئی۔ گزشتہ دنوں راجدھانی اگرتلہ اور ریاست کے دیگر شہروں میں بنگلہ دیش کے پر تشدد واقعات کے خلاف وی ایچ پی اور ہندو جاگرن منچ کے ذریعہ مظاہرے کیے گئے اور مبینہ طور پر مساجد اور مسلمانوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ حالانکہ مرکزی وزارت داخلہ نے تریپورہ کے گومتی ضلع کے ککرابن علاقہ میں ایک مسجد کو نقصان پہنچانے سے متعلق میڈیا رپورٹس فرضی اور حقائق سے دور قرار دیا ہے اور لوگوں سے امن برقرار رکھنے اور اس قسم کی فرضی رپورٹوں سے گمراہ نہ ہونے کی اپیل کی ہے۔
تشویش ناک بات یہ ہے کہ تقریباً 2 دہائیوں کے مقابلتاً امن و سکون کے بعد شمال مشرقی خطہ میں ایک بار پھر ابال آنے لگا ہے۔ خطہ کے پرانے مسائل جن میں زمین، زبان، نسل و قومیت، عقائد جیسے حساس معاملے شامل ہیں، ایک با پھر سیاسی مہم جوئی کے لیے استعمال ہونے لگے ہیں۔ آسام اور میگھالیہ کے درمیان شناخت کا مسئلہ پھر سے گرم ہونے لگا ہے اور ریاستی سرکاریں بھی اس ناخوشگوار رجحان کو ہوا دینے میں پیچھے نہیں ہیں۔ حکومت کے ذریعہ سی اے اے اور این آر سی کو آگے بڑھائے جانے سے آسام میں ہونے والی صف بندی اسمبلی الیکشن کے بعد بھی ختم نہیں ہو سکی ہے۔ حالیہ دنوں میں آسام اور میزورم کے درمیان بین ریاستی سرحدی تنازع کے دوران تقریباً 6 پولیس اہلکاروں کی موت ہو چکی ہے۔ ادھر شیلانگ میں صدیوں سے آباد ایک چھوٹی سی دلت سکھ کمیونٹی کو بے دخل کرنے کی کوششوں کے ساتھ میگھالیہ میں باہر کے لوگوں کے خلاف سیاست میں نئی جان پڑ گئی ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ سیاست داں ملک اور قوم کی قیمت پر چھوٹے انتخابی مفادات کی خاطر ان انتہائی حساس اور نازک مسائل سے فائدہ اٹھانے سے بھی قطعی گریز نہیں کر رہے ہیں۔ یہ صرف خطہ کے لیے ہی نہیں بلکہ آگے چل کر پورے ملک کے مفادات کے لیے ایک خطرناک رجحان ہے۔
یہ بات یادرکھنی چاہیے کہ غیر منقسم بنگال کا یہ خطہ مذہبی اعتبار سے جذباتی طور پر ہمیشہ کافی حساس رہا ہے۔ اس کی ایک طویل تاریخ ہے۔ فی الحال اس میں جانے کی ضرورت نہیں۔ اکیسویں صدی کے اس دور میں بھی جب دیگر شعبوں کے ساتھ ساتھ تعلیم کے شعبے میں بھی خطہ کے لوگوں میں کافی بیداری آچکی ہے، اس طرح کے معاملوں میں الجھ کر ترقی کی راہوں کو مسدود کر دینا نا قابل فہم ہے۔ درگاپوجا کے دوران بنگلہ دیش میں جس طرح وہاںکی ایک کمیونٹی کے پر امن شہریوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا گیا اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ بنگلہ دیش کے شر پسندوں نے جس طرح ہندوؤں کی جائیدادوں، مذہبی مقامات اور ان کی جانوں کو نشانہ بنایا، اس کیلئے انہیں سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے۔
دراصل مخصوص کمیونٹی کے خلاف پرتشدد واقعات کا سلسلہ کمیلا نامی علاقہ میں درگا پوجا کی تقریب کے دوران قرآن مجید کی ’بے حرمتی‘ کے واقعہ کی خبر پھیلنے کے بعد شروع ہوا۔ متحدہ بنگال (موجودہ بنگلہ دیش اور ہندوستان کی ریاست مغربی بنگال) تاریخی طور پر فرقہ وارانہ تشدد کے بدترین واقعات کے لیے مشہور رہا ہے لیکن اس بار وزیراعظم شیخ حسینہ کے زیر قیادت بنگلہ دیش کی حکومت، سیاسی پارٹیوں، میڈیا اور نظریہ سازوں یعنی سماج کے تمام طبقوں نے ایک زبان ہو کر ملک میں فرقہ وارانہ تشدد کے خلاف آواز بلند کی۔ فرقہ وارانہ تشدد کی اس طرح متحدہو کر مخالفت کی گئی کہ ہندو مخالف تشدد کی حمایت میں کسی کو چوں تک کی آواز نکالنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ پورے بنگلہ دیش میں ایک ہی آواز سنائی دی، اور وہ آواز ان فرقہ وارانہ تشدد کی مخالفت میں تھی۔ دوسری جانب ہندوستان میں ایسا ماحول فی الحال دیکھنے کو نہیں مل رہا ہے۔ یہاں سیاست کے ساتھ ساتھ عوامی منظر نامہ بھی اتنا پراگندہ ہو گیا ہے کہ بڑے سے بڑے جرائم کے معاملوں میں بھی حقائق سے قطع نظر سیاسی و نظریاتی وابستگی کے حساب سے حمایت اور مخالفت شروع ہو جاتی ہے۔ جموں میں کٹھوعہ معاملہ، کووڈ19- وبا کے دوران تبلیغی جماعت کا معاملہ اور دیگر کئی معاملے سامنے کی مثالیں ہیں۔
اس سلسلے میں بنگلہ دیش حکومت کی جانب سے جس طرح فوری طور پر کارروائی کی گئی وہ قابل تعریف ہے۔ بنگلہ دیش کی حکومت نے یہ واضح کر دیا کہ وہ کسی بھی طرح کے تشدد کو برداشت نہیں کرے گی اور قانون اپنا کام کرے گا۔ وزیراعظم شیخ حسینہ نے کہا کہ ’ہندوئوں کو بلا خوف عبادت کرنے کا اسی طرح حق ہے جس طرح مسلمانوں اور دیگر مذہبی طبقات کو حاصل ہے۔ انہوں نے بھی 1971 میں آزادی کی جنگ کے دوران مسلمانوں بھائیوں کے کندھا سے کندھا ملا کر لڑائی کی تھی اور بنگلہ دیش میں انہیں بھی برابر کے حقوق حاصل ہیں۔‘ اس سے ماحول بگاڑنے والے شر پسندوں کو واضح پیغام ملا کہ حکومت ان کا ساتھ صرف اس لیے نہیں دے سکتی کہ ان کا تعلق اکثریتی طبقہ سے ہے۔ بنگلہ دیش میں بھی سیاسی الزام اور جوابی الزام کا ماحول اکثر گرم رہتا ہے۔ برسراقتدار عوامی لیگ اور اہم اپوزیشن پارٹی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) مختلف معاملوں پر ایک دوسرے پر الزام تراشیاں کرتی رہتی ہیں لیکن عوامی لیگ کی طرح بی این پی نے بھی ان فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات کی بھر پور مذمت کی۔
بنگلہ دیش نے درحقیقت معاشی ترقی اور خوشحالی کا مزہ اچھی طرح سے چکھ لیا ہے، اس لیے وہ اکثریتی طبقہ کی مذہبی اشتعال انگیزی کے معاملے میں کافی حساس ہو گیا ہے۔ وہ نہیں چاہتا کہ کچھ نادان عناصر کی بے ہودہ حرکتوں کی وجہ سے ملک کی ترقی کی راہیں مسدود ہو جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ بنگلہ دیش کی حکومت نے فوری طور پر ان شر پسندوں کے خلاف سخت سے سخت اقدامات کرنا شروع کر دیے۔ تشدد کے واقعات کے بعد شیخ حسینہ کی حکومت نے پہلا کام متاثرہ کمیونٹی کے آنسو پونچھنے کا کیا، ملزمین کی فوری گرفتاری شروع کر دی گئی اور وزرا نے گھر گھر جا کر ہندوؤں سے رابطہ کیا۔ وزیراعظم شیخ حسینہ نے وزیرداخلہ کو تشدد میں ملوث تمام افراد کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت دی اور ان ہدایات پر عمل کرتے ہوئے فوری طور پر معاملوں کے اندراج اور گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ اس طرح کے اقدامات سے متاثرین میں اعتماد کا ماحول قائم ہوا ہے۔ انہیں اس بات کا احساس ہوا ہے کہ وہ بے سہارا یا بے یار و مددگارنہیں ہیں۔ ان میں یہ اعتماد پیدا ہوا ہے کہ کسی بھی وجہ سے ان کے ساتھ جو ظلم ہوا ہے، اس کے خلاف انہیں انصاف ضرور ملے گا۔
بنگلہ دیش نے مذہبی تشدد کا جس طرح جواب دیا وہ دنیا کی تمام اعتدال پسند جمہوریتوں کے لیے ایک پیمانہ اور مثال ہے۔ بلا تفریق سبھی طبقوں نے متحد ہو کر اقدامات کیے۔ یہ اقدامات سرحد پار کے سیاسی رہنمائوں کے لیے بھی ایک سبق ہے کہ فرقہ وارانہ تشدد اور نفرت انگیز جرائم سے کس طرح نمٹا جا سکتا ہے۔ بے قصور شہریوں کے خلاف انتقامی کارروائی سے انصاف نہیں مل سکتا۔ ماحول مزید خراب ہوتا ہے۔ بنگلہ دیش میں جو کچھ بھی ہوا اس کے خلاف بھر پور طریقے سے آواز اٹھانی چاہیے اور قصورواروں کو سخت سے سخت سزا دلانے اور متاثرین کو انصاف دلانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے مگر آئین و قانون کے دائرے میں۔ اگر ہم بھی وہی حرکتیں کریں جو شر پسندوں نے کی ہیں تو پھر فرق کیا رہ جائے گا۔ جب ہم بھی انہی کے راستے پر چلیں گے تو انہیں گنہگار کہنے کا ہمیں حق کیسے ملے گا؟
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS