ڈاکٹر وید پرتاپ ویدک: کیا اڈانی اسکینڈل بنے گا بوفورس؟

0

ڈاکٹر وید پرتاپ ویدک

صنعت کار گوتم اڈانی کو لے کر پارلیمنٹ کا یہ اجلاس تقریباً ٹھپ ہورہا ہے۔ اپوزیشن کے لیڈر سمجھ رہے ہیں کہ انہیں بوفورس کی طرح ایک بڑا ایشو ہاتھ لگ گیا ہے۔گزشتہ آٹھ نو سالوں میں مودی کو ہرانے کے لیے ہمارے لیڈروں نے کئی حربے اپنائے لیکن مودی کی شہرت بڑھتی ہی چلی گئی۔ اب اڈانی کے کاروبار پر آئی ہنڈن برگ کی رپورٹ نے انہیں اتنا پرجوش کر دیا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کا کام-کاج ٹھپ کرنے پر بضد ہوگئے ہیں۔ راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا اور مودی پر بنی بی بی سی کی فلم نے جتنا ہنگامہ برپا کیا، اس سے کہیں زیادہ بڑا طوفان آنے والا ہے۔ اب پارلیمنٹ کے باہر بھی دھرنوں، مظاہروں، پریس کانفرنسوں کاسلسلہ شروع ہونے والا ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ یہ معاملہ کیا مودی کا بوفورس بن سکے گا؟ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اڈانی اور مودی دونوں گجراتی ہیں، دونوں ایک دوسرے سے اچھی طرح واقف ہیں اور دونوں کے درمیان راست رابطہ بھی ہے۔اڈانی کی کمپنیوں کو ہندوستان کے سرکاری بینکوں نے جو قرض دیا ہے، اس کے پیچھے ان تعلقات کی طاقت سے کون انکار کرسکتا ہے، لیکن کیا مخالف پارٹیاں ثبوت دے کر یہ ثابت کر سکیں گی کہ اربوں-کھربوں روپے کے بڑے قرض اڈانی کو حکومت کے اشارے پر دیے گئے ہیں؟ اگر ہمارا اپوزیشن اس سے کچھ ٹھوس ثبوت اکٹھا کرسکا تو مودی سرکار بڑی مشکل میں پھنس جائے گی۔ لاکھوں لوگوں کو شیئر بازار میں جو اربوں- کھربوں کا نقصان ہورہا ہے، کیا وہ لوگ خاموش بیٹھیں گے؟ ابھی سے انہوں نے شور مچانا شروع کردیا ہے۔ ان میں سے کچھ بیباک لوگ جم کر اپوزیشن کا ساتھ دیں گے اور حکومت مخالف انکشاف میں شامل ہوجائیں گے۔ تعجب کی بات نہیں کہ بعض افسران بھی مجبوراً ان انکشافات میں شامل ہوجائیں۔ وہ اپنی جان بچانے کے لیے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ ابھی تو ریزرو بینک اور سرکاری ریگولیٹری اداروں نے اڈانی گروپ کے خلاف پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ اڈانی کے شیئرز کی قیمت ہر روز گر رہی ہے۔ حکومت اپنی چمڑی بچانے کے لیے اڈانی گروپ کے خلاف تحقیقات شروع کردے گی، اسے اپنے آپ کو بچانے کا ایک بہانہ مل جائے گا۔ بیرونی ممالک میں بھی اس گروپ کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔ اس کی وجہ سے مودی اور ہندوستان کی صاف ستھری امیج پر بھی سوالیہ نشان لگ رہا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ہنڈن برگ رپورٹ کے پیچھے کوئی مودی مخالف طاقتیں بھی سرگرم ہوں لیکن مودی حکومت اگر اپنی صفائی کا ٹھوس ثبوت فراہم نہ کرسکی تو کوئی تعجب نہیں کہ یہ ہنڈن برگ رپورٹ بوفورس جیسی بن جائے۔
(مضمون نگار ہندوستان کی خارجہ پالیسی کونسل کے چیئرمین ہیں)
[email protected]

 

 

 

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS