کورونا کا نیا ویرینٹ حقائق و تدابیر

0

لفظ کورونا یا کووڈ19 سے واقفیت 2019کے وسط سے عوام الناس کو ہوئی تھی۔ کلینڈر کے اعتبار سے اب ہم کووڈ کے ساتھ چوتھے سال میں داخل ہوگئے ہیں۔ جب پوری دنیا میں قدر اطمینا ن ہوا ،عوامی زندگی معمول پر آنے لگی اور کووڈ کے منفی اثرات سے متاثر افراد اس اثر سے باہر آنے لگے تو ایسے میں ایک بار پھر کووڈ کا شور مچ گیا۔ ہندوستان میںسب سے زیادہ اس پر بحث شروع ہوگئی۔ چین کے حوالے سے انتہائی خوفناک خبریں ہندوستانی میڈیا میں نشر ہونے لگیں، کہ چین میں ہزاروں افراد کووڈ کے نئے ویرینٹ کی زد میں آنے سے فوت ہورہے ہیں۔ وہاں اسپتالوں میں جگہ نہیں ہے۔ لاشیں اٹھانے والے نہیں ہیں۔اسپتالوں میں لاشیں رکھنے کی جگہ نہیں بچی۔ اسی طرح کے کچھ ویڈیو کلپ بھی نشر کئے گئے۔ اس کی تصدیق تو نہیںہوسکی لیکن تردید میں متعدد ویڈیو سو شل میڈیا پر وا ئرل ہونے لگے۔ خاص طور سے چین میں مقیم ہندوستانی شہریوں نے اپنے گھروالوں کے ساتھ ساتھ ہندوستانی عوام کو بھی اپنے ویڈیو پیغام ارسا ل کئے اور یہ بتایاکہ چین میں زندگی معمول پر ہے۔ انہوں نے اپنے اہل خانہ کے ساتھ عوامی مقامات پر بچوں کے کھیلنے کودنے کے ویڈیو بھی شیئر کئے۔ ساتھ ہی یہ بتایاکہ ہندوستان میں جس طرح کی خبریں خاص طورپر الیکٹرانک میڈیا میں نشر ہوئی ہیں۔ اس جیسی کوئی بات چین میں نہیں ہے۔ وہیں ہندوستان میں سرکاری سطح پر کووڈ کے نئے ویرینٹ سے بچاؤ کے لیے بڑے پیمانے پر انتظامات کئے جانے لگے۔ اتر پردیش سمیت متعدد ریاستوں میں سرکاری طورپر تمام اسپتالوں اور صحت مراکز پر ماک ڈرل کرکے کووڈ کے ہنگامی حالات سے نبرد آزما ہونے کی مشق کی گئی۔ جس میں نائب وزیراعلیٰ اوروزیر طب و صحت نے بھی شرکت کی اور اسپتال پہنچ کر کووڈ سے تحفظ، راحت کے انتظامات کا جائزہ لیا۔ وزیراعلیٰ نے بھی اعلیٰ سطحی میٹنگ کرکے متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کیں۔ خود وزیراعظم نے بھی اس کی سنگینی کے پیش نظراعلیٰ سطحی میٹنگ کی اور 2020 سے شروع ہوئے احتیاطی اقدامات پر عمل درآمد شروع ہوگیا۔ خاص طورپر عوامی مقامات پر ماسک لگانے کی ہدایات جاری کردی گئیں، خود وزیراعظم بھی متعدد تقاریب میں ماسک لگائے ہوئے نظر آئے۔ سرکاری طورپر عیسوی سال نو کی مبارکباد پیش کرنے کے ساتھ وزیر اعلیٰ یوگی نے عوام سے نئے سال کی تقاریب کو کووڈ احتیاط کے ساتھ منانے کی اپیل کی۔ اس سے حکومت کی فکر اور سنجیدگی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ کیونکہ کووڈ کی دوسری لہر میں جو نقصان ہواوہ بہت تکلیف دہ ناقابل فراموش ہے۔ تاریخ میں اس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔ اسی لیے حکومت اپنی باخبری اور سنجیدگی کا اظہار کرتے ہوئے عوام کو بھی باخبر کرنے اور احتیاط برتنے پر ز ور دے رہی ہے۔ حالانکہ حکومت کی اس پیش رفت پر طرح طرح سے تنقیدیں بھی ہورہی ہیں۔ سوشل میڈیا پر بہت زور شور سے اسے حکومت کا ایک پروپیگنڈہ قرار دیاجارہا ہے، کہایہ جارہا ہے کہ جب حکومت کسی مشکل مرحلہ میں آجاتی ہے تو وہ کووڈ کے بہانے عوام کی توجہ وہاں سے ہٹانے کا کام کرتی ہے۔ تنقید کرنے والوں کے سوال بھی عقلی دلائل پر مدلل نظر آتے ہیں کہ جب پورے ملک میں کووڈ سے تحفظ کی ٹیکہ کاری کرائی جاچکی ہے ، ایک۔ دو نیز بوسٹر خوراک تک دلائی جاچکی ہے تو خطرہ کس بات کا ہے۔ اگر خطرہ ہے تو ٹیکہ کاری کس بات کے لیے کی گئی ہے۔ یہ کہیں سیاسی نشیب وفراز کا معاملہ تو نہیں ہے۔ اگر واقعی کورونا ہے تو ائیر پورٹ کو اب تک بند کیوں نہیں کیاگیا۔ باہر سے آنے والے لوگوں کی ٹیسٹنگ کیوں نہیں کرائی جارہی ہے۔ تنقید کرنے والوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ 5۔جی ٹکنالوجی کے اثرات تو نہیں ہیں۔ حالانکہ یہ ٹکنالوجی دفاعی شعبہ میں استعمال ہونے والی ہے، کئی ممالک میں تو 7۔جی ٹکنالوجی بھی استعمال ہورہی ہے۔ لیکن وہاں اس طرح کا اثر نہیں ہے۔ پھر سچائی کیا ہے ۔ یہ نیا ویرینٹ کیا گل کھلائے گا؟ کہانہیں جاسکتا۔ لیکن یہ ضروری ہے کہ اب عوام میںبے چینی کے ساتھ ساتھ بے فکری بھی بڑھتی جارہی ہے۔ جو لو ک فکر مند ہیں وہ بھی اپنی روزی اور معمولا ت کے لیے فکرمند زیادہ ہیں۔ وہ اس بات کے لیے تیار نہیں ہیں کہ اب وہ گھر میں قید ہوکر بیٹھ جائیں، اس لیے وہ حکومت کی تنبیہ اور اپیل کے باوجود اب تک ماسک لگانے پر آمادہ نظرنہیں آرہے ہیں۔ شہروں میں اکثریت بغیر ماسک کے ہی اپنے معمولات کے کام کررہی ہے۔حقائق کیا ہیں یہ تحقیق طلب مسئلہ ہے،لیکن سرکاری اعلانات، انتظامات، اپیلیں اس بات کا واضح اشارہ کررہی ہیں کہ حکومت کسی بھی طرح کا کوئی رسک اٹھانے کے لیے تیار نہیں ہے ، کووڈ کا نیا ویرینٹ اثر انداز ہویا نہ ہو لیکن حکومت نے احتیاطی اقدامات پر عمل شروع کردیا ہے۔
[email protected]

 

 

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS