آہ کمال خان! بے داغ صحافت کا ایک روشن چراغ بجھ گیا

0

ڈاکٹر قاسم انصاری
عہدحاضر میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور جدید ذرائع ابلاغ کی اہمیت و افادیت اپنی جگہ مسلم ہے لیکن مادیت و صارفیت کے اس دور میں اس کے غلط استعمال کا چلن بھی عام ہو چلا ہے، اس کی بدترین مثال موجودہ ٹیلی ویژن صحافت ہے۔ گزشتہ چند برس میں اس باوقار پیشہ کا جو برا حال ہوا ہے اور جو شبیہ داغدار ہوئی ہے وہ کسی سے مخفی نہیں۔ہر خاص و عام اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ عہدحاضر میں ایماندار اور غیر جانبدارانہ صحافت کی توقع بے معنی ہے۔پھر بھی اس پر آشوب دور میں چند ایک نیوز چینل اور گنتی کے چند صحافی ہیں جنہوں نے اس مقدس پیشہ کی آبرو برقرار رکھی اور اس پیشہ کے تقدس کو پامال نہیں ہونے دیا، ان میں ایک معتبرچینل این ڈی ٹی وی انڈیا اور اس کے سینئر صحافی کمال خان ہیں جو لکھنؤ بیورو کے ہیڈ تھے اور لکھنؤ سے ہی انہوں نے ایسی شناخت قائم کی کہ وہ ملک بھر میں ایماندار اور غیر جانبدارانہ صحافت کی روشن مثال بن گئے۔یوں تو قومی راجدھانی دہلی کو میڈیا کا سب سے بڑا ہب کہا جاتا ہے، اس لیے بڑے اور معتبر صحافی بھی دہلی کا خاصہ ہوتے ہیں ایسے میں ایک صحافی کے لیے دہلی والوں کے سامنے اپنی صحافتی صلاحیتوں کا لوہا منوا نا آسان نہیں ہوتا ہے۔کمال خان نے اس کی عمدہ نظیر قائم کی اور اس بھرم کو توڑنے میں کامیاب ہوئے کہ مثالی قومی صحافت صرف دہلی سے ہی نہیں بلکہ دیگر شہروں و علاقوں سے بھی کی جاسکتی ہے۔این ڈی ٹی وی گروپ میں ان کا قد اس قدر بلند تھا کہ وہ دہلی بھی اپنا ٹرانسفر کرا سکتے تھے لیکن لکھنؤ میں رہ کر ہی انہوں نے دہلی والوں کو مات دے یدی اور صحافتی افق پر ایسی پہچان بنائی کہ وہ خود میں صحافت کا ایک دبستان کہلانے کے حقدار ہوگئے۔ ان کی خبروں، بے لاگ تبصروں،تجزیوں اور رپورٹنگ نے ہر ایک کو اپنا گرویدہ بنا یا۔اردو کے ممتاز افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کواس بات کا گمان تھا کہ وہ خود چلتے پھرتے ممبئی تھے۔منٹو کا یہ قول کمال خان پر صا دق آتا ہے جو خود میں چلتے پھرتے لکھنؤ تھے اور اس کی سیاسی و سماجی خبروں کو اپنے ساتھ لیے چلتے تھے۔
این ڈی ٹی وی گروپ میں تقریباً وہ دو دہائی سے زائد عرصہ تک وابستہ رہے۔اس عرصہ میں کمال نے صحیح معنوں میں صحافت کا حق ادا کردیا۔صحافت کو ایک کمزور و بے بس انسان کی لاٹھی کہا جاتا ہے، انہیں اپنے پورے کریئر میں اس بات کا احساس رہا، اسی لیے وہ کمزوروں، مظلوموں اور بے سہارا لوگوں کی آواز بن گئے۔ ان دنوں رپورٹنگ کئی طرح کی جاتی ہے۔ ان میں بڑا رپورٹر انہیں تصور کیا جاتا ہے جو پارلیمنٹ،پی ایم او یا بڑی سیاسی جماعتوں و عدالت عظمیٰ وغیرہ کو کور کرتے ہیں۔یعنی برسراقتدار حکومت کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ اس کی پالیسیاں یا خبریں عوام الناس تک پہنچ جائیں۔ ایسے صحافتی منظر نامہ میں کسی دوسرے علاقے کے صحافی کے چمکنے کے امکان بہت کم باقی رہ جاتے ہیں۔ دوسرے وہ صحافی ہیں جو چھوٹی جگہوں یا ریاستی راجدھانیوں میں کام کرتے ہیں لیکن ان کی نظر پورے قومی منظر نامہ پر ہوتی ہے۔ حکومت کی مختلف پالیسیوں، منصوبوں اور ان کی نیت پر بہت پینی نظر ہو تی ہے، ایسے میں بہت سے مظلوموں اور سماجی طبقات کی آواز دب جاتی ہے۔ان کی آواز ایوان بالا یا اقتدار اعلیٰ تک نہیں پہنچ پاتی۔ کمال خان کی صحافت کا تعلق اس دوسرے زمرہ سے ہے لیکن ان دونوں کی آمیزش سے وہ خبر کو اس طرح اٹھاتے کہ سماج کے مظلوم اور متوسط طبقہ کی آواز اقتدار اعلیٰ اور ایوان تک بیٹھے عہدیداران تک پہنچ جاتی اور ہر ایک پر ان خبروں کا خاص اثر ہوتا۔ اس رپورٹنگ کے وہ بے تاج بادشاہ تھے۔اسی وصف نے انہیں انفرادیت بخشی۔
کمال خان کا دوسرا سب سے بڑا کمال ان کی طرز ادا اور زبان و بیان کا خاص انداز ہے۔ غالب کو بھی اپنی اعلیٰ سخنوری کا احساس تھا۔کمال کو بھی یقینا رہا ہوگا لیکن اس کا اظہار انہوں نے بالکل نہیں کیا۔ ناظرین ان کے طرزانداز کے قائل ہیں۔ زبان و بیان پر انہیں زبردست قدرت و مہارت حاصل تھی، وہ ایک ایک لفظ اور اس کے معانی و مفاہیم پر بہت غور و فکر کرتے تھے۔ ٹی وی رپورٹنگ میں پیس ٹو کیمرہ کی بڑی اہمیت ہوتی ہے، وہ اپنی پوری رپورٹ بالخصوص پیس ٹو کیمرہ میں جس زبان و بیان کا انتخاب کرتے تھے، پوری موجودہ ٹی وی صحافت میں اس کی دوسری مثال نہیں ملتی۔ان کے اس ہنر پر ٹی وی صحافت میں کام کرنے والے صحافی نہ صرف رشک کرتے بلکہ ان سے بہت کچھ سیکھنے کی کوشش کرتے تھے۔مجھے اچھی طرح یاد ہے جب راقم الحروف کو 2003 میں ای ٹی وی نیوز ڈیلی بیورو میں ملازمت ملی۔ بیورو میں کام کرنے والے سبھی سینئر و جونیئر صحافی کمال خان کی رپورٹ کے ساتھ ان کے پی ٹی سی کو بغور سنتے،دیکھتے اور سیکھتے تھے۔یہ فقط ایک نیوز چینل کی بات نہیں بلکہ مختلف نیوز چینلوں کے نمائندوں میں ان کی خبروں کے چرچے ہوتے تھے۔ یہ سلسلہ کبھی رکا نہیں،ان کی عمر کی آخری سانس تک جاری رہا۔انہی خوب فولوکیا گیا اور انہوں نے بہت کچھ سکھایا۔اسی لیے ان کی موت پر انہیں ٹی وی صحافت کا ایک انسٹی ٹیوشن قرار دیا جا رہا ہے جو غلط نہیں ہے۔ان کا مطالعہ بہت وسیع تھا۔زبان وہ جو سیدھی دل و دماغ پر اتر جائے۔اپنے پیس ٹو کیمرہ میں وہ اقوال اور اشعار کا کثرت سے استعمال کیا کرتے تھے۔موقع محل کی مناسبت سے وہ الفاظ و اشعار کا انتخاب کرتے تھے اسی لیے وہ دوسروں سے مختلف تھے۔بڑی سے بڑی خبر اور پیچیدہ سے پیچیدہ مسئلہ کو وہ پہلے خود بہت باریکی سے سمجھتے اور پھر اپنے مخصوص انداز میں اس طرح سمجھا تے کہ تعلیم اور غیرتعلیم یافتہ طبقے کے لوگ ان کی خبر اور اس کے مقصد دونوں کو بخوبی سمجھ لیتے تھے۔13 جنوری کی شام اترپردیش کی موجودہ سیاسی اتھل پتھل پر ان کی خبر ہر ایک کے دل و دماغ پر ہوگی۔ ملک میں ہر سال یوم ہندی منایا جاتا ہے۔ کمال خان نے ایک موقع پر اس کی جو رپورٹنگ کی اس کی مثال دور تک نہیں ملتی۔واقعہ یوں ہے کہ کسی شاہراہ پر میونسپلٹی کے ایک ڈسٹ بن پر سنسکرت آمیز مشکل ہندی میں ایک عبارت درج تھی ہندی کے چلن کو عام کرنے کے مقصد سے پہلے تو انہوں نے سرکاری عملہ کی تنقید کی اور مختلف کمپنیوں کے اشتہار سے عام فہم ہندی کا موازنہ کیا جس کی زبان ٹھنڈا مطلب کو کا کولا تھا۔ ان کی صلاحیتوں پر جتنی روشنی ڈالی جائے کم ہے۔
کمال خان ایک بہترین انسان تھے۔انسان اور انسانیت سے محبت ان کا ایقان تھا، اسی لیے ہر طبقہ کے لوگ ان کی موت پر رنجیدہ ہیں۔وہ ملک کی ملی جلی تہذیب کے نمائندے تھے اور ہر ایک کو عدل و انصاف ملے، اس کے لیے وہ کوشاں رہے۔سیکولر و جمہوری اقدار کی پاسداری ان کا شیوہ تھا۔ نفرت کو محبت میں تبدیل کر نے کا ہنر وہ بخوبی جانتے تھے، اسی لیے ہر ایک دل کو انہوں نے قریب سے چھو ا۔موت ایسی کہ جس پر ہر آنکھ نم ہو اور ہنر ایسا کہ جس پر ہر ایک رشک کرے۔ ان کی موت سے سماج اور ملک دونوں کو نا قابل تلافی خسارہ ہوا بقول جگر مراد آبادی
جان کر منجملہ خاصان میخانہ مجھے
مدتوں رویا کریں گے جام پیمانہ مجھے

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS