مصر کی نہر سوئز میں حالیہ رکاوٹ اورعالمی تجارت

0

ڈاکٹر سید ظفر محمود

مصر میں نہر سوئز بحیرہ روم (Mediterranean Sea) کوبحیرہ احمر (Red Sea)سے جوڑتی ہے، عالمی تجارت کو آسان بنانے کے لیے کرۂ ارض پر یہ انوکھی سہولت ہے جس کا شمار دنیا کی اہم ترین سمندری نسوں میں ہوتا ہے،اس نہر کی193کلومیٹر کھدائی کا کام 1859 میں شروع ہوا تھا، اس کام میں دس لاکھ مصری شہریوں نے حصہ لیا تھا اوراس کی کھدائی کے دوران 1,30,000 مصری مزدور غرقاب ہو گئے تھے۔یہ نہر اس وقت یوروپ کو اس کے زیر استعمار کالونیوں سے بھی جوڑتی تھی۔ مصر کے وزیردفاع احمد عرابی نے وہاں پر تعینات سلطنت عثمانیہ کے وزیراعظم خدیو محمد توفیق باشا کے خلاف بغاوت کردی تھی جنھوں نے اس بنا پر برطانیہ کو مصر میں مداخلت کرنے کے لیے مدعوکیا۔ لہٰذا 1882 میں برطانیہ نے مصر پر بمباری کرکے اسکندریہ پر قبضہ کر لیاتھا لیکن اس کے آگے بڑھنے میں وہ ناکام رہا۔ عرابی نے نہر سوئز کو پاٹنے کا پلان بنایا تاکہ برطانوی فوج اندرون مصر داخل نہ ہوپائے۔لیکن سوئز کمپنی کے صدر فردیینوں دی لیسیپس نے عرابی کو بہکایا کہ کمپنی کی زیادہ تر ملکیت فرانس و دیگر ممالک کے پاس ہے اس لیے برطانیہ نہر سوئز کی طرف نظر اٹھانے کی ہمت نہیں کرے گا۔ 13 ستمبر1882 کو برطانوی فوج نہر سوئز کے ذریعہ مصر میں داخل ہو گئی، 1396 مصری فوجی مارے گئے۔ پھر1956 میں صدرجمال عبدالناصر نے نہر سوئز کو مصر کی قومی ملکیت (Nationalization)میں لے لیا جس کے تین ماہ کے اندر ہی نہر کے پوربی کنارے پر اسرائیلی فوج نے حملہ کر دیا جس میں فرانس اور برطانیہ نے اسرائیل کا ساتھ دیا۔ اس کے بعدپھر جون 1967 میں اسرائیل نے مصر، شام اور اردن پر حملہ کر کے نہر سوئز کے پورب میں جزیرہ نما سیناء پر قبضہ کر لیا۔اس دوران1956 اور 1967کی جنگوں کے بعدبتدریج پانچ ماہ اور آٹھ برس کے لیے نہر سوئز بند رہی تھی۔بعد ازاں 1973 میں مصری فوج نے نہر سوئز پار کر کے اس کے پورب میں جوابی حملہ کیاجس کے بعد 1978 کے کیمپ ڈیوڈ معاہدہ کے تحت جزیرہ نماسیناء کی خود مختاری مصر کو واپس مل گئی، جبکہ نہر پر تو 1956 سے ہی حکومت مصر کا کنٹرول ہے۔گزشتہ برس 2020میں نہر سوئز سے 18,829 جہاز گزرے تھے جن کے ذریعہ 1.17 ارب ٹن تجارتی سامان کی عالمی نقل و حمل ہوئی اور اس سے 5.61 ارب امریکی ڈالر کی آمدنی ہوئی۔

گزشتہ دنوں نہر سوئز کے بند ہوجانے سے دنیا بھر میں بھاری مالی نقصانات ہوئے پھر بھی بازیافتی دستوں نے چاندنی اور سمند ر کے مد و جزر(Tide)کا فائدہ اٹھا کر نہر میں پھنسے ہوئے2,20,000 ٹن مال سے لدے ہوئے1,300 فٹ مدار والے ضخیم کارگو جہاز ایور گیون (Ever Given)کو کھسکانے میں کامیابی حاصل کرلی، اس جہاز کو چلانے والی تائیوانی کمپنی کا نام ہے ایور گرین(Evergreen)۔کمپنی کا کہنا ہے کہ جہاز کے خشکی میں چلے جانے کی وجہ تھی ریتیلے طوفان کے ساتھ گرم ہوا، لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ اس میں انسانی خطا کا بھی شائبہ ہے۔

گزشتہ دنوں نہر سوئز کے بند ہوجانے سے دنیا بھر میں بھاری مالی نقصانات ہوئے پھر بھی بازیافتی دستوں نے چاندنی اور سمند ر کے مد و جزر(Tide)کا فائدہ اٹھا کر نہر میں پھنسے ہوئے2,20,000 ٹن مال سے لدے ہوئے1,300 فٹ مدار والے ضخیم کارگو جہاز ایور گیون (Ever Given)کو کھسکانے میں کامیابی حاصل کرلی، اس جہاز کو چلانے والی تائیوانی کمپنی کا نام ہے ایور گرین(Evergreen)۔کمپنی کا کہنا ہے کہ جہاز کے خشکی میں چلے جانے کی وجہ تھی ریتیلے طوفان کے ساتھ گرم ہوا، لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ اس میں انسانی خطا کا بھی شائبہ ہے۔اسی روز 12 جہاز نہر سے گزر چکے تھے، گزشتہ وقت میں اس سے بھی بڑے طوفان میں جہاز نہر سوئزسے گزرے ہیں۔ ایور گیون جہاز پر سوارکارگو میں کار، تیل، لیپ ٹاپ وغیرہ شامل تھے جنھیں ایشیا اور مشرق وسطیٰ سے یوروپ اور امریکہ (پوربی ساحل)بھیجا جا رہا تھا۔راستہ بند ہونے سے 450 جہاز ایک ہفتہ تک لائن میں کھڑے گزرگاہی کے منتظر رہے، جن پر صرف کچا تیل ہی 9.8 ملین بیریل سوار تھا جو روزانہ کے عالمی استعمال کا دسواں حصہ ہے۔محققین کا خیال ہے کہ اس رکاوٹ کی وجہ سے عالمی تجارت میں 10 ارب امریکی ڈالر کااوسط یومیہ خسارہ ہوا ہے۔ہاںاس دوران انتظار نہ کرتے ہوئے بہت سے جہاز واپس مڑ کے براعظم افریقہ کے جنوبی ساحل سے گزرکر بہت لمبا متبادل راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوگئے جس کی وجہ سے انھیں صرف ایندھن پرہر روز 26,000 ڈالر کا اضافی خرچ کرتے ہوئے کئی ہفتہ زیادہ کا سفر کرنا ہے، ایک جہاز تو دوبارہ یو ٹرن کر کے نہر سوئز کی طرف چل پڑاہے۔ افریقہ کے کیپ آف گوڈ ہوپ سے ہو کر گزرنے والا یہ متبادل راستہ خطرناک بھی ہے،یہ سمندری سفر کی کہانیوں میں خاصہ بدنام ہے، اس راستہ میں سیکڑوں تباہ شدہ جہازوں کا ملبہ موجود ہے، اسے جہازوں کا قبرستان بھی کہا جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ اس کا نام کیپ آف گوڈ ہوپ پرتگال کے بادشاہ جان دوم نے اس لیے رکھا تھاکہ اس بحری راستہ کی ایجاد کے بعد یوروپ سے ہندوستان پہنچنا آسان ہو گیاتھا۔ 1852 کے دوران افریقہ کے جنوبی ساحل کے پاس سمندر میں ڈوبی ہوئی چٹان سے ٹکرانے کے بعد فوجیوں اور کچھ عام شہریوں کو لے جاتے ہوئے برطانیہ کے جہاز برکین ہیڈ(Birkenhead)کو ہنگامی حالات میں خالی کروانے کے سلسلہ میں ’سب سے پہلے عورتیں اور بچے‘ کا فقرہ ایجاد ہوا تھا، تب جہاز پر سوار 643 افراد میں سے صرف 193 ہی بچائے جا سکے تھے۔
انگلستان سے ایشیا کے درمیان مرچنٹ جہاز آرنسٹن (Arniston) 1815 میں کیپ آف گوڈ ہوپ کے پاس سمندری طوفان میں پھنس گیا تھااور پتھریلے ساحل سے اس کی ٹکر ہو گئی تھی، جہاز پر سوار 378 لوگوں میں سے صرف 6 افراد بچ سکے تھے وہ بھی اس وجہ سے کہ وہ ماضی میں غرق شدہ کسی جہاز کے ملبے کے سہارے تیرتے رہے اور پھر دو ہفتہ تک وہ ایک غار میں رہے جہاں وہ ملبہ میں سے حاصل کیا ہوا دلیہ کھاتے رہے تھے۔نیویارک کے صحافی رک گلیڈسٹون کے مطابق کیپ آف گوڈ ہوپ کے پاس جہازوں کا اس قدر ملبہ ہے کہ جنوبی افریقہ نے وہاں تفریحی پکنک کے طور پر ہائکنگ یعنی طویل پیدل سفر کا بندوبست کررکھا ہے، وہاں 1682 سے 1992کے دوران 120 جہاز تباہ ہوئے تھے۔آسٹریلیاکا مسافر جہاز واراتہ جسے آسٹریلیا کا ٹائیٹینک بھی کہا جاتا ہے، 2009 میں ڈربن سے کیپ ٹائون کے درمیان اچانک ڈوب کر غائب ہوگیا، نہ جہاز کا کچھ پتہ چلا اور نہ اس پر سوار 211 افراد کا۔رابن ناکس جانسٹن نے تاریخ میں پہلی دفعہ 1968-69 میں دنیا کے چاروں طرف تنہا بحری سفر کرنے کا خطاب حاصل کیا تھا، انھوں نے کہا ہے کہ نہر سوئز سے ہو کر گزرنے والوں کو چاہیے کہ وہ مجبوراً کیپ آف گوڈ ہوپ کی طرف ممکنہ انحراف کے لیے اپنے ٹائم ٹیبل میں 14 دن کا اضافہ کرلیں۔ یاد رہے کہ 2012میں ملک اٹلی کے ساحل کے قریب بحری سفر والا جہاز کوسٹا کانکارڈیا(Costa Concordia) پانی میں الٹ گیا تھا تب اس جہاز کو بچا کے نکال لینے والے عمل کے سربراہ کیپٹن نک سلون نے بتایا ہے کہ نہر سوئز کے حالیہ بحران میں سمندر اور جہاز کے سروے کے بعد کمپیوٹر ماڈل کے ذریعہ طے کیا گیا کہ سمندری فرش کی کھدائی اس طور پر ہو کہ جہاز کو نقصان نہ پہنچے۔اگراس عمل میں لگی ہوئی کھینچنے والی کشتیاں (Tugboats)، کھدائی کرنے والی مشینیں (Dredgers) اور پمپ کامیاب نہیں ہوتے تو اس کا تیل باہر نکالنے کے لیے ٹینکرکے ساتھ جہاز پر سے کنٹینروں کو اتارنے کے لیے دنیا کے سب سے بڑے کرین اور ہیوی ڈیوٹی ہیلی کاپٹروں کا استعمال کرنا پڑسکتا تھا۔
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS