غزہ میں گولہ باری سے خاتون کی موت کی خبر، شہریوں کے تحفظ اور امداد کا سوال برقرار

0
غزہ کی فائل فوٹو، روزنامہ سہارا کی میڈیا لائبریری؛ ۸ اکتوبر کے حملے کی تصویر نہیں۔
غزہ کی فائل فوٹو، روزنامہ سہارا کی میڈیا لائبریری؛ ۸ اکتوبر کے حملے کی تصویر نہیں۔

غزہ، ۸ اکتوبر: فلسطینی خبر رساں ادارے وفا نے اطلاع دی ہے کہ غزہ شہر کے شمال مغرب میں اسرائیلی توپ خانے کی گولہ باری سے ایک خاتون کی موت ہوئی اور کئی فلسطینی زخمی ہوئے۔ ادارے کے مطابق حملہ الخزندار اسٹیشن کے آس پاس کے علاقے میں ہوا۔ خبر مقامی ذرائع کے حوالے سے دی گئی ہے۔ دستیاب رپورٹ میں مرنے والی خاتون کی شناخت، زخمیوں کی درست تعداد یا اس مخصوص واقعے پر اسرائیلی فوج کا جواب شامل نہیں ہے۔ اس لیے اس واقعے کی تفصیل کو وفا کی اطلاع کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

یہ خبر ایسے وقت آئی ہے جب اکتوبر ۲۰۲۳ کے حملوں اور اس کے بعد کی جنگ کو تین سال ہو چکے ہیں۔ اس مدت کی یاد میں اسرائیل میں تقریبات ہوئیں، جبکہ غزہ میں بڑی آبادی تباہ شدہ گھروں، بے گھری اور بنیادی سہولتوں کی کمی کے ساتھ زندگی گزار رہی ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کی ۷ اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق پچھلے سال کی جنگ بندی کے بعد بڑے پیمانے کی لڑائی کم ہوئی، مگر اسرائیلی حملے جاری رہے۔ اسرائیل ان کارروائیوں میں حماس کے جنگجوؤں کو نشانہ بنانے کی بات کرتا ہے؛ شہری آبادی کو پہنچنے والا نقصان الگ اور مسلسل تشویش کا موضوع ہے۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے تین سال مکمل ہونے پر اپنے پیغام میں ۷ اکتوبر کے حملوں کی مذمت کی اور متاثرین کو یاد کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے ایسے مستقبل کی ضرورت پر زور دیا جس میں اسرائیلی اور فلسطینی برابر وقار، حقوق، امن اور سلامتی کے ساتھ رہ سکیں۔ اس پیغام کی اہم بات دونوں طرف کے عام لوگوں کی جان اور حقوق کو مرکز میں رکھنا ہے۔ کسی حملے کا غم دوسرے شہریوں کے دکھ کو نظر انداز کرنے کی وجہ نہیں بن سکتا۔ جنگ کے دوران عورتوں، بچوں اور دوسرے غیر لڑاکا افراد کی حفاظت اسی بنیادی انسانی سوال کا حصہ ہے۔

ستمبر کی اقوام متحدہ کی UNSCO رپورٹ زیادہ وسیع پس منظر پیش کرتی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ۱۰ اکتوبر ۲۰۲۵ کی جنگ بندی نے بڑے پیمانے کی لڑائی روکنے میں اہم کردار ادا کیا، لیکن تباہی کے اثرات باقی ہیں۔ رپورٹ نے غزہ میں بمباری سے کمزور ہو چکی عمارتوں کے خطرے کا ذکر کیا۔ اس کی مثال ۱۶ ستمبر کو تل الہوا میں ایک خراب عمارت گرنے کا واقعہ ہے، جس میں کم از کم ۲۱ افراد، بشمول آٹھ بچے، مارے گئے۔ یہ گزشتہ مہینے کا واقعہ ہے، جمعرات کی گولہ باری کا حصہ نہیں۔

اسی رپورٹ میں امدادی اداروں کو رسائی، سامان اور فنڈ کی رکاوٹوں کا سامنا ہونے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔ ستمبر کے جائزے کے وقت ۲۰۲۶ کی ہنگامی امدادی اپیل کے لیے صرف ۴۰ فیصد رقم حاصل ہوئی تھی۔ اس عدد کو آج کی تازہ مالی صورت حال سمجھنا درست نہیں ہوگا، لیکن یہ امداد کی کمی کا اہم پس منظر ہے۔ جب لوگوں کے گھر تباہ ہوں، پانی اور علاج کے انتظام کمزور ہوں اور آمدنی کے ذرائع متاثر ہوں، تو امداد کی تاخیر کا بوجھ سب سے پہلے کمزور خاندانوں پر پڑتا ہے۔

پس منظر کے طور پر غزہ میں شہری سلامتی کو صرف حملے رکنے کی خبر سے نہیں پرکھا جا سکتا۔ محفوظ رہائش، علاج تک رسائی، صاف پانی، بچوں کی پڑھائی اور امدادی کارکنوں کے لیے کام کرنے کی جگہ بھی زندگی بحال ہونے کے ضروری حصے ہیں۔ ملبے میں رہنا اس بات کی ضمانت نہیں کہ خطرہ ختم ہو گیا ہے؛ کمزور عمارتیں اور خراب بنیادی ڈھانچہ الگ خطرات پیدا کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ اسی وسیع مسئلے کو سامنے رکھتی ہے، جبکہ جمعرات کی وفا رپورٹ ایک نئے جانی نقصان کی اطلاع دیتی ہے۔

اس وقت ضروری فرق یہ ہے کہ ایک جانب مخصوص حملے کی محدود ابتدائی اطلاع ہے اور دوسری جانب کئی ماہ کی انسانی صورت حال کے دستاویزی جائزے ہیں۔ دونوں کو ملا کر غیر مصدقہ ہلاکتوں کا نیا مجموعہ نہیں بنایا جا سکتا۔ تازہ واقعے کے لیے مزید طبی اور آزاد تصدیق، اور متعلقہ فریق کا جواب اہم ہوگا۔ وسیع سطح پر شہریوں کی حفاظت اور امداد کی محفوظ رسائی وہ سوال ہیں جو ہر نئی خبر کے ساتھ دوبارہ سامنے آتے ہیں۔ روزنامہ سہارا یہ اعداد اور بیانات ان کے اصل ذرائع اور تاریخوں کے ساتھ پیش کر رہا ہے۔

حوالہ جات

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS