جو لطف آرہا ہے سبھی کو بہار میں خیرات لینے جاتی ہے انکے دیار میں

0

جو لطف آرہا ہے سبھی کو بہار میں
خیرات لینے جاتی ہے انکے دیار میں
ذرے ہوں پھول یاوہ شجرہوں کھجورکے
نوری ہرایک چیز ہے ان کے دیار میں
سرکارکاہے معجزہ ‘سنتے ہیں بالیقیں
یہ اور بات دم نہیں اپنی پکار میں
انکی نوازشات کی برسات دیکھنا
” فریاد امتی جو کرے حال زار میں”
شاہان کائنات میں ملتی نہیں ہیں وہ
جو خوبیاں ہیں آمنہ کے شہریارمیں
حضرت امیرخسرو نے فرمایا اے شہیر
آقا ہیں شمع مجلس پروردگارمیں
شہیر خالدی