اسرائیلی فورسز کی فائرنگ میں 3 فلسطینی جاں بحق

0

نابلس (یو این آئی) : فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں بدامنی اور دائیں بازو کے اسرائیلی سیاست دانوں کے حساس مذہبی مقام پر جھڑپوں کے دوران ایک نوجوان سمیت دو فلسطینی جاں بحق ہوگئے ۔ڈان میں شائع غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کی رپورٹ کے مطابق فلسطین کے وزارت صحت نے کہا ہے کہ شمالی مغربی کنارے کے شہر نابلس میں قابض اسرائیلی فورسز کے حملوں کے دوران گولی لگنے سے 15 سالہ مہدی محمد حشش جاں بحق ہوگیا۔اسرائیلی فورسز کا کہنا ہے کہ ‘وہ مقبرہ یوسف میں عبادت گزاروں کے داخلی راستے میں لوگوں کی حفاظت کے لیے وہاں موجود تھے ’، اس حساس مقام پر جھڑپیں اور تشدد عام ہے ۔انہوں نے کہا کہ جائے وقوع پر گولیوں کی آوازیں سنی جس کے بعد اسرائیلی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے بم نصب کرنے والے دہشت گرد پر گولیاں چلائی تھی، اسرائیل فورسز نے 15 سالہ مہدی محمد حشش کا براہ راست نام لیے بغیر کہا کہ ‘ہم نے اس دہشت گرد کو گولیوں سے ہلاک کردیا۔فلسطینی ہلال احمر نے کہا ہے کہ اسرائیلی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں 3 افراد زخمی ہوگئے تھے ۔فلسطینی صدر محمود عباس کی سیکیولر فاتح تحریک کے ایک ونگ الاقصیٰ شہداء بریگیڈز نے بیان جاری کیا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ مہدی محمد حشش ان کا ساتھی ہے ۔بعد ازاں 9 نومبرکو اہل خانہ اور دوستوں نے مہدی محمد حشش کو سپرد خاک کردیا۔یہودی تنظیم نے کہا کہ اسرائیل کے موجودہ قانون ساز اور یکم نومبر کو حلف اٹھانے والے نو منتخب ارکان سمیت 8 اسرائیلی سیاست دان یوسف کے مقبرہ کا دورہ کررہے ہیں۔ان میں تجزیہ کار ہاک بینجمن نیتن یاہو کے دائیں بازو کی لیکود پارٹی کے ارکان اور انتہائی دائیں بازو کے مذہبی صیہونیت بلاک کے اتحادی شامل ہیں وزارت صحت نے بتایا کہ جنین شہر کے مغرب میں ایک الگ واقعہ میں اسرائیلی فورسزکی فائرنگ سے 29 سالہ رفعت عیسیٰ جاں بحق ہوا، فلسطین کی سرکاری نیوز ایجنسی وفا کے مطابق رفعت عیسیٰ مغربی کنارے کی سرحد پر اسرائیل کی تعمیر کردہ رکاوٹوں کے قریب گولی لگنے سے جاں بحق ہوگیا تھا۔اس علاقے میں ہونے والی جھڑپوں کے حوالے سے فوری طور اطلاعات موصول نہیں ہوئی لیکن اس سے قبل بھی کئی فلسطینی ان رکاوٹ کو عبور کرنے کی کوشش میں گولی لگنے سے جاں بحق ہوچکے ہیں، البتہ اسرئیلی فوج نے اس حوالے سے فوری طور پو کوئی معلومات فراہم نہیں کی۔