اردو صحافت کے 200 سال میں سہارا کے 23سال

0

عبد الماجد نظامی
گروپ ایڈیٹر
روزنامہ راشٹریہ سہارا
بیسویں صدی جب دنیا کو خیر آباد کہہ رہی تھی اور ایک نئی صدی یعنی اکیسویں صدی کا آغاز ہو رہا تھا تو صرف ایک تاریخ ہی نہیں بدل رہی تھی بلکہ ایک نئے ملینیم کا بھی آغاز ہو رہا تھا۔ دنیا بھر کے نقشہ پر بے شمار تبدیلیوں کی ایسی کونپلیں پھوٹنے کے اشارے مل رہے تھے جو بعد کی تاریخ میں پورے انسانی سماج کو متاثر کرنے والی تھیں۔ ایسی ہی ایک تبدیلی ہندوستان کی سطح پر اردو صحافت کی دنیا میں بھی ہونے جا رہی تھی۔ روزنامہ راشٹریہ سہارا اردو کے ستارہ کا ہندوستانی افق پر طلوع ہونا ایک غیر معمولی واقعہ تھا۔ اس بات کی گواہی ہر وہ شخص دے گا جس نے آزاد ہندوستان میں خاص طور سے اردو صحافت کو غور سے دیکھا اور پرکھا ہے اور راشٹریہ سہارا اردو نے کس ڈھنگ سے فکر و قلم کو جلا بخشنے اور تاریخ کو ریکارڈ کرنے اور مشکل ترین و پیچیدہ واقعات و حالات کو آسان اور قابل فہم انداز میں پیش کرنے کی ذمہ داری اٹھائی ہے، اس کا جائزہ لیا ہو۔ راشٹریہ سہارا کی خدمات کو صحیح انداز میں سمجھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ پہلے اس بات کو سمجھا جائے کہ عالمی اور مقامی سطح پر وہ کیا حالات تھے جن میں راشٹریہ سہارا نے صحافت کی خدمت ایمانداری کے ساتھ اور پیشہ ورانہ ڈھنگ سے کرنے کا عزم کیا تھا۔ ابھی اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ راشٹریہ سہارا نے تبدیلیوں کے ہجوم میں اپنے سفر کا آغاز کیا تھا، اس لیے اس بات کو اجاگر کرنا ضروری ہے کہ عالمی اور ملکی سطح پر آخر وہ تبدیلیاں کیا تھیں جن سے ایک نئے ورلڈ آرڈر کا آغاز ہو رہا تھا؟ جن کے اثرات دنیا نے اکیسویں صدی کی ابتدا کے محض ایک سال بعد ہی دیکھنا اور محسوس کرنا شروع کر دیا۔ آج اس ملینیم پر دو دہائی کے گزر جانے کے بعد اگر ان عظیم سانحوں اور تبدیلیوں کی فہرست تیار کی جائے تو بلا شبہ یہ کہنا ہوگا کہ سپر پاور امریکہ میں رونما ہونے والے نائن الیون کے واقعات کو اولیت کا درجہ حاصل ہوگا۔ اس کو اولیت کا درجہ اس لیے حاصل ہوگا، کیونکہ 1776 میں امریکہ کی سامراج سے آزادی اور خانہ جنگی کے بعد شاید ہی کوئی ایسا واقعہ امریکہ کی سر زمین پر رونما ہوا ہو جس کے اثرات داخلی اور خارجی دونوں سطح پر اس قدر دور رس اور تباہ کن رہے ہوں جتنا کہ نائن الیون کے واقعات کے رہے ہیں۔ داخلی طور پر امریکہ کو پہلی بار یہ محسوس ہوا کہ وہ انسانی دنیا سے باہر سیاروں میں گردش کرنے والا کوئی آسمانی ٹکڑا نہیں ہے جہاں تک ایسی قوتیں نہیں پہنچ سکتیں جو اس کے مفادات کو متاثر کر سکیں۔ یہ حملہ امریکہ کے احساس بلندی اور ناقابل تسخیر قوت ہونے کے زعم پر ایسی سخت ضرب تھی کہ اس نے امریکہ کے پورے وجود کو لرزاں و ترساں کرکے چھوڑ دیا اور وہاں کے لیڈران اور عوام دونوں کو نفسیاتی طور پر ایک عجیب بوکھلاہٹ میں مبتلا کر دیا۔ جب اس حملہ کے خلاف رد عمل کا وقت آیا تو امریکہ کے سامنے دوسری پریشانی یہ تھی کہ امریکہ اپنے مہلک ترین ہتھیاروں کو آخر کس ملک کے خلاف استعمال کرے؟ کیونکہ وہ ایسے حملہ آور تھے جن کے پاسپورٹ پر ملک کا نام تو تھا لیکن دشواری یہ تھی کہ وہ ملک امریکیوں کے دوستوں کی فہرست میں اول مقام پر فائز تھا۔ جارج ڈبلیو بش جس کا باپ جارج بش سینئر پہلی خلیجی جنگ میں نوے کی دہائی میں فاتح بن کر ابھرا تھا اور امریکی رسوخ کو پورے مشرق وسطیٰ میں پھیلانے میں بڑا رول ادا کیا تھا، آج حیران تھا کہ آخر دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آغاز کہاں سے کیا جائے؟ جارج ڈبلیو بش
نے بطور امریکی صدر اپنی قوم اور دنیا سے جو خطاب اس واقعے کے فوراً بعد کیا تھا، اس سے صاف اندازہ ہوتا تھا کہ اس کی نظر میں یہ جنگ اسلام اور عیسائیت کے درمیان ہوگی۔ گویا کہ نئے کروسیڈ ایج کا آغاز ہونے جا رہا تھا۔ بش جونیئرنے خود لفظ کروسیڈ کا استعمال اپنے خطاب میں کیا تھا۔ اس کے بعد دہشت گردی کے خلاف جب فوجی کارروائی کے لیے مشن کا آغاز کیا گیا تو اس کا نام بھی Infinite justice رکھا گیا جس کو بعد میں تبدیل کر دیا گیا، کیونکہ امریکی مشیرکاروں نے بش جونیئر کو بتایا کہ بائبل کے مطابق ایسا نام رکھنا درست نہیں ہوگا، کیونکہ Infinite justice صرف خالق کائنات کا حق ہے۔ اس کی تفصیل اروندھتی رائے کی کتاب میں پڑھی جا سکتی ہے جو اسی نام سے لکھی گئی تھی اورامریکی پالیسیوں کی خامیوں کو بیان کرنے کے لیے ایک موثر کتاب سمجھی جاتی ہے۔بہرصورت اس
جنگ کی سب سے بڑی قیمت مسلم دنیا نے چکائی اور عام مسلمان عالمی برادری میں ایک اچھوت بناکر رکھ دیا گیا جسے اپنے ایمان اور تشخص کی حفاظت کے لیے بے شمار اور مہنگی قیمتیں چکانی پڑیں۔ افغانستان سے لے کر پاکستان اور عراق سے لے کر لیبیا و شام کوئی ایسا ملک نہیں بچا جس نے امریکہ کے اس عالمی اعلان کی قیمت نہ ادا کی ہو کہ یا تو آپ امریکہ کے ساتھ ہیں یا امریکہ کے دشمن ہیں۔ آج تک مسلمان اور مسلم دنیا نائن الیون کے منفی اثرات سے باہر نہیں آسکے ہیں۔ یہ نائن الیون کا ہی پس منظر تھا کہ اس وقت کے بعد سے اپنے ملک ہندوستان میں بھی بڑی تبدیلی آئی اور دہشت گردی کے نام پر ملک بھرمیں گرفتاریوں کا طویل سلسلہ شروع ہوا جو آج بھی جاری ہے۔ اس کے علاوہ گجرات فسادات اور حالیہ دنوں کی ہجومی اموات لنچنگ بھی اسی کا منطقی نتیجہ ہے۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ ایسے قومی اور بین الاقوامی تناظر میں راشٹریہ سہارا نے جب اپنا کام شروع کیا تو اول دن سے ہی اس
کی یہ کوشش رہی کہ جذباتیت کے طوفان میں بہے بغیر صحافتی اصولوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے پوری دیانت داری کے ساتھ دیش اور دنیا بھر میں اٹھنے والی نفرت کی آندھی کا مردانہ وار مقابلہ کیا جائے۔ راشٹریہ سہارا نے اردو صحافت کی اس
روایت کو کبھی پامال نہیں ہونے دیا جس کی ابتدا آج سے دو سو سال قبل ہوئی تھی اور جس پر تفصیلی مضمون اسی کالم میں پہلے لکھا جا چکا ہے۔ راشٹریہ سہارا اس دعوے میں حق بجانب ہوگا کہ اس نے ’جہاں نما‘ اور ’الہلال‘ و ’البلاغ‘
کی روح اور مشن کو نہ صرف جاری رکھا بلکہ اسے ہر روز بہتر بنانے کی بھی کوشش کی۔ یہ کہنا تو بے ادبی ہوگی کہ راشٹریہ سہارا نے ابوالکلام آزاد یا عبدالماجد دریابادی اور علامہ سید سلیمان ندوی جیسا رنگ و آہنگ پیدا کیا ہو لیکن اس سے انکار بھی ممکن نہیں کہ یہ اردو کو بدلتے حالات اور عہد جدید کی زبان و اصطلاحات کے ساتھ ہم آہنگ بنانے میں کبھی کوتاہ نہیں رہا۔ جہاں ایک طرف اس نے نفرت کی تہذیب کے خلاف انسانیت نوازی اور دستوری حقوق کی بازیابی کے اصولوں کو پروان چڑھانے میں اپنا مثبت کردار ادا کیا وہیں دوسری طرف مولانا برکت اللہ کی سیکولرزم کے ساتھ جو گہری وابستگی تھی، اس تاریخ کو سینے سے لگائے رکھا۔ راشٹریہ سہارا سے وابستہ قلم کاروں کے اندر فکری تنوع کا عالم یہ ہے کہ اس کو کسی ایک مضمون میں سمیٹنا ناممکن ہے۔ زندگی اور دنیا کا شاید ہی کوئی پہلو ہو جس پر سیر حاصل بحث اس اخبار نے نہ کی ہو۔ اس اخبار سے جڑے عملہ نے بھی اپنی جانفشانی میں کوئی کمی نہیں رکھی اور انہوں نے اس کو دیدہ زیب بنانے میں ادنیٰ کوتاہی کو در آنے نہیں دیا۔ راشٹریہ سہارا ہی وہ پہلا اخبار تھا جسے مشرق و مغرب شمال جنوب کی سرحدوں کو عبور کرتا ہوا ملٹی ایڈیشن رنگین اخبار ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اور جس نے یہ ثابت کیا کہ اس کا حسن انگریزی اخباروں کے مقابلہ کسی طرح ماند نہ پڑے گا۔ جہاں تک اس کے مشتملات کا سوال ہے تو ہم اتنی بات کہنے کا حوصلہ تو رکھ ہی سکتے ہیں کہ بیباک اداریوں کے علاوہ ’امنگ‘، ’دستاویز‘ اور ’رنگ جہاں‘ کے ذریعہ دیش اور دنیا کی تمام اہم خبروں اور واقعات کو تفصیل سے پیش کرتے رہے ہیں تاکہ ہمارے قارئین نہ صرف معیاری زبان کا لطف اٹھائیں بلکہ جب وہ کسی موضوع پر گفتگو کریں تو اس اعتماد کے ساتھ کریں کہ جو معلومات اس پلیٹ فارم پر فراہم کی جارہی ہیں، وہ ٹھوس حقائق اور واضح تجزیات پر مبنی ہیں۔ قارئین کی نظر میں حاصل ہونے والا یہ اعتماد ہی راشٹریہ سہارا کا اصل سرمایہ ہے۔ ہم سہارا انڈیا پریوار کے مینیجنگ ورکر چیئرمین اور سہارا پریوار کے سرپرست عزت مآب جناب سہارا شری سر کے مشکور ہیں، سہارا شری کی اردو سے بے پناہ محبت کا ہی نتیجہ ہے کہ تمام تر نامساعد حالات کے باوجود وہ روزنامہ کو ہر حال میں نہ صرف جاری رکھنا چاہتے ہیں بلکہ پوری آب و تاب کے ساتھ روزنامہ کو نمبر ون بنائے رکھنے کے لیے ہر طرح کے تعاون
کے لیے ہمیشہ تیار رہتے ہیں۔ اسی کے ساتھ ہی ہم سہارا نیوز نیٹ ورک کے سی ای او و ایڈیٹر ان چیف جناب اپیندر رائے صاحب کے بھی مشکور ہیں جن کی
انتظامی صلاحیتوں اور صحافتی تجربات سے ہم روزنامہ کو بہتر طریقے سے قارئین تک پہنچانے میں کامیاب ہو پاتے ہیں۔ ساتھ ہی ان تمام مشتہرین اور قلم کاروں کے بھی شکر گزار ہیں جنہوں نے روزنامہ کو ہمیشہ اپنا تعاون دیا۔ راشٹریہ سہارا سے
وابستہ تمام افراد اس عہد پر آج بھی قائم ہیں کہ وہ آئندہ بھی نہ صرف دو سو سالہ قدیم اردو صحافت کی شاندار روایت کو قائم رکھیں گے بلکہ اس کو ہر روز بہتر بنانے کے لیے سرگرم عمل رہیں گے تاکہ اس ملک کی مشترک تہذیب اور دستوری و آئینی حقوق کی حفاظت ہر حال میں ہوتی رہے اور جمہوری قدروں کو روز افزوں ترقی نصیب ہو۔