23 سالہ ہند نژاد نبیلہ سید امریکی وسط مدتی انتخابات میں کامیاب

0

واشنگٹن، (ایجنسیاں) : ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار 23 سالہ ہند نژاد امریکی مسلم خاتون نبیلہ سید نے امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ نبیلہ نے امریکہ میں الینوائے ریاستی مقننہ کے 51 ویں ہاو¿س ڈسٹرکٹ کےلئے الیکشن جیتنے والی سب سے کم عمر نمائندہ کے طور پر تاریخ رقم کی ہے۔ نبیلہ نے بدھ کو ٹوئٹر پر ڈیموکریٹک پارٹی کے نمائندے کے طور پر جنرل اسمبلی کےلئے منتخب ہونے کی خبر شیئر کی۔ انہوں نے کہا کہ میرا نام نبیلہ سید ہے۔ میں ایک 23 سالہ مسلمان، ہندوستانی نژاد امریکی خاتون ہوں۔ ہم نے ابھی ریپبلکن کے زیر قبضہ مضافاتی ضلع پر اقتدار کو تبدیل کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ وہ الینوائے جنرل اسمبلی کی سب سے کم عمر رکن ہیں۔ نبیلہ نے انسٹاگرام پر لکھاکہ جب ریاستی نمائندے کےلئے اعلان کیا، تو میں نے لوگوں کے ساتھ حقیقی طور پر بات چیت میں مشغول ہونے کو اپنا مشن بنایا تھا، تاکہ انہیں ہماری جمہوریت میں شامل ہونے کی وجہ فراہم کی جا سکے اور بہتر قیادت کی امید ہو، جو ان کی اقدار کی نمائندگی کرتی ہو۔ ہم نے یہ دوڑ جیتی، کیونکہ ہم اس گفتگو میں مصروف تھے۔رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ ہم نے بزرگوں سے نسخے کی ادویات کی بڑھتی ہوئی قیمت کے بارے میں بات کی۔ ہم نے کام کرنے والے خاندانوں سے پراپرٹی ٹیکس کے بڑھتے ہوئے بوجھ کے بارے میں بات کی۔ ہم نے خواتین سے بات کی، یہ عہد کیا کہ میں تولیدی صحت کی دیکھ بھال کے ان کے حق کا تحفظ کروں گی۔ ہم نے والدین کے ساتھ عام فہم بندوق کی حفاظت کے قوانین کو مضبوط کرنے کی خواہش کے بارے میں بات کی۔نبیلہ نے آگے کہاکہ ہم نے یہ ریس جیتی، کیونکہ 51 ویں ضلع کے لوگ ایک ایسا نمائندہ چاہتے ہیں، جو ان کے اور ان کے خاندانوں کےلئے لڑنے کےلئے تیار ہو۔نبیلہ سید فی الحال ایک غیر منافع بخش ادارے کےلئے کام کرتی ہیں اور ان کی ویب سائٹ کے مطابق ڈیجیٹل حکمت عملی میں لوگوں کی مدد کرتی ہیں اور شہری مصروفیت کے متعدد اقدامات کی حمایت کرتی ہیں، مثال کے طور پر، ووٹرز کو متحرک کرنا، کالج کیمپس میں جنسی حملوں کو روکنا اور صنفی مساوات کو بڑھانا۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے سے پولیٹیکل سائنس اور بزنس میں گریجویشن کرنے کے بعد انہوں نے ایک پرو بونو کنسلٹنگ آرگنائزیشن کے صدر کے طور پر کام کیا۔
جس نے مقامی کاروباریوں کی مدد کی۔ نبیلہ اسلامک سوسائٹی آف نارتھ ویسٹ سبربس میں اپنی مذہبی برادری میں سرگرم ہیں اور بین المذاہب مکالمے کی وکالت کرتی ہیں اور اس کا مقصد نوجوان مسلم خواتین کو قیادت کے لیے بااختیار بنانا ہے۔