دہلی فساد معاملہ:ہائی کورٹ نے عمر خالد کو ضمانت پر رہا کرنے سے کیاانکار

0

اظہارالحسن
نئی دہلی، (ایس این بی) : جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق طالب علم عمر خالد، جس پر دہلی فسادات میں مبینہ طور پر خصوصی کردار ادا کرنے کا الزام ہے، کو ہائی کورٹ نے ضمانت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ دہلی پولیس نے اسے 13 ستمبر 2020 کو گرفتار کیا تھا۔ تب سے وہ عدالتی حراست میں ہیں۔جسٹس سدھارتھ مردول اور جسٹس رجنیش بھٹناگر کی بنچ نے کہا کہ گواہوں کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی) کی حمایت اور اس کے خلاف مظاہروں کے منتظمین میں سے ایک تھا۔ وہ متعدد وہاٹس ایپ گروپس کا ممبر تھا اور مبینہ طور پر وزیر اعظم کے بارے میں متنازع بیانات دیتا تھا۔ وہ بھی اس وقت جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ہندوستان کے دورے پر تھے۔ کئی مقامات پر احتجاجی مظاہرے ہوئے، جس کی وجہ سے لوگوں میں اختلافات سامنے آئے۔ خواتین کو آگے بڑھاتے ہوئے پولیس پر حملہ کیا گیا۔ ان تمام وجوہات کی وجہ سے کئی جگہ فسادات ہوئے۔ اس میں 53 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اورسیکڑوں زخمی ہوئے۔ فسادات کےلئے تیزاب، آتشیں اسلحہ وغیرہ کا استعمال کیا گیا۔ یہ سب پہلے سے منصوبہ بند نظر آتا ہے اور یہ دہشت گردی کی کارروائی کی طرح تھا۔ اس کیس میں اسے ضمانت پر رہا کرنے کا حکم نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت نے نچلی عدالت کی طرف سے ضمانت نہ دینے کے خلاف ان کی اپیل خارج کر دی۔
عمرخالد کے خلاف آئی پی سی کی مختلف دفعات اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت فسادات کی سازش کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ان کے خلاف کڑکڑڈوما کورٹ میں مقدمہ چل رہا ہے اور اس میں الزامات طے کیے گئے ہیں۔ بنچ نے کہا کہ ضمانت کی درخواست میں کوئی ٹھوس وجہ نہیں بتائی گئی ہے، جس کی بنیاد پر اسے ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا جائے۔ ٹرائل کورٹ نے ان کے وکیل کے تمام دلائل پر مناسب غور کرنے کے بعد انہیں ضمانت پر رہا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ خالد نے اپنی درخواست ضمانت میں کہا تھا کہ شمال مشرقی دہلی کے تشدد میں ان کا کوئی مجرمانہ کردار نہیں ہے۔ اس کا اپنے دیگر ملزمان سے بھی کوئی سازشی رابطہ نہیں تھا۔عدالت نے کہا کہ عمرخالد کئی وہاٹس ایپ گروپس کا حصہ تھا، جو سی اے اے اور این آر سی کے خلاف مظاہروں کو مربوط کرنے کے مقصد سے بنائے گئے تھے۔ بظاہر جے این یو کے مسلم طلبا کا ایک وہاٹس ایپ گروپ بنایا گیا تھا، جس میں شرجیل امام 5/6 دسمبر 2019 کی درمیانی رات کواہم رکن تھے۔ یعنی بل (سی اے اے بل) کی منظوری کے صرف ایک یا دو دن بعد۔ گواہ نے کہا ہے کہ جے این یو کے مسلم طلبا نے تشکیل دی تھی اور طاہرہ داو¿د کو دہلی اور ہندوستان کے دیگر حصوں میں احتجاج اور چکا جام کو مربوط کرنے اور اس طرح کے مظاہروں میں حصہ لینے کے بنیادی مقصد سے منسلک کیا گیا تھا، جس کے بعد شرجیل امام نے سی اے اے ،این آر سی کے خلاف مساجد میں پمفلٹ تقسیم کرنا شروع کر دیا۔