20فیصد کا ایم ایل اے

0

پنکج چترویدی

بہت تشہیر ہوئی، اپیل کی گئی لیکن پہلے مرحلے کی پولنگ میں محض 45.22 فیصد ووٹ ڈالے گئے۔ اترپردیش کی سب سے بڑی اسمبلی سیٹ پر ہی اس کا اثر نظر نہیں آیا۔ دہلی سے متصل غازی آباد ضلع کی صاحب آباد سیٹ میں ریاست کے سب سے زیادہ 10 لاکھ 20 ہزار 386 ووٹرس ہیں۔ یہاں کے زیادہ تر لوگ دہلی میں نوکری کرتے ہیں، بہت سے علاقے اونچی کثیر منزلہ اپارٹمنٹ والے ہیں۔ اس سیٹ پر چار اہم سیاسی پارٹیوں- بی جے پی، ایس پی اتحاد، کانگریس اور بہوجن سماج پارٹی نے امیدوار کھڑے کیے۔ اگر گزشتہ تین انتخابات کے اعداد و شمار دیکھیں تو یہاں ان پارٹیوں کو کم سے کم 10 فیصد ووٹ ملے ہی ہیں۔ اندازہ ہے کہ کامیاب امیدوار کو کل ووٹنگ کا زیادہ سے زیادہ 30 فیصد ووٹ ہی ملے۔ اگر سبھی اہم پارٹیوں میں ووٹ تقسیم ہوا یعنی ساڑھے چار لاکھ کا بھی 40 فیصد، کوئی 2 لاکھ ووٹ۔ دس لاکھ سے زیادہ ووٹرس والی سیٹ پر محض 20 فیصد ووٹ پانے والا یہاں کا عوامی نمائندہ ہوگا۔ یہ کس طرح کی اکثریت کا تصور ہے اور کیا وہ امیدوار اکثریتی آبادی کی امیدوں، خواہشات کو پورا کرنے والا عوامی نمائندہ ہوگا؟ یہ حالات تب ہیں جب اس بار ملازمت پیشہ، معمر و معذورپوسٹل کے ذریعے ووٹ ڈال رہے ہیں جو کہ ہزاروں میں ہیں۔ صاحب آباد تو نمونہ ہے، دوسرے اور تیسرے مرحلے کی ووٹنگ تک یوپی کے کئی اضلاع میں یہی حالات نظر آرہے تھے۔ کہیں بھی اوسطاً 60 فیصد سے زیادہ ووٹ نہیں پڑے۔
سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ عوام کی مایوسی تھی، لاپروائی تھی یا اور کچھ۔ ابھی گزشتہ سال اپریل میں اترپردیش میں ہی پنچایت الیکشن ہوئے تو اس میں غازی آباد ضلع میں ہی کئی جگہ 90 فیصد تک ووٹ پڑے تھے۔ گاؤں-گاؤں میں دن رات تشہیر اور انتخابی مباحثے ہوتے رہے۔ وہیں غازی آباد میں ایم ایل اے جیسے اہم الیکشن کا چرچہ ضلع ہیڈکوارٹرس سے 10 کلومیٹر دور والی کالونیوں تک میں نہیں تھا۔ ٹھیک یہی حالات غازی آباد شہر، نوئیڈا وغیرہ شہری علاقوں میں رہے۔ نہ کوئی جلسہ، نہ پبلسٹی، نہ پرچے نہ جھنڈے۔ آزاد اور غیرجانبدار انتخابات کے لیے گزشتہ کچھ برسوں میں انتخابی عمل میں اہم تبدیلیاں بھی ہوئیں لیکن سب سے اہم سوال جوں کا توں ہے کہ کیا ہماری حکومت حقیقت میں عوام کی اکثریت کی حکومت ہوتی ہے؟ یہ جمہوریت کے بنیادی اصولوں پر طنز ہی ہے کہ ملک کی حکومتیں عام طور پر کل آبادی کے 14-15 فیصد لوگوں کی حمایت کی ہی ہوتی ہیں۔
یہ غور طلب ہے کہ کیا ووٹ نہ ڈالنے والے 80 فیصد سے زیادہ لوگوں کی نگاہوں میں الیکشن لڑ رہے سبھی امیدوار نااہل یا موجودہ انتخابی نظام ناقص تھا؟ جن نتائج کو سیاسی پارٹیاں رائے عامہ کی آواز کہتی رہی ہیں، ایمانداری سے تجزیہ کریں تو یہ سیاسی سسٹم کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ تھا۔ سپریم کورٹ کے احکام ’کوئی پسند نہیں‘ پر خوش ہونے والے پتہ نہیں کیوں اتنے خوش ہیں، ہمارے سامنے چیلنج جمہوری اقدار کو قائم رکھنے کا ہے، نہ کہ انہیں مسترد کرنے کا۔ جب کبھی ووٹنگ کم ہونے کی بات ہوتی ہے تو انتظامیہ اور سیاسی پارٹیاں زیادہ گرمی یا سردی ہونے، تعطیل نہ ہونے جیسی وجوہات گنانے لگتی ہیں۔
المیہ یہ ہے کہ اعداد و شمار کی بازیگری میں اچھی طرح سے ماہر سبھی سیاسی پارٹیاں اس معمولی سے نمبروں کے حساب کو نہ سمجھ پانے کا بہانہ کرتی ہیں جبکہ جمہوریت یا اکثریت کی حکومت کی حقیقت یہ اعداد و شمار اُجاگر کر دیتے ہیں۔ جمہوریت کی اصل روح کو بچانے کے لیے زیادہ سے زیادہ لوگوں کا پولنگ مراکز تک پہنچانا ضروری ہے۔ ویسے ای وی ایم کے استعمالوں سے ووٹوں کے اس نقصان کا تو کوئی امکان نہیں رہ جاتا لیکن نوٹا کا استعمال اصل میں ووٹ خراب کرنا ہی ہوتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ آخر اتنے سارے لوگ ووٹ کیوں نہیں ڈالتے ہیں؟ صاحب آباد یا نوئیڈا میں کوشامبی، وسندھرا، برج وہار، اندراپورم جیسی آسمان چھوتی عمارتوں، پڑھے لکھے لوگوں کی کالونی میں 10 سے 12 فیصد ووٹ ہی ڈالے گئے۔
ووٹنگ کم ہونے کی ایک وجہ ملک کے بہت سے علاقوں میں بڑی تعداد میں خواتین کا گھر سے نہ نکلنا بھی ہے۔ خواتین کے لیے انتخابات میں ریزرویشن کا مطالبہ کر رہی تنظیمیں خواتین کی ووٹنگ میں اضافے کے طریقوں پر نہ تو بات کرتی ہیں اور نہ ہی کوشش۔ اس کے علاوہ جیل میں بند زیرسماعت قیدیوں اور اسپتال میں داخل مریضوں و ان کی دیکھ بھال میں لگے لوگوں، کسی وجہ سے سفر کر رہے لوگ، سیکورٹی اہلکار و سرحد پر تعینات جوانوں کے لیے ووٹنگ کا معقول انتظام نہیں ہے۔ ہمارے ملک میں ڈاک سے ووٹنگ کا عمل اتنا غیر واضح ہے کہ محض کچھ لوگ ہی اس کا فائدہ اٹھا پاتے ہیں۔ اس طرح تقریباً 20 فیصد ووٹرس تو چاہ کر بھی انتخابی تہوار میں شرکت سے محروم رہ جاتے ہیں۔ کچھ برس قبل الیکشن کمیشن نے سبھی سیاسی پارٹیوں کے ساتھ ایک میٹنگ میں کاؤنٹر بیلٹ کی تجویز رکھی تھی۔ اس عمل میں ووٹر اپنے کسی نمائندے کو ووٹ دینے کا حق دے سکتا ہے۔ اس سسٹم کے لیے عوامی نمائندگی ایکٹ 1951 اور تعزیرات ہند میں ترمیم کرنا ضروری ہے۔ پارلیمنٹ میں بحث کی یقین دہانی کراکر مذکورہ اہم مسئلے کو ٹال دیا گیا۔ گجرات میں بلدیاتی انتخابات میں لازمی ووٹنگ کا قانون لانے کی کوشش کی گئی تھی لیکن وہ کامیاب نہیں ہوا۔ یہاں جاننا ضروری ہے کہ دنیا کے کئی ممالک میں ووٹنگ لازمی ہے۔ آسٹریلیا سمیت کوئی 19 ممالک میں ووٹ نہ ڈالنا قابل سزا جرم ہے۔ کیوں نہ ہمارے یہاں بھی بغیر کسی وجہ کے ووٹ نہ ڈالنے والوں کے کچھ شہری حقوق محدود کر دیے جائیں یا انہیں کچھ سرکاری سہولتوں سے محروم کر دیا جائے؟
آج الیکشن سے بہت پہلے بڑے بڑے حکمت عملی بنانے والے ووٹرلسٹ کا تجزیہ کرکے طے کر لیتے ہیں کہ ہمیں فلاں ذات یا سماج کے ووٹ چاہئیں ہی نہیں یعنی جیتنے والا علاقے کا نہیں، کسی ذات یا مذہب کا نمائندہ ہوتا ہے۔ یہ الیکشن لوٹنے کے ہتھکنڈے اس لیے کارگر ہیں، کیونکہ ہمارے یہاں چاہے ایک ووٹ سے جیتو یا پانچ لاکھ ووٹ سے، دونوںکے ہی ایوان میں حقوق برابر ہوتے ہیں۔ اگر صدارتی انتخابات کی طرح کسی پارلیمانی حلقے کے کل ووٹ اور اس میں سے حاصل ووٹوں کی بنیاد پر ممبران پارلیمنٹ کی حیثیت، سہولت وغیرہ طے کردی جائے تو لیڈر پورے علاقے کے ووٹ پانے کے لیے پرعزم ہوں گے، نہ کہ صرف گوجر، مسلمان یا برہمن ووٹ کے۔ وزیر کابینہ بننے کے لیے یا پارلیمنٹ میں آواز اٹھانے یا پھر سہولتوں کے تعلق سے منتخب نمائندوں کو ان کو ملے کچھ ووٹوں کی درجہ بندی نہ صرف سنجیدہ بنائے گی بلکہ انہیں زیادہ سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے کے لیے مجبور بھی کرے گی۔
اس وقت ملک کے فنکار، رائٹر، صنعت کار گھرانے، میڈیا، سبھی اپنے اپنے خیموں میں سرگرم ہوکر ایک خاص پارٹی کو اقتدار کی چابی سونپنے کا ہرممکن طریقہ اپنا رہے ہیں۔ ایسے میں دانشوروں کی ایک جماعت کو آگے آکر ووٹنگ فیصد بڑھانے کے لیے بیداری مہم کی باگ ڈور سنبھالنی چاہیے۔ اس کام میں اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ سیاسی پارٹیاں کبھی نہیں چاہیں گی کہ ووٹنگ زیادہ ہو، کیونکہ اس میں ان کے محدود ووٹ بینک کے کم ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ہماری پارلیمانی جمہوریت بھی ایک ایسے نسبتاً مثالی انتخابی نظام کی منتظر ہے جس میں کم سے کم ووٹنگ تو ٹھیک طریقے سے ہونا یقینی بنایا جاسکے۔
[email protected]