1991 کی معاشی اصلاحات

0

سراج الدین فلاحی

24 جولائی 1991 ہندوستانی معیشت کیلئے بہت اہم دن مانا جاتا ہے۔ اہم دن اس لیے کہ اس دن ہندوستان میں LPG ریفارم یعنی لبرالائزیشن، پرائیوٹائزیشن اور گلوبلائزیشن کی پالیسیاں آئیں۔ ان پالیسیوں سے ہندوستانی معیشت میں بہت بڑا بدلاؤآیا۔ ان کے آنے کے بعد ہندوستانی معیشت کا رخ پبلک سیکٹر سے پرائیویٹ ممعاشی اصلاحاتونوپولی میں بدل گیا۔ چند روز قبل 24 جولائی 2021 کو اس کی 30 ویں سالگرہ کے موقع پر جب سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ جو اس وقت وزیر مالیات تھے اور انہیں کی ماتحتی میں مذکورہ بالا معاشی اصلاحات لائی گئی تھیں نے ایک بیان جاری کر کہا کہ انہیں پالیسیوں کی بدولت آج ہمارا ملک دنیا کی بڑی معیشتوں میں شمار ہوتا ہے اور 1991 کے بعد انڈیا میں جتنی بھی سرکاریں آئیں انہوں نے انہیں اصلاحات کو آگے بڑھایا ہے البتہ آنے والا وقت 1991 کے بحران سے زیادہ سخت ہو گا۔ آیئے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ اصلاحات کیا تھیں اور ان کا معیشت پر کیا اثر ہوا؟
1947 میں جب ملک آزاد ہوا تو پبلک انٹرپرائزز (PSUs) کو ملک کی معاشی ترقی اور نشودنما کے لیے ایک بڑا رول دیا گیا تاکہ ملک کے وسائل حکومت کے ہاتھوں میں رہیں اور حکومت سماجی فلاح و بہبود کے مقصد سے تعلیم، صحت، صنعت اور تجارت جیسے شعبوں میں منصفانہ کام کرائے جس سے نہ صرف ملک میں ترقی کاتوازن برقرار رہے بلکہ آمدنی اور دولت کی تقسیم کا توازن بھی بگڑنے نہ پائے۔ حکومت نے تمام شعبہ جات کو اپنے ہاتھوں میں لیا اور 1956 یعنی دوسرے پنج سالہ منصوبے میں ملک کو خود کفیل بنانے کے لیے صنعتی انقلاب برپا کیا۔ چونکہ انڈیا ابتدا سے ایک زراعتی ملک رہا ہے اس لیے صنعتی انقلاب کے باوجود یہاں کی انڈسٹریاں وہ معیار حاصل کرنے میں ناکام رہیں جو ترقی یافتہ ممالک کی انڈسٹریز نے سو سال پہلے حاصل کر لیا تھا۔ چنانچہ ملک کے اندر اور باہر دونوں جگہوں پر ہندوستانی انڈسٹریز کے بنائے ہوئے سامانوں کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا تھا جس کے نتیجے میں ملک کے اندر باہری اشیاکی ڈیمانڈ بڑھتی گئیں۔ اس کے مدنظر حکومت نے 1947 سے 1990 کے درمیان Inward looking trade strategy اپنائی جس کے تحت گھریلو انڈسٹریز کو بچانے کے لیے حکومت نے بھاری امپورٹ ڈیوٹی اور امپورٹ کوٹاز لگایا تاکہ گھریلو انڈسٹریز کے ذریعے بنائے ہوئے سامان بکیں اور دیگر ممالک سے اشیا کے امپورٹ کو روکا جا سکے۔ ان کے علاوہ اس پیریڈ تک چونکہ بینکنگ، مالیات، صنعت، صحت اور تعلیم سے متعلق زیادہ تر شعبے حکومت کی نگرانی میں کام کرتے تھے اس لیے پرائیویٹ گھرانوں کو اپنی انڈسٹریز چلانے کے لیے حکومت سے لائسنس لینا پڑتا تھا جس کا ملنا بہت مشکل تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اس دور کو لائسنس پرمٹ راج بھی کہا جاتا تھا۔ یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا اور 80 کی دہائی آتے آتے پبلک انٹرپرائزز کی کاہلی یا ناکامی کی وجہ سے ملک مقروض ہو کر معاشی بحران کی طرف بڑھنے لگا۔ مالیاتی خسارے میں زبردست اضافہ ہوا اور وہ بڑھ کر ساڑھے آٹھ فیصد پر آ گیا، غیر ملکی زر مبادلہ جو کسی بھی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے اس وقت صرف دس روز کا بچا ہوا تھا، خلیجی بحران کی وجہ سے پٹرول کی قیمتیں بڑھ گئیں جس کی وجہ سے افراط زر 16.7 فیصد کے ریکارڈ اضافہ پر پہنچ گیا۔ نتیجتاً انڈیا کا بیلنس آف پیمنٹ ڈگمگا گیا یعنی ایکسپورٹ کم اور امپورٹ بہت زیادہ ہو گیا۔یہ اور اس طرح کی کئی وجوہات کی بنا پر ملک کی کریڈٹ ریٹنگ گرگئی اور انڈیا کو عالمی بینک سے قرض ملنا بند ہو گیا۔ چونکہ فارن ریزرو بہت کم تھا اس لیے انڈیا کو نئے قرض حاصل کرنے کے لیے نہ صرف ملک کے سونے کو گروی رکھنا پڑا بلکہ عالمی بینک کی شرطوں پر LPG پالیسیوں کو بھی اپنانا پڑا۔ عالمی بینک نے قرض دینے سے قبل انڈیا کو شرائط پر مبنی ایک لسٹ سونپی جس میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ انڈیا اپنی کرنسی کی ویلیو 22 فیصد کم کرے۔ انڈیا نے نہ صرف عالمی بینک کے کہنے پر اپنی کرنسی کی ویلیو گرائی بلکہ وہ سب کچھ کیا جو عالمی بینک نے کہا۔ لہٰذا یہ بات دھیان میں رہنی چاہیے کہ نئی معاشی اصلاحات کو انڈیا نے بخوشی قبول نہیں کیا بلکہ یہ انڈیا پر تھوپی گئی تھیں۔ بعض ماہرین معاشیات تویہاں تک کہتے ہیں کہ پبلک انٹرپرائزز کو جان بوجھ کر ناکام کیا گیا تاکہ ملک میں معاشی بحران پیدا ہو اور انڈیا جلد از جلد LPG ریفارم اپنائے جس کے ذریعے ملٹی نیشنل کمپنیاں گلوبلائزیشن کے تحت اپنے پروڈکٹ انڈیا میں بیچ سکیں۔ چنانچہ یہی وجہ ہے جو آج ہم دیکھتے ہیں کہ انڈین مارکیٹ پر غیر ملکی کمپنیوں کے پروڈکٹ کا قبضہ ہے۔

قابل غور بات یہ ہے کہ LPG پالیسی کے تحت نہ صرف مارکیٹ سب کے لیے کھلا چھوڑ دیا گیا بلکہ پرائیویٹائزیشن کا ایسا بھیانک دور آیا جس میں آہستہ آہستہ اس بات کو یقینی بنایا جانے لگا کہ اب اسٹیٹ نہیں بلکہ پرائیویٹ اداروں کا لیڈنگ رول ہوگا لہٰذا وہی ملک چلائیں گے۔ البتہ سماج کے ہر فرد کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنی پریشانیوں کا حل خود نکالے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ 1991 کی معاشی اصلاحات سے ہندوستانی معیشت پر دو رس نتائج برآمد ہوئے۔ بطور خاص لبرالائزیشن کے تحت صنعتی، مالیاتی، غیر ملکی زر مبادلہ، ٹیکسز اور تجارت و سرمایہ کاری سے متعلق بہت سارے ریفارم ہوئے۔ ساتھ ہی حکومت کے ذریعے نافذ کی گئی غیر ضروری پابندیوں مثلا پرمٹ، لائسنس، کوٹا وغیرہ سے معیشت کو بہت حد تک نجات بھی ملی۔ لیکن اس سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ یہیں سے بازاری کرن کی بھی ابتدا ہوئی، یہیں سے امیروں اور غریبوں کے درمیان آمدنی کی تقسیم میں بھاری فرق بھی آیا۔ آج ملک کے ایک فیصد لیڈنگ کلاس کے پاس ملک کی 50 فیصد دولت ہے جبکہ نچلے 60 فیصد عوام کے پاس ملک کی صرف 4.5 فیصد آمدنی ہے۔ 1991 سے قبل کمپنیوں کے وہ مینیجنگ ڈائریکٹر جس کی بیش ترین تنخواہ 3 لاکھ 12 ہزار روپے فی ماہ تھی اس میں دس سال کے اندر سیکڑوں گنا اضافہ ہوا اور بڑھ کر کروڑوں میں پہنچ گئی لیکن وہیں مزدوروں کی اجرت میں محض تین گنا اضافہ ہوا۔ LPG پالیسی اپنانے کے بعد انڈیا میں Consumerism کا ایک نیا دور لایا گیا جس میں نفسیاتی حربوں کا استعمال کر کے لوگوں کی ترجیحات بدل دی گئیں۔ ترجیحات بدلنے سے لوگوں کا کنزمشن باسکیٹ بھی بدل گیا ہے، چنانچہ اب لوگ تعلیم، صحت اور فوڈ آئیٹم یعنی کھانے پینے پر کم خرچ کر کے اپنی آمدنی کا زیادہ تر حصہ سگریٹ، شراب، موبائل فون، کلر ٹی وی اور دیگر الیکٹرانک یا اشیائے تعیشات پر خرچ کرتے ہیں جو سمٹ سمٹ کر اسی ایک فیصد کارپوریٹ گھرانوں کی تجوری میں چلا جا رہاہے جن کے پاس ملک کے 50 فیصد وسائل ہیں۔
گلوبلائزیشن کی چکاچوند نے زراعت کو بالکل نظر انداز کر دیا۔ چنانچہ وہ زراعت جس کا حصہ GDP میں تقریباً آدھا تھا وہ گھٹتے گھٹتے 15 فیصد پر آ گیا اور آج کسان اپنی مانگوں کو لے کر سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انڈیا کے اندر دیہی اور شہری طرز زندگی میں نمایاں فرق ہے۔1991 سے قبل انڈیا کی معیشت جو بہت زیادہ کلوز تھی یعنی دیگر ممالک کے لیے انڈیا میں تجارت کرنا آسان نہیں تھا وہ LPG پالیسی کو اختیار کرنے کے بعد پوری دنیا کے لیے کھول دی گئی لہذا اب تمام ممالک اور ان کی کمپنیاں انڈیا میں آسانی سے تجارت اور سرمایہ کاری کر رہی ہیں اور یہاں کی مارکیٹ کو capture کر رہی ہیں، چنانچہ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انڈیا کی چھوٹی انڈسٹریز مارکیٹ میں ٹک نہیں پاتیں اور نقصان اٹھا کر بند کر دی جاتی ہیں۔ قابل غور بات یہ ہے کہ LPG پالیسی کے تحت نہ صرف مارکیٹ سب کے لیے کھلا چھوڑ دیا گیا بلکہ پرائیویٹائزیشن کا ایسا بھیانک دور آیا جس میں آہستہ آہستہ اس بات کو یقینی بنایا جانے لگا کہ اب اسٹیٹ نہیں بلکہ پرائیویٹ اداروں کا لیڈنگ رول ہوگا لہٰذا وہی ملک چلائیں گے۔ البتہ سماج کے ہر فرد کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنی پریشانیوں کا حل خود نکالے۔
[email protected]

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here