کیرل میں کورونا سے بھی خطرناک وائرس کی تشخیص،12 سالہ لڑکا ہلاک ، جانیں وائرس کا نام

0
Image: Onman Orama

ترواننت پورم،(ایجنسی):کیرل جو پہلے ہی کورونا وبا کی دوسری لہر سے متاثر ہے وہاں اب ایک نئے خطرناک وائرس کے پھیلاؤ کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ انڈیا کی وزارت صحت کو اتوار کو یہ بری خبر سننے کو ملی کہ کیرالا میں ایک 12 برس کے لڑکے کی ہلاکت نیپا وائرس سے ہونے کی تصدیق ہوئی۔ اطلاعات کے مطابق مزید دو افراد میں بھی نیپا وائرس کی علامات ظاہر ہوئی ہیں۔ انڈین ریاست کیرالہ میں نیپا وائرس کے انفیکشن کی پہلی بار تصدیق مئی 2018 میں ہوئی تھی۔
اس وقت اس وائرس کے باعث 17 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ اب ایک بار پھر کیرالہ میں نیپا وائرس کے پھیلاؤ کی تصدیق ہوئی ہے۔ انڈیا کی وفاقی حکومت کے نیشنل سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول (این سی ڈی سی) کی ایک ٹیم ریاستی محکمہ صحت کو تکنیکی مدد فراہم کرنے کے لیے فوری طور پر کیرالا کے لیے روانہ کر دی گئی ہے۔
محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ اس بار صورتحال کنٹرول میں دکھائی دے رہی ہے اور انتظامیہ پروٹوکول (ایس او پیز) پر عمل کر رہی ہے۔ کیرالا ریاست کے وزیر صحت وینا جارج نے بتایا کہ مرنے والے 12 برس کے لڑکے کے ساتھ جن 188 افراد کا براہ راست میل جول رہا ان میں سے 20 افراد انتہائی تشویشناک حالت میں ہیں۔ جن دو افراد میں اس وائرس کی علامات ظاہر ہوئی ہیں وہ بھی ان 20 افراد میں شامل ہیں۔
تاہم ان حکام کا کہنا ہے کہ پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں ہے۔ محکمہ صحت صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
محکمہ صحت کے حکام کی تسلی اپنی جگہ پر مگر یہ جاننا ضرور ہے کہ یہ وائرس کیا ہے اور یہ کیسے پھیلتا ہے؟ یہ اتنا خطرناک کیسے اور مہلک کیسے ہو جاتا ہے؟ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق، نیپا وائرس (NiV) ایک تیزی سے پھیلنے والا وائرس ہے جو جانوروں اور انسانوں میں شدید بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔ یہ وائرس 1998 میں سب سے پہلے ملائیشیا کے ایک قصبے نیپا میں سؤروں میں پایا گیا تھا اور وہیں سے اس کا نام نیپا پڑ گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ جانوروں سے یہ وائرس تقریباً تین سو لوگوں میں پھیل چکا ہے اور اس وبا میں ایک سو سے زائد لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ نیپا وائرس چمگادڑوں سے پھیلنے والی بیماری ہے اور آسٹریلیا میں سب سے پہلے پایا جانے والا ہینڈرا وائرس بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔ لیکن اس کے بعد جہاں بھی این آئی وی یعنی نیپا وائرس کا علم ہوا وہاں اس وائرس کو لے جانے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ سنہ 2004 میں بنگلہ دیش میں کچھ لوگ اس وائرس سے متاثر ہوئے۔
ان لوگوں نے کھجور کے درخت سے نکلنے والے مائع کا ذائقہ چکھا تھا اور وہاں چمگادڑ تھے جو اس مائع کو وائرس لینے کے لیے جانا جاتا تھا، جسے فروٹ چمگادڑ کہا جاتا ہے۔ نیپا وائرس ان دس سب سے خطرناک بیماریوں میں سے ایک ہے۔ اس کی وبا ایشیا میں کئی بار پھیل چکی ہے اور یہ ممکن ہے کہ ہم اس کا نام مستقبل میں بار بار سُنیں۔ نیپا وائرس اتنا خطرناک کیوں ہے، اس کی کئی وجوہات ہیں۔ اس کا انکیوبیشن کا عرصہ زیادہ ہے (بعض کیسز میں زیادہ سے زیادہ 45 روز)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص اس وائرس سے متاثر ہو جاتا ہے تو ابتدا میں اسے معلوم ہی نہیں ہوتا اور کافی روز بعد علامات ظاہر ہوتی ہیں اور تب تک وہ بہت سے افراد میں اسے پھیلانے کا باعث بن چکا ہوتا ہے۔
اس وائرس سے جانوروں کی ایک بڑی تعداد متاثر ہو سکتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس وائرس کے پھیلنے کے امکانات مزید بڑھ جاتے ہیں۔ اس وائرس سے براہ راست متاثرہ شخص یا جانور سے رابطے یا آلودہ خوراک کھانے سے بھی متاثر ہوا جا سکتا ہے۔نیپا وائرس سے متاثرہ لوگوں میں سانس لینے میں دشواری، کھانسی، گلے کی سوزش، درد، تھکاوٹ، دماغ کی سوزش (جس سے موت بھی واقع ہو سکتی ہے) جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ یہ کہنا ٹھیک ہو گا کہ عالمی ادارہ صحت اس بیماری کو روکنے کی کوشش کرنا چاہے گی۔انسانوں یا جانوروں میں اس بیماری کے علاج کے لیے ابھی تک کوئی ویکسین نہیں بنائی جا سکی ہے۔بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے مراکز (سی ڈی سی) کے مطابق، نپیا وائرس کا انفیکشن انسیفلائٹس سے وابستہ ہے، جو دماغ کو نقصان پہنچاتا ہے۔
تیز بخار اور سر درد اس وائرس کی علامات میں سے ہیں۔ یہ علامات 24 سے 48 گھنٹوں میں مریض کو کومے میں ڈال سکتی ہیں۔ انفیکشن کے ابتدائی مراحل میں سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے جبکہ مریضوں کو اعصابی مسائل بھی ہوتے ہیں۔
انسانی تاریخ میں ایک وقت تھا جب چمگادڑوں سے دور رہنا قدرے آسان تھا۔ مگر جیسے جیسے ہماری آبادی بڑھ رہی ہے انسان اس کرہِ ارض کو بدل رہے ہیں اور جنگلی جانوروں کے رہنے کی جگہیں تباہ کر رہے ہیں تاکہ وسائل کی مانگ کو پورا کیا جا سکے۔ اس دوران بیماریوں کا پھیلاؤ بھی بڑھ رہا ہے۔
دنیا کی ساٹھ فیصد آبادی پہلے ہی ایشیا میں رہتی ہے اور یہاں تیزی سے شہری علاقے بنائے جا رہے ہیں۔ ورلڈ بینک کے مطابق مشرقی ایشیا میں سنہ 2000 سے سنہ 2010 کے دوران تقریباً 20 کروڑ لوگ دیہی علاقوں سے شہری علاقوں میں منتقل ہوئے۔ چمگادڑوں کے رہنے کی جگہوں کو ختم کرنے سے ماضی میں بھی نیپا وائرس کے کیسز سامنے آئے ہیں۔ 1998 میں ملیشیا میں نیپا وائرس کی وبا سے 100 سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے۔ محققین اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ مقامی قحط اور جنگلات کی آگ کی وجہ سے چمگادڑوں کی قدرتی رہنے کی جگہیں تباہ ہو گئی تھیں اور وہ اس پر مجبور ہوئیں کہ کھیتوں کا رخ کریں۔ اور پریشانی کی صورتحال میں چمگادڑوں سے زیادہ مقدار میں وائرس خارج ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسی صورتحال میں چمگادڑوں سے وائرس خنزیر میں منتقل ہوا اور پھر اُن سے انسانوں میں منتقل ہوا۔

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here