دہلی میں نئی آواز کا ایوارڈ فنکشن اور “ایک شام جیتندر منی ترپاٹھی کے نام” منعقد

0

 

مختلف اہم شخصیات کو نمایاں خدمات کے لئے ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا، روزنامہ راشٹریہ سہارا کے گروپ ایڈیٹر عبدالماجد نظامی نے شمع روشن کر کے پروگرام کاافتتاح کیا
پریس ریلیز

نئی دہلی، گزشتہ شب دہلی کی ادبی و ثقافتی نمائندہ تنظیم “نئی آواز” کی جانب سے ایوارڈ فنکشن-2026 اور کل ہند مشاعرہ بعنوان “ایک شام جیتندر منی ترپاٹھی کے نام” (آئی-پی-ایس)، ڈپٹی کمشنر، دہلی پولس، تسمیہ آڈیٹوریم،جامعہ نگر، میں منعقد ہوا۔صدارت پدم شری پروفیسر اخترالواسع (سابق صدر، مولانا آزاد یونیورسٹی،جودھپور)نے فرمائی۔افتتاح سہارا میڈیا انڈیا کے ایڈمنسڑیٹیوہیڈ و گروپ ایڈیٹر عبد الماجد نظامی نے شمع روشن کرکے کیا۔کشش وارثی،قومی صدر،بھارتیہ صوفی فاؤنڈیشن مہمانِ مکرم کی حیثیت سے تشریف لائے۔اس موقع پرمہمانِ خصوصی ڈاکٹر مشتاق صدف کو وائس چانسلر،علی گڑھ یونیورسٹی کی جانب سے انہیں سر سید اکیڈیمی کا ڈپٹی ڈائریکٹر بنائے جانے پر ان کا پر زور استقبال کیا گیا۔ابتدائی نظامت پروین شغف نے جبکہ اعجاز انصاری نے مشاعرے کی نظامت کے فرائض انجام دیئے۔

تمام مہمانوں کا استقبال گلدستے پیش کرکے کیا گیا۔نئی آواز کے فاؤنڈر و جنرل سکریٹری اعجاز انصاری نے جیتندر منی ترپاٹھی کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے گورکھپور کے ایک گاؤں سے اپنی زندگی کے سفر کا آغاز کیا۔دہلی پولس کی کئی اہم ذمہ داریاں سبھالنے کے بعد آپ اسوقت صدرِ جمہوریہ ہند کے سیکورٹی سیل میں ڈی-سی-پی کی حیثیت سے اپنے اہم فرائض انجام دے رہے ہیں۔ اس موقع پر جیتندر منی ترپاٹھی کو نئی آواز ایوارڈ-2026 برائے قومی یکجہتی خاص طور سےپیش کیا گیا۔ اس کے علاوہ دی ہند گرو اکیڈیمی کے ڈائریکٹر نور نواز خاں(برائے تعلیم)،محمد مستقیم خاں(گروپ ایڈیٹر، روزنامہ”سیاسی تقدیر”) برائے صحافت، حکیم احمد اشرف قاسمی برائے ایورویدک و طبی خدمات، عثمان قریشی(بہترین سامع) اور ڈاکٹر سید تنویر احمد کو بھی(بہترین ڈینٹسٹ) نئی آواز ایوارڈ پیش کئے گئے۔ایوارڈس گلدستہ،شال،خوبصورت ٹرافی اور توصیفی سند پر مشتمل تھے۔

پروفیسر اخترالواسع نے اپنے صدارتی خطبے میں کہا کہ میرا اردو سے پیشہ وارانہ تعلق نہیں رہا ہے لیکن اس زبان سے میرا تعلق وہی ہے جو ایک بچے سے ماں کے دودھ کا ہوتا ہے۔ ڈاکٹر عبد الماجد نظامی نے کہا کہ اس طرح کی محفلیں موجودہ وقت میں بہت ضروری ہیں جن میں قومی یکجہتی کی جھلک ملتی ہے۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے پروگراموں کی گونج بڑے ہالوں اور بڑے میدانوں سے سنائی دینی چاہئے۔ ڈاکٹر مشتاق صدف نے اپنے کلمات ادا کرتے ہوئے یوں کہا کہ اصل شاعری وہ ہے جو قاری یا سامع کے اندر شامل ہوکر،اسکی زندگی میں بدلاؤ کا مطالبہ کرے۔ کشش وارثی نے اس پروگرام کے انعقاد پر اعجاز انصاری کو مبارکباد پیش کی۔

جن شعراءکرام نے مشاعرے میں اپنے کلام سے محظوظ کیا،ان کے اسمائے گرامی اس طرح سے ہیں: ڈاکٹر مشتاق صدف،جیتندر منی ترپاٹھی، خمار دہلوی، شرف نانپاروی، جبار شارب، سریندر شجر، سلیم امروہوی، فہیم کمالپوری، تابش خیرآبادی، پنڈت پریم بریلوی اور کنوینر اعجاز انصاری جبکہ شاعرات میں ڈاکٹر وسیم راشد، عظمٰی پروین، پروین شغف اور ڈاکٹر فضا عرفان کےنام شامل ہیں۔مشاعرے میں بحیثیت سامعین جن مخصوص شخصیات نے شرکت کی اس میں عبدالحق،شکھر کے ڈائریکٹر ندیم اختر، ہائی کورٹ کی نامور وکیل ارادھنا سریواستو، نیرو جین، شہزاد بھائی، فہیم اختر،حفظ الرحمان،وارث صدیقی، جاوید خان،مقصود

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS