بائیڈن:دانشمندانہ پالیسی کی ابتدا!

0
19

خاورحسن
جو بائیڈن کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ وہ براک اوباما جیسے لیڈر ہیں۔ اوباما کی مدت صدارت کا بغور مطالعہ کرنے پر یہ اندازہ لگانے میںکسی حد تک مدد مل سکتی ہے کہ بائیڈن کی پالیسی کیسی ہوگی۔ مشرق وسطیٰ کے ممالک میں عوامی احتجاج کی لہر اوباما کے دور میں شروع ہوئی تھی مگر ان کی توجہ امریکہ کی اقتصادیات، اس کے استحکام پر مرکوز رہی۔ چین کی توسیع پسندی اور ایشیا بحرالکاہل میں مستقبل کے امریکی مفاد کے پیش نظر اوباما نے ایران کے ایٹمی تنازع کا حل مذاکرات کی میز پر نکالنے کی جدوجہد کی مگر اس جدوجہد کا زیادہ اثر امریکہ کے سعودی عرب سے تعلقات پرنہیں پڑنے دیا۔ بائیڈن کے اب تک کے فیصلوں کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ وہ سعودی عرب سے مستحکم تعلقات برقرار رکھنا چاہتے ہیں مگر ایران کو اس پوزیشن میں نہیں لانا چاہتے کہ حالات سے چین کو فائدہ اٹھانے کا موقع مل جائے۔ آنکھ بند کر کے یمن جنگ میں سعودی عرب کی حمایت کرنے سے گریز کا اشارہ بالواسطہ طور پر یہ بتانا ہے کہ یہ بائیڈن کا امریکہ ہے۔ بائیڈن حکومت کی ترجیحات ٹرمپ حکومت کی ترجیحات سے مختلف ہیں۔ بی بی سی کے سیکورٹی امور کے نامہ نگار، فرینک گارڈنر نے لکھا ہے کہ ’صدر ٹرمپ نے اپنے داماد جیرڈ کشنر کی وساطت سے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے قریبی تعلقات استور کر لیے تھے اور ان کو امریکہ کی طرف سے فروخت کیے گئے ہتھیاروں کو یمن کی جنگ میں بے دریغ استعمال کی کھلی چھوٹ دے دی تھی۔‘ مگرموجودہ ’وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جن پاسکی نے کہا ہے کہ صدر جو بائیڈن مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے کلیدی اتحادی، سعودی عرب، سے امریکہ کے تعلقات کا از سر نو جائزہ لیں گے۔‘ فرینک گارڈنر کے مطابق، ’امریکی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ آئندہ سے امریکی پالیسی قانون کی بالادستی اور انسانی حقوق کی پاسداری کو ترجیح دینے پر مبنی ہو گی۔‘یعنی یہ امید رکھی جا سکتی ہے کہ پراکسی وار سے یمن کو نجات مل جائے گی۔
سعودی عرب کو اگر امریکہ کے زیادہ ساتھ نہ دینے کی وجہ سے یمن جنگ ختم کرنی پڑتی ہے تو بائیڈن کی مقبولیت بڑھ جائے گی، کیونکہ یمن جنگ میں سوا دو لاکھ سے زیادہ لوگوں کی جانیں جا چکی ہیں۔ تقریباً پچاس ہزار لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ ساڑھے اکتیس لاکھ لوگوں کو گھر چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ یمنیوںکو کھانا پہنچانا ایک مسئلہ بن چکا ہے۔ کھانا پہنچانے کی سہولتیں اگر مل بھی جاتی ہیں تو سوال یہ ہے کہ کتنے لوگوں کو اور کب تک کھانا پہنچایا جا سکتا ہے مگر علاقائی طاقتوں کے لیے اہمیت اس بات کی رہی ہے کہ ان کا اپنا دائرۂ اثر کیسے بڑھے، توجہ طلب بات یہ نہیں رہی ہے کہ کتنے لوگ گولیوں سے مارے جا رہے ہیں، کتنے لوگوں کو زخمی کرنے کی وجہ بم بن رہے ہیں اور کتنے لوگوں کو اجاڑنے میں میزائلوں نے رول ادا کیا ہے، یمن جنگ ختم کرانے سے یمنیوں میں امریکہ کی مثبت شبیہ بنے گی۔ یمن جنگ کا خاتمہ اس بات کا اشارہ ہوگا کہ اس خطے میں امریکہ اپنا ایک دائرۂ اثر رکھتا ہے۔ یمن جنگ ختم ہو جانے سے یہ شکایت بڑی حد تک ختم ہو جائے گی کہ حوثیوں کے توسط سے ایران سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے خلاف محاذ کھولے ہوئے ہے۔ یمن جنگ کا خاتمہ ایران کے لیے بائیڈن حکومت کی طرف سے ایک مثبت اشارہ ہوگا اور اس اشارے میں انتباہ بھی ہوگا۔ مثبت اشارہ یہ ہوگا کہ ایٹمی مسئلے کے پرامن حل کی تلاش مذکرات کی میز پر کرنے کے لیے راہ ہموار کی جا رہی ہے، ایران اپنے اقدامات سے یہ بتائے کہ مذاکرات سے اس کی دلچسپی ہے اور انتباہ یہ ہوگا کہ ایران نے ایٹمی مسئلے کے پرامن حل کی تلاش مذکرات کی میز پر کرنے میں امریکہ کی مدد نہیں کی تو پھر اس کے نتائج کے لیے وہ خود ذمہ دار ہوگا۔ اصل میں جو بائیڈن امریکہ کے مفاد کو نظرانداز نہیں کرنا چاہتے تو اس کی ساکھ کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہتے، یہ الزام امریکہ کے سر لادنا نہیں چاہتے کہ وہ ہر معاملے کا حل جنگ میں ہی تلاش کرتا ہے۔ غالباً اسی لیے بائیڈن کا کہنا ہے کہ ’ایران سے مذاکرات مشرق وسطیٰ میں غلطیاں دہرانے سے بچنے کے لیے ہیں۔‘
جو بائیڈن جانتے ہیں کہ عراق جنگ میں الجھ جانے کی وجہ سے امریکہ کا کتنا نقصان ہوا۔ اس جنگ میں امریکہ کے الجھے رہنے کا فائدہ چین اور روس جیسے ملکوں کو ملا۔ چین اس پوزیشن میں آگیا کہ شی جن پنگ اپنے ملک کو دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی اور دفاعی طاقت بنا دینا چاہتے ہیں، سپر پاور کی پوزیشن امریکہ سے چھین لینا چاہتے ہیں۔ ایسی صورت میں ایٹمی پروگرام پر تنازع کا پرامن حل نکالنے کے بجائے امریکہ نے ایران کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کا سلسلہ جاری رکھا تو اس سے چین اور مضبوط ہوگا۔ اس کی مضبوطی اس خطے سے وابستہ امریکہ کے مفاد کے لیے ٹھیک نہیں ہوگی تو اس کے اتحادیوں کے لیے بھی ٹھیک نہیں ہوگی، اس لیے بائیڈن سعودی عرب سے تعلقات مستحکم رکھنا چاہتے ہیں، ایران کے مقابلے سعودی عرب کو ترجیح دینا چاہتے ہیں تو ایران کے ایٹمی تنازع کا بھی پرامن حل نکالنا چاہتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ سعودی عرب کی ناراضگی کا خیال کرتے ہوئے ایران کے خلاف مزید پابندیاں عائد کی گئیں، اس کے ایٹمی پروگرام کا پرامن حل مذاکرات کی میز پر نہیں نکالا گیا تو حالات کی مجبوری ایران کو چین کے کچھ اور قریب کر دے گی، وہ اس کا اتحادی بن جائے گا۔ مستقبل میں کسی ٹکراؤ کی صورت میں وہ امریکہ کے خلاف چین کا ساتھ دے گا۔
2018 میں امریکہ نے ایران کے ایٹمی پروگرام پر معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ایسا کرنے کی بظاہر یہ وجہ تھی کہ ایران کے خلاف پابندیوں کی راہ ہموار کی جائے، اسے تنہا اور کمزور کیا جائے مگر ایرانی لیڈران حالات سے مقابلہ کرتے رہے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ حالات سے نمٹنا کیسے ہے، کب کیا پالیسی اختیار کرنی ہے۔ ایرانی لیڈروں نے برعکس حالات کے باوجود مسلسل طاقت میں اضافے اور اتحادیوں کو طاقتور بنانے پر توجہ دی، چنانچہ یہ بات ناقابل فہم نہیں ہونی چاہیے کہ امریکی صدر بائیڈن نے یہ کیوں کہا کہ ’امریکہ، ایران کے ساتھ 2015 کے جوہری معاہدے سے متعلق دوبارہ سے مذاکرات شروع کرنے میں دلچسپی اس لیے رکھتا ہے تا کہ ایسی غلطیاں نہ کی جائیں جن سے مشرق وسطیٰ کی صورت حال مزید خراب ہو۔‘
امریکی حکومت نے یمن جنگ میں آنکھ بند کر کے سعودی حکومت کی مدد نہ کرنے کا اشارہ دیا ہے تو رپورٹ کے مطابق، ’بائیڈن انتظامیہ نے ٹرمپ کے ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ سے لگائے جانے کے عزم کو واپس لیا ہے۔ اس کے علاوہ بائیڈن انتظامیہ نے امریکہ میں اقوامِ متحدہ کے لیے تعینات ایران کے سفارت کاروں پر نقل و حرکت کی پابندی میں کچھ چھوٹ دی ہے۔‘یہ سب ایران کے ایٹمی پروگرام پر پرامن حل کے لیے مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے ہے مگر ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ ’تہران جوہری معاہدے کی خلاف ورزی اس صورت میں بند کرنے کو تیار ہوگا کہ اگر امریکہ ان کے ملک پر عائد پابندیاں اٹھا لے۔‘ایران کے ایٹمی مسئلے پر کیا ہوگا، اس کا اندازہ آئندہ دنوں میں لگ پائے گا مگر نئے حالات کے بننے سے ایسا لگتا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی پالیسی اور گنجلک ہو جائے گی اور کہیں ایسا نہ ہو کہ اسے سلجھانے کی کوشش اس علاقے کو اور الجھادے، کیونکہ عرب ملکوں کو یہ احساس ہے کہ طاقت کے معاملے میں ایران ان سے آگے نکل چکا ہے۔ عراق سے جنگ نے اسے تباہ کرنے کے بجائے جنگ کا تجربہ دیا ہے تو عراق کی تباہی نے اسے اور مضبوط بنا دیا ہے۔ ایران کے پاس طاقت بھی ہے اور دور اندیش لیڈر بھی ہیں، یہ بات امریکہ سے پوشیدہ نہیں ہے۔
khawer_hasan@rediffmail.com