توجہ طلب باتیں

0
11

ہندوستان کا شمار دنیا کے اہم ملکوں میں ہوتا ہے۔ اقتصادی لحاظ سے اہم ملکوں میں بھی اور دفاعی لحاظ سے اہم ملکوں میں بھی۔ کمپیوٹر ٹیکنالوجی، نینو ٹیکنالوجی، اسپیس ٹیکنالوجی میں اس کا اہم مقام ہے۔ اس ملک کے لوگوں میں بڑی خوبیاں ہیں، کسی میدان میں ترقی کرنے کے لیے اس ملک کو زیادہ سوچنے کی ضرورت نہیں۔ اس کے باوجود ہندوستان کا شمار ہتھیار خریدنے والے اہم ملکوں میں ہی کیوں ہوتا ہے، یہ سوچنے والی بات ہے۔ وزارت دفاع کے ایک ویبنار میں وزیراعظم نریندر مودی نے اسی طرف اشارہ کیا ہے۔ وزیراعظم کے مطابق، ’حالت یہ ہے کہ چھوٹے ہتھیاروں کے لیے بھی ہمیں دوسرے ملکوں کی طرف دیکھنا پڑتا ہے۔ آج بھارت دنیا کے سب سے بڑے امپورٹروں میں شامل ہے۔ یہ کوئی فخر کی بات نہیں ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ بھارت کے لوگوں میں صلاحیت نہیں ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ بھارت کے لوگ اہل نہیں ہیں۔ آپ دیکھئے کہ جب کورونا شروع ہوا تھا تب بھارت ایک بھی وینٹی لیٹر نہیں بناتا تھا، آج بھارت ہزاروں وینٹی لیٹر بنا رہا ہے۔‘ یہ واقعی تبدیلی ہے اور مثبت تبدیلی ہے۔ ہندوستان جیسے ملک کے لیے واقعی یہ بات کچھ اچھی نہیں ہے کہ وہ ہتھیار خریدنے کے لیے دوسرے ملکوں کی طرف دیکھے۔ وزیراعظم کا یہ کہنا بجا ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے امپورٹروں میں شامل ہونا بھارت کے لیے کوئی فخر کی بات نہیں ہے۔ہتھیار امپورٹ کرنے والے ٹاپ 5 ملکوں میں بھارت شامل ہے، اس کے ساتھ چین بھی شامل ہے مگر چین ہتھیار ایکسپورٹ کرنے والے ٹاپ 10 ملکوں میں بھی شامل ہے جبکہ بھارت اس میں شامل نہیں ہے۔ ایسا کیوں ہے، اس پر غور کیا جانا چاہیے۔
ہتھیار ایکسپورٹ کرنے والے ملکوں میں چین ساتویں نمبر پر ہے۔وہ جس تیزی سے ہتھیاروں کے ایکسپورٹر کے طور پر ابھرا ہے، حیرت انگیز ہے۔ ہتھیار ایکسپورٹ کرنے والے 10 اہم ملکوں میں اسرائیل بھی شامل ہے تو یہ سوال فطری طور پر اٹھتا ہے کہ ہندوستان اس فہرست میں شامل کیوں نہیں ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کی اس بات سے عدم اتفاق کی گنجائش نہیں ہے کہ ’مریخ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھنے والا بھارت جدید ہتھیار بھی بنا سکتا تھا لیکن باہر سے ہتھیار منگانا بہت آسان ہو گیا تھا۔ اور آدمی کا مزاج بھی ایسا ہے کہ جو آسان راستہ ہے، اسی پر چل پڑو۔ آج بھی آپ اپنے گھر جاکر گنیں گے تو پائیں گے کہ جانے انجانے ایسی کتنی ہی غیرملکی چیزوں کا آپ برسوں سے استعمال کر رہے ہیں۔ ڈیفنس سیکٹر کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ہے۔‘ وزیراعظم چاہتے ہیں کہ یہ صورت حال بدلے، ’آتم نربھر بھارت‘ صحیح معنوں میں ہر معاملے میں آتم نربھر بنے۔ جو اب تک نہیں ہوا، وہ اب ہو ۔ ہندوستان کو ہتھیار خریدنے کے لیے کسی ملک کی طرف دیکھنا نہ پڑے، ہمارے ملک کا شمار ہتھیار کے بڑے ایکسپورٹروں میں ہو۔
وزیراعظم نریندر مودی کی یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ ہمارے وطن نے حالات بدلنے کے لیے کمر کس لی ہے، وہ جم کر کام کر رہا ہے۔ وزیراعظم کے مطابق، ’اب بھارت اپنی صلاحیتوں کو تیزی سے بڑھانے میں منہمک ہے۔ ایک وقت تھا جب ہمارے اپنے جنگی طیارے تیجس کو فائلوں میں بند کرنے کی نوبت آگئی تھی لیکن ہماری سرکار نے اپنے انجینئروں، سائنس دانوں اور تیجس کی صلاحیت پر بھروسہ کیا اور تیجس شان سے آسمان میں اڑان بھر رہا ہے۔ کچھ ہفتے پہلے ہی تیجس کے لیے 48 ہزار کروڑ روپے کا آرڈر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ جب ایم ایس ایم ای سیکٹر جڑیں گے تو کتنا بڑا کاروبار ہوگا۔‘ اس کا اندازہ لگانا واقعی مشکل نہیں ہے۔
ہندوستان خود ہتھیار بنانے لگے گا تو ہتھیاروں کی خریداری پر خرچ ہونے والی رقم بچ سکے گی، اس کا استعمال ملک کو خوش حال اور مستحکم سے مستحکم تر بنانے میں ہو سکے گا۔ اس کے علاوہ ہندوستان اپنی ضرورتوں کے مطابق ہتھیار بنا سکے گا، چنانچہ ہندوستان کو ہتھیار بنانے کے معاملے میں دھیرے دھیرے آتم نربھر ہونا چاہیے۔ اسے اس پوزیشن میں آنا چاہیے کہ ہتھیاروں کی سپلائی کرنے والے ملکوں میں اس کا اہم مقام ہو۔ ہتھیار بنانے کے معاملے میں چین جس تیزی سے ابھر رہا ہے، اسے دیکھتے ہوئے بھی وطن عزیز کو نئے اور جدید ہتھیاروں کے بنانے کی طرف توجہ دینی چاہیے۔بات اگر ایک جملے میں کہی جائے تو ہندوستان کو ہر معاملے میں آتم نربھر بننے کی کوشش کرنی چاہیے، کیونکہ آتم نربھر بننے کا یہی صحیح وقت ہے۔
edit2sahara@gmail.com