پروفیسر مشتاق احمد
فلسطین میں ایک بار پھر بم وبارود کی فضا تیار ہوگئی ہے اور اسرائیل نے معصوم فلسطینیوں کی زندگی کو اذیت ناک بنا دیا ہے۔ ایک طرف حماس نے اسرائیلی یرغمالیوں کو چھوڑنے سے انکار کر دیا ہے تو دوسری طرف اسرائیل نے انتقامی جذبے سے ہزاروں فلسطینیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔ گزشتہ 7 اکتوبر،2023 سے اسرائیل فلسطینی عوام پر قہر برپا کر رہاہے اور اب تک 64,183 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں اور 113,828 سے زائد زخمی ہیں جبکہ ہزاروں لا پتہ ہیں کہ ملبوں کے نیچے دبے لوگوں کی شناخت نہیں ہو سکی ہے۔
غزہ میں جو صورت حال ہے، وہ حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگی پابندی کے معاہدے کے ٹوٹنے کا نتیجہ بتایا جا رہا ہے لیکن تلخ سچائی تو یہ ہے کہ بنیامن نیتن یاہو شروع سے اب تک فلسطین کو برباد کرنے اور اس پر قابض ہونے کی شطرنجی چال چل رہاہے اور مسلمانوں کی نسل کشی کو محض اس لیے جائز قرار دے رہا ہے کہ حماس نے اسرائیلیوں کو یرغمال بنایا تھا اور اب بھی کچھ اس کے قبضے میں ہیں۔ واضح ہو کہ جنوری میں جب حماس اور اسرائیل کے درمیان جز وقتی معاہدہ ہوا تھا، حماس نے یرغمالیوں کو چھوڑنا شروع کیا تھا اور اسرائیل نے فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا تھا تو عالمی برادری کی یہ امید بندھی تھی کہ شاید فلسطینی عوام کو کوئی راحت مل سکے لیکن امریکہ میں ٹرمپ کی واپسی اور پھر ٹرمپ کی آمرانہ فکر نے اس جنگ کو نئے سرے سے شروع کرایا ہے۔
حماس کے ذریعہ صد فیصد یرغمالیوں کو نہیں چھوڑ نے کا بہانہ بنا کر جس طرح اسرائیل نے غزہ میں تباہی شروع کی ہے، اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اسرائیل اپنی ضد پر ہے اور امریکہ کی پشت پناہی کی وجہ سے وہ فلسطین کے وجود کو ختم کرنا چاہتا ہے، ورنہ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی تنظیموں کی تمام کوششوں کا ناکام ہونا اشارہ ہے کہ عالمی برادری بھی اس جنگ بندی کے تئیں ایماندارانہ طورپر سنجیدہ نہیں ہے بلکہ محض خانہ پری کے لیے آواز بلند کی جاتی رہی ہے اور وہ صدا بہ صحرا ثابت ہوتی رہی ہے۔
دراصل فلسطین کا مسئلہ عالمی سیاست کا خمیازہ ہے۔ اسرائیل کے سر پر شروع سے ہی امریکہ کا ہاتھ ہے اور پوری دنیا کی صہیونی طاقتیں فلسطین کے خلاف کھڑی ہیں لیکن خطۂ عرب کی طرف سے کبھی کوئی ایسا احتجاج نہیں ہوا کہ جس سے پوری دنیا میں یہ پیغام جائے کہ فلسطین میں مسلم کشی کے خلاف مسلم دنیا فکر مند ہے اور وہ اس مسئلے کا حل چاہتی ہے۔ نتیجہ ہے کہ وقتاً فوقتاً عرب ممالک کے نمائشی اجلاس ہوتے رہتے ہیں لیکن کوئی ٹھوس لائحہ عمل تیار نہیں کیا جاتا اور نہ کوئی سخت موقف اپنایا جاتا ہے کہ وہ فلسطین میں مسلم کشی کے خلاف صف بند ہیں، اس لیے امریکہ اور یہودی لابی جب جس طرح کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں کرلیتے ہیں اور فلسطین کی عوام پر قہر برپا کرتے رہتے ہیں۔ حالیہ جنگ کا آغاز حماس کے ذریعہ اسرائیلی عوام کا یرغمال ہے لیکن اس سے پہلے بھی تو اسرائیل غزہ پر بم برساتا رہا ہے اور خان یونس کے علاقے کے معصوم فلسطینیوں کو دربدری پر مجبور کرتا رہاہے۔
پانچ دہائیوں سے فلسطین کی اکثریت خیمے کی زندگی جینے پر مجبور ہے اور یومیہ ضروریات سے محروم ہے۔ نیتن یاہو کی سیاست چونکہ فلسطین کی جنگ کی بدولت مستحکم ہو رہی ہے اور اسرائیل کی قیادت سے و ہ محروم ہونا نہیں چاہتا، اس لیے فلسطین کی جنگ یوں ہی چلتی رہے گی۔ حماس کی حرکت کی حمایت نہیں کی جا سکتی کہ اس نے بھی معصوم اسرائیلیوں کو ہی یرغمال بنایا تھا اور ان میں سے کئی کی جانیں چلی گئیں۔ ہمارا اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا لیکن مثل مشہور ہے کہ ’بہ تنگ آید بہ جنگ آید‘، اس لیے حماس کی مجبوری ہے کہ وہ یہ جانتے ہوئے کہ اس کے پاس اسرائیل کے مقابل اسلحے نہیں ہیں اورنہ اس کی پیٹھ پر کوئی بڑا ملک ہے، وہ اسرائیل سے سینہ سپر ہے لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ امریکہ جو خود کو تحفظ حقوق انسانی کا علمبردار کہتا ہے، ایک طرف وہ یوکرین اور روس کی جنگ بندی کے لیے کوشاں ہے اور یہ دلیل دے رہاہے کہ اس جنگ سے انسانیت تباہ ہو رہی ہے تو دوسری طرف اسرائیل کی ہر طرح کی مدد کر رہاہے اور فلسطین کے عوام کو موت کے گھاٹ اتارنے میں معاون ہے۔
امریکہ کے اس دوہرے معیار کی پالیسی کی وجہ سے ہی حماس اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ بندی معاہدہ ختم ہوا ہے اور غزہ پر بم باری شروع ہوئی ہے۔ اب چونکہ غزہ کی اکثریت خیمے میں زندگی بسر کر رہی ہے یا پھر اپنی عمارت کے ملبوں کو جمع کر از سر نو زندگی شروع کرنے کو تیار ہے تو ایسے وقت میں پھر نیتن یاہو نے اپنے سیاسی مفاد کی خاطر جنگ کا آغاز کیا ہے۔ واضح ہو کہ اسرائیل میں ہر سال مارچ ماہ میں ہی بجٹ سیشن ہوتا ہے اور اگر اس بجٹ سیشن میں حکمراں جماعت بجٹ پاس کرانے میں ناکام رہتی ہے تو اس سیاسی جماعت کو اقتدار سے بے دخل ہونا پڑتاہے۔ چونکہ کچھ شدت پسند سیاسی جماعتیں جو نیتن یاہو کو حمایت کرتی ہیں، ان کا مطالبہ تھا کہ تمام اسرائیلی یرغمال کو واپس لایا جائے، ورنہ وہ اپنی حمایت واپس لے لیں گی، اس لیے نیتن یاہو نے دوبارہ جنگ کا آغاز کر کے ان شدت پسند تنظیموں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے یہ وحشیانہ قدم اٹھایا ہے جیسا کہ دوبارہ جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی کئی شدت پسند تنظیموں نے نیتن یاہو کی حمایت کا اعلان بھی کر دیا۔ واضح ہو کہ اسرائیل میں ایک بڑا طبقہ ہے جو جنگ بندی کاحامی ہے اور مسلسل تل ابیب میں مظاہرہ بھی ہو رہا ہے لیکن اسرائیل حماس کے اقتدار کا غزہ سے خاتمہ کرنے کی بات کہہ کر فلسطین کے وجود کو ہی ختم کرنا چاہتا ہے۔
یوروپ کے تین بڑے ممالک برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے بھی اسرائیل سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے ۔ ظاہر ہے کہ ایک طرف اسرائیل آسمان سے بم وبارود برسا رہاہے تو زمین پر اس کی فوج غزہ کی ناکہ بندی کیے ہوئی ہے اور تمام تر امدادی اشیا کی ترسیل پر پابندی لگ گئی ہے۔ اس کی وجہ سے غزہ میں لاکھوں افراد بھوک پیاس سے تڑپ رہے ہیں۔ ماہ رمضان المبارک میں بھی فلسطینی مسلمان اسرائیلی بم وبارود کے شکار ہو رہے ہیں، معصوم بچے بھوک پیاس سے مر رہے ہیں اور جو زندہ ہیں، وہ دربدری پر مجبور ہیں لیکن خطۂ عرب کے مسلم ممالک عیش پرستی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور اس بربریت کے خلاف چوں تک بولنے کو تیار نہیں۔ ظاہر ہے کہ تمام مسلم ممالک امریکہ اور ان کے حامیوں کے پٹھّو بنے ہوئے ہیں اور صہیونی سیاست کے شکار ہیں۔ ایسے وقت میں حماس ہی ہے جوفلسطینی عوام کے جائز حقوق کے لیے سینہ سپر ہے۔