اہل غزہ کا سسک سسک کر دم توڑنا، بھوک سے ان کی آواز کا گلے سے نہ نکلنا اور سانسوں کا تھک کر سینے میں رک جانا، پیاس کی تڑپ میں دم توڑ دینا-یہ سب انسانیت کے منہ پر طمانچہ ہیں۔ امن پسند اور حساس عالمی برادری کے لیے ان حالات کو نظرانداز کر دینا آسان نہیں۔ اس کے باوجود اہل غزہ تک وافر مقدار میں کھانا، پانی نہیں پہنچ پا رہا ہے، اسرائیل یہ کرنے نہیں دے رہا ہے اور اسرائیل کے ساتھ امریکہ اور اس کے اتحادی یوروپی ممالک ہیں۔ ان کے سربراہوں نے عملی اقدامات سے یہ تاثر دینے کی کوشش نہیں کی ہے کہ اہل غزہ کی بھوک اور پیاس کا ان پر کچھ اثر پڑا ہے۔
ان میں سے کئی ممالک نے فلسطین کو ریاست کے طور پر قبول کرنے کی بات کہی ہے لیکن بھوک سے مرتے ہوئے فلسطینیوں کے لیے اس کی کیا اہمیت ہوگی۔ انہیں وافر مقدار میں غذا چاہیے، دوا چاہیے، سکون چاہیے، جنگ سے پاک ماحول چاہیے مگر امریکہ اور اس کے اتحادی یوروپی ممالک کے لیے ان چیزوں سے زیادہ اہمیت اسرائیل کی خوشنودی کی ہے۔ بات اگر یہ نہیں ہے تو پھر امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ جس طرح یوکرین جنگ ختم کرانے کے لیے کوشاں ہیں، غزہ جنگ کرانے کے لیے کیوں نہیں ہیں؟ کیا ہے اس کی اصل وجہ؟ وہ کس بات کا انتظار کر رہے ہیں؟ کیا تمام فلسطینیوں کے بھوک سے مرجانے کا وہ انتظار کر رہے ہیں تاکہ غزہ ان کے قبضے میں آجائے اور وہ اس جگہ ساحلی تفریح گاہ بناسکیں؟
اگر یہ باتیں غلط ہیں تو پھر امریکہ کے صدر اور اسرائیل حامی امریکہ کے اتحادی یوروپی ممالک کے سربراہوں کو یہ بتانا چاہیے کہ 22 اگست، 2025 کو قحط کے حد سے بڑھ جانے کے اعلان کے بعد انہوں نے اہل غزہ کے لیے کیا کیا ہے؟ اقوام متحدہ کا واضح الفاظ میں کہنا ہے،’قحط کو روکنے میں بہت دیر ہو گئی ہے۔‘ بھوک اور قحط کو مانیٹر کرنے والے عالمی ادارے’انٹیگریٹیڈ فوڈ سیکورٹی فیز کلاسی فکیشن اینی شی ایٹو کے حوالے سے آنے والی اطلاع کے مطابق، ’قحط سے غزہ میں بھوک سے 5 لاکھ فلسطینی متاثر ہیں۔‘یہ بات الگ ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے اسے ’سفید جھوٹ‘ قرار دیا ہے۔ان کا یہ موقف باعث حیرت نہیں، البتہ اس بات پر حیرانی ضرور ہوتی ہے کہ انسانیت کی باتوں سے اپنی امیج چمکانے والے عالمی لیڈروں کے لیے حقائق کی زیادہ اہمیت نہیں۔ اسی لیے اقوام متحدہ کے غزہ کے حالات کے بارے میں بتانے کے باوجود اہل غزہ کی امداد کے لیے بڑے اقدامات کرنے سے ان کی دلچسپی نظر نہیں آرہی ہے۔ رہی بات مشرق وسطیٰ اور مسلم ممالک کی تو ان کے لیڈران ہمیشہ سے جذباتی بیانات سے کام چلاتے رہے ہیں لیکن سوشل میڈیا کے اس دور میں ان کے بیانات کے منفی اثرات ان پر پڑ رہے ہیں۔
ان کی وہ امیج نہیں رہ گئی ہے جو کبھی تھی۔ یہ بات عالمی برادری کی سمجھ میں آنے لگی ہے کہ اخلاقی جرأت ان میں نہیں ہے۔ انسانیت کے نام پر بھی وہ اہل غزہ کی مدد نہیں کر سکتے۔ ان کے لیے سب سے زیادہ عزیز ان کا اپنا اقتدار ہے لیکن یہ بات طے سی ہے کہ حالات ہمیشہ اسی طرح کے نہیں رہیں گے۔ غزہ جنگ مشرق وسطیٰ کے حالات بدلے گی، یوروپ کے حالات بھی بدلے گی۔ یوروپی ممالک کی نئی نسل انسانیت کے خلاف اسرائیلی اقدامات پر مظاہرے کرکے مسلسل یہ اشارے دے رہی ہے کہ انسانیت کے تحفظ کے نام پر ڈرامہ بازی اسے منظور نہیں۔ اور مشرق وسطیٰ کے ملکوں کے لوگوں کی خاموشی اگر کسی بڑے طوفان کی تمہید بن جائے تو اس پر قطعی حیرت نہیں کی جانی چاہیے۔