خواجہ عبدالمنتقم
ملک کے اقتدار اعلیٰ، سالمیت و اتحادکے لیے خطرناک سرگرمیوں اور دہشت گردانہ افعال پر پابندی لگانے کے لیے مجموعہ تعزیرات بھارت کو منسوخ کرنے کے بعد بھارتیہ نیائے سنہتا کے نام سے جو نیا قانون لایا گیا ہے، اس میں جو دفعات شامل کی گئی ہیں، ان سے یہ واضح اشارہ ملتا ہے کہ حکومت ملک مخالف سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھے گی اور قصورواروں کو جرم کی نوعیت کے حساب سے سخت سزا ئیں دی جائیں گی۔
ملک مخالف سرگرمیوں سے متعلق سنہتا کی دفعہ 152: ’’جوکوئی کسی غرض سے یا جان بوجھ کر بذریعہ الفاظ، خواہ کہے گئے یا تحریری، یا بذریعہ اشارات یا واضح اظہار یا الیکٹرانک ترسیل یا مالی ذرائع کے استعمال کے ذریعے یادیگر طورپر علیحدگی یامسلح بغاوت یا تخریبی سرگرمیوں کی ترغیب دیتا ہے یا اس کا اقدام کرتا ہے یا علیحدگی کے جذبات کو بڑھاوا دیتا ہے یا بھارت کی سالمیت اور اتحاد کو خطرے میں ڈالتا ہے یا ایسے کسی کام میں شامل ہوتا ہے یا اسے انجام دیتا ہے تو اسے سزائے عمر قید یا سات سال تک کی سزائے قید دی جائے گی اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہوگا۔
تشریح- اس دفعہ میں مصرحہ سرگرمیوں کی ترغیب دیے بغیر یا ترغیب دینے کا اقدام کیے بغیر جائز ذرائع کے ذریعے ان میں تبدیلی لانے کی نظر سے سرکار کے اقدامات یا انتظامی یا دیگر امر کی نسبت ناپسندیدگی کی بابت تبصرہ اس دفعہ کے تحت جرم نہیں ہے۔‘‘
دہشت گردا نہ افعال کی بابت سنہتا کی دفعہ 113: ’’113(1)جو کوئی بھارت کے اتحاد، سالمیت، اقتدار اعلیٰ، سلامتی یا اقتصادی سلامتی یا بھارت میںیا کسی غیرملک میں عوام یا عوام کے کسی طبقے میں دہشت پھیلانے یا دہشت پھیلانے کی نیت سے،—
(الف) بم، ڈائنامائٹ یا دیگر دھماکہ خیزیاآتش گیر مادہ، آتشی اسلحہ یا دیگرمہلک ہتھیاروں یا زہریلی یا ضرر رساں گیسوں یا دیگرکیمیائی مادے یا کسی دیگر خطرناک مادے (خواہ وہ حیاتیاتی، ریڈیو ایکٹو (تابکاری)، جوہری یا دیگر ذرائع) کااستعمال کرکے ایسا کوئی کام کرتا ہے جس سے—
(i) کسی ایک یا ایک سے زیادہ اشخاص کی موت واقع ہوجاتی ہے یا دیگر کسی قسم کا ضرر پہنچتا ہے یا پہنچنے کا امکان ہے؛ یا
(ii)جائیداد کو نقصان یاضرر پہنچتا ہے یاتباہ ہوجاتی ہے یا ہونے کا امکان ہے؛ یا
(iii) بھارت میں یا کسی دوسرے ملک میں لوگوں کی زندگی کے لیے لازمی اشیا یا خدمات میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے یا ہونے کا امکان ہے؛ یا
(iv) جعلی بھارتی کاغذی کرنسی،سکے یا کسی دیگر سامان کی پیداوار یا اسمگلنگ یاگردش یا سرکولیشن کے ذریعے بھارت کے مالیاتی استحکام کو نقصان ہوتا ہے یا ہونے کا امکان ہے؛ یا
(v) بھارت کے دفاع یا بھارت سرکار، کسی ریاستی سرکار یا ان کی کن ہی ایجنسیوں کے کن ہی اغراض کے تعلق سے استعمال کی گئی یا جس کا استعمال کیا جانا مقصود ہو بھارت میں یا دیگر کسی ملک میں کسی جائیداد کا نقصان یاتباہی ہوتی ہے یا ہونے کا امکان ہے؛ یا
(ب) کسی سرکاری اہلکار کو مجرمانہ دباؤکے ذریعے یا مجرمانہ دباؤ کا اظہار کرکے دہشت زدہ کرتا ہے یا ایسا کرنے کا اقدام کرتا ہے یا کسی سرکاری اہلکار کو ہلاک کرتا ہے یا کسی سرکاری اہلکار کی موت واقع کرنے کا اقدام کرتا ہے؛ یا
(ج) کسی شخص کو حراست میں رکھتا ہے، اس کا اغوا کرتا ہے یا بھگاکر لے جاتا ہے اور ایسے شخص کو جان سے مارنے یا ضرر پہنچانے کی دھمکی دیتا ہے یا بھارت سرکار کو یا کسی ریاستی سرکار کو یا کسی غیرملکی سرکار کو یا کسی بین الاقوامی یا بین الریاستی تنظیم یا کسی دیگر شخص کو کوئی کام کرنے یا نہ کرنے کے لیے مجبور کرتا ہے تو وہ دہشت گردانہ فعل کا ارتکاب کرتا ہے۔
تشریح- اس ذیلی دفعہ کی اغراض کے لیے،—
(الف) ’’سرکاری اہلکار‘‘ سے آئینی حکام یا کوئی دیگر ایسا اہلکار مراد ہے جسے مرکزی حکومت نے سرکاری گزٹ میں بطور سرکاری اہلکارنوٹیفائی کیا ہو؛
(ب) ’’جعلی بھارتی کرنسی‘‘ سے ایسی جعلی کرنسی مراد ہے جس کی بابت کسی مجاز یا نوٹیفائی کیے گئے فورنسک حاکم نے بعد از معائنہ یہ اعلان کردیا ہو کہ ایسی کرنسی بھارتی کرنسی کی کلیدی تحفظاتی خصوصیات کے مشابہ ہے۔
(2) جو کوئی، کسی دہشت گردانہ فعل کا ارتکاب کرتا ہے،—
(الف) اگر ایسے جرم کے نتیجے میں کسی شخص کی موت ہوجاتی ہے تو اسے سزائے موت یا قید کی سزا دی جائے گی اور جرمانے کا بھی مستوجب ہوگا؛
(ب) کسی دوسرے معاملے میں اسے کم از کم پانچ سال کی اور زیادہ سے زیادہ عمرقید کی سزا دی جائے گی اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہوگا۔
(3) جو کوئی، کسی دہشت گردانہ فعل یا کسی دہشت گردانہ فعل کے ارتکاب کی تیاری کرنے کی سازش کرتا ہے یا اقدام کرتا ہے یا ترغیب دیتا ہے، حمایت کرتا ہے، صلاح دیتا ہے یااشتعال دلاتا ہے یا ایسے فعل کے ارتکاب کو یا اس کی تیاری کے کسی فعل کو براہ راست یا جان بوجھ کرسہل بناتا ہے اسے کم سے کم پانچ سال یا زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا دی جائے گی اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہوگا۔
(4) جو کوئی، دہشت گردانہ فعل کی تربیت دینے کے لیے کسی کیمپ یا کن ہی کیمپوں کا انعقاد کرتا ہے یا انعقاد کرواتا ہے یا دہشت گردانہ فعل کے ارتکاب کے لیے کسی شخص یا کن ہی اشخاص کی بھرتی کرتا ہے یا بھرتی کرواتا ہے اسے کم سے کم پانچ سال یا زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا دی جائے گی اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہوگا۔
(5) کوئی شخص، جو کسی ایسی دہشت گردانہ تنظیم کا رکن ہے جو دہشت گردانہ فعل میں ملوث ہے، اسے عمرقید تک کی مدت تک کی سزا دی جاسکتی ہے اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہوگا۔
(6)جو کوئی، ایسے کسی شخص کو یہ جانتے ہوئے کہ ایسے شخص نے کسی دہشت گردانہ فعل کا ارتکاب کیا ہے، قصداًپناہ دیتا ہے یا چھپا کر رکھتا ہے یا پناہ دینے یا چھپانے کا اقدام کرتا ہے، اسے کم از کم تین سال کی اور زیادہ سے زیادہ عمرقید کی سزا ہوسکے گی اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہوگا۔
مگر شرط یہ ہے کہ اس ذیلی دفعہ کا اطلاق کسی ایسے معاملے میں نہیں ہوگا جس میں مجرم کو اس کے شوہر یا بیوی نے پناہ دی ہو یا چھپاکر رکھا ہو۔
(7) جو کوئی، کسی دہشت گردانہ فعل کے ارتکاب سے حاصل یا وصول کی گئی یا دہشت گردانہ کارروائی کے ذریعے حاصل کی گئی جائیداد کو یہ جانتے ہوئے اپنے قبضے میں رکھتا ہے تو اسے عمرقید تک کی سزا دی جائے گی اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہوگا۔
تشریح- شبہات کو دور کرنے کے لیے، یہ واضح کیا جاتا ہے کہ کم از کم پولیس سپرنٹنڈنٹ کے رینک کا افسر ہی یہ فیصلہ لے سکے گا کہ کیا اس دفعہ کے تحت یا غیرقانونی سرگرمیاں (انسداد) ایکٹ،1967 (1967 کا37)کے تحت معاملہ رجسٹر کیا جائے یا نہیں۔‘‘
مگر یاد رہے کہ کسی بھی شخص کو اس وقت تک دہشت گرد یا غدار یا مجرم نہیں کہا جا سکتا جب تک کہ عدالت کا حتمی فیصلہ نہ آجائے۔
(مضمون نگارماہر قانون، آزاد صحافی،مصنف،سابق بیورکریٹ و بین الاقوامی ادارہ برائے انسانی حقوق سوسائٹی کے تا حیات رکن ہیں)
[email protected]