عبدالماجد نظامی
سب سے پہلے تو اس کالم کے توسط سے میں اپنی جانب سے اور روزنامہ راشٹریہ سہارا پریوار کی طرف سے اپنے تمام قارئین و منتسبین کو نئے سال کی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ میں ذاتی طور پر سہارا کے ساتھ کسی بھی شکل میں وابستہ حضرات کا شکر یہ ادا کرتا ہوں کہ ان کی انتھک محنت اور شبانہ روز لگن و فنائیت کی وجہ سے ہمارے قارئین تک ایک معیاری اخبار پہونچتا ہے جس کے ذریعہ ان کی ذہنی تثقیف اور فکری بالیدگی کا سامان مہیا ہوتا ہے۔ ایک ایسے عہد میں جبکہ قلم پر پہرے لگے ہوئے ہیں اور افکار کو قید کرنے کی کوشش جاری رہتی ہے اس عہد میں بیباک اور منصفانہ انداز صحافت کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اسی لئے وہ تمام صحافی، تجزیہ نگار اور پورا عملہ سال نو کے آغاز پر نہ صرف بڑی مبارکبادی کے حق دار ہیں بلکہ وہ قابل رشک و اعتنا بھی ہیں کہ ان کی وجہ سے حق کی دنیا میں اہل فکر و دانش کا اکال نہیں پڑا ہے۔ جہاں تک مجموعی صورتحال کا تعلق ہے تو سبھی اس حقیقت سے واقف ہیں کہ ہمارا پیشہ مختلف نوع کے بحرانوں سے ہمارے ملک میں گزر رہا ہے۔ میڈیا اپنی بنیادی اور اصولی ذمہ داریوں سے کئی بار پہلو تہی کرتا نظر آتا ہے جس کی وجہ سے عوام کی آواز بننے میں وہ کوتاہ رہ جاتا ہے۔ اس عمل کے بڑے سنجیدہ نتائج سامنے آتے ہیں۔ بجائے اس کے میڈیا کمزور طبقات کی آواز بنے اور انہیں انصاف دلانے کے لئے ان کی آواز کو قوت و تاثیر عطا کرے وہ خود ارباب ظلم و جور کا آل کار بن کر ایک بیمار سماج تیار کرنے میں مصروف ہوجاتا ہے۔ ایسی حالت میں ظاہر ہے کہ ایک قانون پر مبنی ایسے معاشرہ کا تصور نہیں کیا جا سکتا ہے جس میں سیاسی، سماجی اور اقتصادی استحصال کے راستے بند کئے جا سکتے ہوں۔ جمہوری نظام میں جب تک میڈیا کمزور طبقات کی دست گیری نہیں کرے گا اور اسٹیبلشمنٹ کے مقابلہ میں اس کی آواز کو مضبوط کرنے میں اپنا پیشہ ورانہ تعاون پیش نہیں کرے گا تب تک اس کی توقع نہیں کی جا سکتی کہ خواتین اور بچوں کے حقوق کا تحفظ ہوگا، تعلیم و صحت اور روزگار کے مسائل حل ہوں گے، اقلیتی طبقوں کے حقوق کی پامالی کا سلسلہ بند ہوگا، کسانوں کو خود کشی سے بچایا جا سکے گا یہاں تک کہ عام روز مرہ کی زندگی کا سکون بھی غارت ہوجائے گا اگر میڈیا ارباب اقتدار کا ہم زبان و ہم کلام ہوجائے۔ ہمارے ملک میں یہ تصور عوام میں پھیل چکا ہے کہ آج کا میڈیا دراصل اپنی بنیادی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے بجائے اپنے سیاسی آقاں کے چشم و ابرو کے اشارے پر جنبش قلم و لب کا رخ متعین کرنے کا عادی ہوگیا ہے۔ اس قسم کا تصور میڈیا اور صحافت کے وابستگان کی امیج کے لئے کس قدر خطرناک ہے اس کا اندازہ لگانا بالکل مشکل کام نہیں ہے۔ میڈیا کی اہمیت عوام کے اعتماد کی وجہ سے ہے۔ جو الفاظ بولے اور لکھے جاتے ہیں ان کو غور سے لاکھوں اور کروڑوں کی تعداد میں بیک وقت اپنے ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر دیکھنے، پڑھنے یا سننے کی زحمت اسی لئے گوارہ کرتی ہے کیونکہ اس کو بھروسہ ہوتا ہے کہ میڈیا ابھی باضمیر ہے، صحافی اب تک فروخت نہیں ہوا ہے اور زبان حق پر قفل بندی کی ترکیبیں کامیاب نہیں ہوئی ہیں۔ اگر عوام کا یہ بھروسہ ہی ختم ہوجائے تو میڈیا اپنا وقار اور صحافی اپنا وزن کھو بیٹھے گا۔ تب نہ کوئی اخبار خریدے گا اور نہ ہی کوئی نیوز چینل اپنے لئے ٹی آر پی بٹور پائے گا۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارا پیشہ ہمارے ملک میں تقریبا اسی راہ پر گامزن ہے جس میں اس پر اعتماد کی جڑیں روز بروز کمزور ہو رہی ہیں۔ میری پہلی توقع اس نئے سال کے آغاز پر خود ہمارے اپنے ہم پیشہ لوگوں سے ہے کہ وہ جمہوریت کے ستون کو مضبوط کرنے کے لئے اپنا پیشہ ورانہ عمل ضرور جاری رکھیں گے تاکہ حق کا چراغ گل نہ ہو۔ یہ میڈیا کے چند باضمیر صحافی ہی ہیں جن کی ایمان داری اور محنت کی وجہ سے اس ملک میں کسانوں کی تحریکیں کامیاب ہوئی ہیں، عصمت دری کے مجرموں کو کیفر کردار تک پہونچایا جا سکا ہے، اراولی کی پہاڑیوں کو مزید تباہی سے بچانے کی کوششوں کو گھر گھر تک پہونچانا ممکن ہوا ہے اور اقتصادی ترقی کا جھانسہ دے کر پہاڑوں، ندیوں اور جھیلوں تک کی تباہی کی داستان اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی قدرتی آفات کے متاثرین کے مسائل سے ملک و دنیا تک کے عوام کو باخبر کر پانا حد امکان میں آ سکا ہے۔ دوسری کوشش اس بات کی ہونی چاہئے کہ ہمارا عدالتی نظام بے خوف اور بے لوث کام کو انجام دے۔ انصاف کا ترازو اس قدر حساس ہے کہ اس کے توازن میں معمولی کمی کے نقصانات بہت گہرے اور دیر پا ہوتے ہیں۔ انسانی معاشرہ سخت انتشار کا شکار ہوجائے گا اگر کمزور اور مظلوم طبقات عدالتوں کے فیصلوں میں اپنے دکھ درد کا حل نہ دیکھ پائیں۔ ہمارا عدالتی نظام بڑی سرعت کے ساتھ اسی جہت میں جاتا نظر آ رہا ہے جس میں انصاف ایک خرید و فروخت کی چیز بن گیا ہے جس کو یا تو ارباب ثروت خرید سکتے ہیں یا شہ زور اس کو چھین سکتے ہیں۔ یہ صورت حال سخت مایوس کن اور خطرناک ہے۔
اس کو بدلنا چاہئے کیونکہ اس سے ملک کے نظم و انتظام اور امن و استحکام کے مسائل وابستہ ہیں۔ میری تیسری توقع ارباب سیاست اور بطور خاص اقتدار کے متوالوں سے ہے کہ وہ وقتی قوت کو اپنی دائمی کامیابی کے طور پر دیکھنا بند کریں۔ انہیں یہ معلوم ہونا چاہئے کہ تاریخ بہت بے رحم واقع ہوئی ہے۔ وہ نفرت پھیلانے والوں اور لوگوں کو تقسیم کرکے ان کا مستقبل تباہ کرنے والوں کو کبھی معاف نہیں کرتی ہے۔ تاریخ میں ایک دن ایسا بھی آئے گا جب تمام مظالم کو درست کرنے کا موقع مظلوم طبقات کو ملے گا اور اس وقت آپ تاریخ کی عدالت میں مجرم ثابت ہوں گے۔ بات بات پر غریبوں کا گھر بلڈوز کر دینا، اقلیتوں سے ان کی مذہبی اور فکری آزادی چھین لینا اور انہیں سماج کے حاشیہ پر دھکیل کر خوش ہونا یہ وہ جرائم ہیں جن کا دفاع کوئی مہذب سماج نہیں کر سکتا۔ ارباب اقتدار کو چاہئے کہ وہ اپنی توجہات کا مرکز صحیح معنوں میں ملک اور عوام کے مسائل کے حل پر مرکوز کریں۔ ان کے لئے مسائل پیدا نہ کریں۔ یہ ملک جتنا قدیم ہے اتنا ہی عظیم بھی ہے۔ اس کی عظمت پر بٹہ لگانے کی اجازت کسی کو نہیں دی جائے گی کیونکہ ہمیں یہ ملک اپنی آئندہ نسلوں کے حوالہ اس حال میں کرنا ہے کہ وہ اپنی وراثت پر فخر محسوس کریں نہ کہ اس پر لعنت برسائیں۔ آج ہمارے ارباب اقتدار جس راہ پر چل پڑے ہیں اس سے ملک میں سخت بے چینی اور مایوسی کا ماحول ہے۔ مجھے امید ہے اس نئے سال میں ان غلطیوں کو درست کرکے ایک متحد ملک اور مشترک وراثت کی تشکیل کا سامان مہیا کیا جائے گا۔ اسی مثبت پیغام کے ساتھ آپ سے اجازت لیتا ہوں۔ اگلے کالم میں پھر ملاقات ہوگی۔ آپ کو نیا سال بہت مبارک ہو!
(مضمون نگار روزنامہ راشٹریہ سہارا کے گروپ ایڈیٹر ہیں)
editor.nizami@gmail.com






