وقف ترمیمی بل کے منفی نتائج اور مسلمانان ہند کی بڑھتی دقتیں : عبدالماجد نظامی

0

عبدالماجد نظامی

ہندوستانی مسلمانوں سے آر ایس ایس اور بی جے پی کو جو ازلی عناد ہے، وہ کسی سے مخفی نہیں ہے۔ ہندوتو کے نظریہ کی اساس ہی مسلم اقلیت کو دشمن کے طور پر پیش کرنے پر ٹکی ہے۔ مسلمانوں کے خلاف شب و روز زہر افشانی کرنا کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے جس کو یہ کہہ کر نظرانداز کیا جا سکتا ہے کہ یہ محض سنگھ اور بی جے پی کے نچلی سطح کے لیڈروں کا غیر ذمہ دارانہ اور غیر اخلاقی رویہ ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مسلم اقلیت کے خلاف محاذ آرائی میں خود وزیراعظم نریندر مودی اور الگ الگ ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ سر فہرست نظر آتے ہیں۔ ایسی سرکار کا یہ دعویٰ ہے کہ وقف ترمیمی بل جس کو اب مکمل قانون بننے میں زیادہ وقت باقی نہیں ہے، دراصل مسلمانوں کے مفادات کے تحفظ کی غرض سے لایا گیا ہے۔ اس دعویٰ سے زیادہ مضحکہ خیز شاید ہی کوئی بات ہوسکتی ہے۔ اس کے برعکس سچائی یہ ہے کہ مسلمانوں کے لیے مزید مسائل پیدا کرنا اور انہیں ان محدود مفادات سے بھی محروم کرنا جو وقف املاک کی بدولت انہیں حاصل ہوتے ہیں، اس بل کا حقیقی مقصد ہے۔

وقف املاک ہندوستان کی مسلم اقلیت کے لیے بڑی اہمیت رکھتی ہیں کیونکہ اوقاف کی زمینوں پر ہی مساجد، مدارس اور یتیم خانے قائم ہیں۔ ان زمینوں اور املاک کو مسلمانوں نے غریب و نادار مسلمانوں کی کفالت کے لیے وقف کیا تھا اور صدیوں سے ان کا فائدہ کمیونٹی کو پہنچتا رہا ہے۔ ان املاک کی نگرانی کی ذمہ داری اب تک وقف بورڈوں کے ذریعہ ہوتی رہی ہے۔ ان بورڈوں میں مسلمانوں کی نمائندگی رہتی تھی اور وہی کمیونٹی کے مفادات کو پیش نظر رکھ کر ان کا مناسب استعمال کرتے تھے۔ لیکن اب شاید ایسا نہ ہو پائے کیونکہ موجودہ سرکار موجودہ قانون میں تقریباً 40 ترمیمات کرکے وقف کی پوری حیثیت ہی بدلنے کے لیے آمادہ ہوگئی ہے۔ یہ بل پہلی بار اگست 2024 میں پارلیمنٹ کے اندر بحث کے لیے پیش کیا گیا تھا لیکن اپوزیشن پارٹیوں کے دباؤ کی وجہ سے اس کو جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی میں مزید بحث کے لیے بھیجا گیا تاکہ اپوزیشن اراکین کی رائے بھی لی جا سکے۔

لیکن اپوزیشن پارٹیوں کے جو اراکین جے پی سی میں شامل تھے، ان کا دعویٰ ہے کہ ان کی آراء یا مخالفت کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی بلکہ ان کے اعتراضات کو شامل ہی نہیں کیا گیا۔ اس کے باوجود نریندر مودی کی سرکار یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ مجوزہ بل کے ذریعہ جو تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں، وہ اس لیے بہت ضروری ہیں کہ وقف املاک کی دیکھ ریکھ میں جو کرپشن ہو رہا ہے، اس کو روکا جا سکے اور مسلم کمیونٹی کے جو مطالبات ہیں ان کو پورا کیا جاسکے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ بے شمار مسلم تنظیموں اور اپوزیشن پارٹیوں نے روزِ اول ہی سے اس مجوزہ بل کی مخالفت کی ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ اس بل کا بنیادی مقصد سیاسی طور پر فائدہ اٹھانا ہے اور اس بات کی کوشش ہے کہ مسلمانوں کے حقوق کو مزید کمزور کیا جائے۔

وقف کی روایت ہندوستان میں بہت قدیم ہے اور تقریباً بارہویں صدی سے ہی اس کا چلن رہا ہے جب دہلی سلطنت کا غلبہ و تسلط قائم ہوا تھا۔مغلیہ دور سے ہوتے ہوئے انگریزی استعمارکے عہد میں بھی یہ سلسلہ نہ صرف قائم رہا بلکہ وقف کی املاک میں روز بروز اضافہ ہی ہوتا رہا۔ آزادی کے بعد بھی وقف املاک کی حفاظت اور مسلم کمیونٹی کی فلاح و بہبود کے لیے اس کے استعمال کو یقینی بنانے کے لیے قانون بنایا گیا اور اب تک وقف ایکٹ 1995 کے تحت اس کا نظم و انصرام جاری رہا ہے۔ اس کے تحت ریاستی سطح پر بورڈوں کی تشکیل عمل میں آتی ہے جن میں ریاستی سرکاریں بعض اراکین نامزد کرتی ہیں، مسلم قانون ساز ہوتے ہیں، ریاستی بار کونسل کے ارکان ہوتے ہیں اور ان کے علاوہ مسلم دانشوران اور وقف املاک کے منتظمین شامل ہوتے ہیں جو ہندوستان میں وقف کی تقریباً 9 لاکھ 40 ہزار ایکڑ زمین کا نظم و انتظام کرتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ بورڈوں میں کرپشن کا مسئلہ ہمیشہ سے سنگین رہا ہے اور ان کے اراکین پر یہ الزام لگتا رہا ہے کہ وہ ناجائز قبضہ جمانے والوں کے ساتھ مل کر وقف کی املاک کو بیچتے رہے ہیں۔ حالانکہ وقف کی زمین کی ملکیت اسلامی شریعت کے اعتبار سے صرف اللہ کی ہوتی ہے اور اسی لیے ان کو بیچا نہیں جا سکتا۔ جہاں تک ناجائز قبضوں کا تعلق ہے تو اس میں افراد، تجارتی گھرانے اور خود الگ الگ ریاستوں کی سرکاریں بھی شامل ہیں۔ سچر کمیٹی نے جب 2006 میں اپنی رپورٹ پیش کی تھی تو وقف کی املاک میں کرپشن کے معاملہ کا بطور خاص ذکر کیا تھا اور یہ مشورہ دیا تھا کہ اس میں اصلاح کی ضرورت ہے تاکہ ان املاک سے حاصل ہونے والی آمدنیوں کو کمیونٹی کی فلاح کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

ایک اندازہ کے مطابق وقف کی موجودہ سالانہ آمدنی دو ارب روپے ہے جبکہ اس میں اس کی گنجائش ہے کہ ان املاک سے سالانہ ایک سو دو ارب روپے کی آمدنی حاصل کی جا سکتی ہے۔ اگر وقف بل میں ایسی اصلاحات کی جاتیں تو شاید ہی کوئی اعتراض ہو سکتا تھا۔ لیکن اعتراض کیا ہی اسی لیے جا رہا ہے کیونکہ اس مجوزہ بل میں ملکیت سے متعلق قوانین کو بدلا جا رہا ہے جن کا سیدھا اثر مساجد، خانقاہوں اور قبرستانوں پر پڑے گا۔ بہت سی املاک ایسی ہیں جو صدیوں سے مسلمانوں کے لیے استعمال ہو رہی ہیں لیکن ان کے دستاویزات کی دقت ہے کیونکہ وہ املاک یا تو زبانی طور پر وقف ہوئی تھیں یا ان کے دستاویزات صدیوں پرانے ہیں۔ 1954 کے وقف ایکٹ نے ایسی املاک کو وقف ہی گردانا تھا۔

حالیہ بل اس ملکیت کی اس شق کو قبول نہیں کرتا ہے۔ اس کا مطلب ایسی املاک کی قسمت کا فیصلہ اب سرکار کرے گی۔ اس کا بھی اندیشہ ہے کہ سرکار اس زمین کو اپنی تحویل میں لے لے اور مسلمان اس سے محروم کر دیے جائیں۔ اس کے علاوہ وقف بورڈوں کی تشکیل کے لیے اس بات کو لازمی قرار دیا گیا ہے کہ ان میں غیرمسلموں کو بھی شامل کیا جائے۔ ظاہر ہے کہ اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔ لیکن کم سے کم اس سے یہ تو ظاہر ہی ہوتا ہے کہ سرکار صرف اپنا کنٹرول ہی نہیں تھوپنا چاہتی ہے بلکہ مسلم اقلیت کو اکثریتی طبقہ کے زیر تسلط بھی رکھنا چاہتی ہے جو ہندوتو کے سیاسی ایجنڈہ کے عین مطابق ہے اور اسی لیے سرکار کی نیت پر شک کیا جا رہا ہے۔ مجوزہ بل میں یہ شق بھی موجود ہے کہ اب وقف بورڈوں کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ اپنی املاک کو ضلع کلکٹر کے یہاں رجسٹر کروائیں اور کلکٹر صاحب سرکار کو اپنا مشورہ دیں گے کہ وقف کی املاک معتبر ہیں یا نہیں۔

یہ سوائے اس کے اور کچھ نہیں ہے کہ مسلمانوں کو ان کی جائز املاک سے محروم رکھا جائے اور انہیں سرکاری رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے۔ یہ بس چند ترمیمات ہیں جن کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور ان کے دور رس منفی اثرات ہندوستان کی مسلم اقلیت پر پڑیں گے۔ آج کی موجودہ سرکار کی باتیں گرچہ مثبت اصلاح کے خطوط پر جاری ہیں لیکن اس کی نیت کا سچ چھپائے نہیں چھپ سکتا۔ ہندوستانی مسلمانوں کو اس بل کے قانون بن جانے کے بعد مستقبل میں جن چیلنجوں سے نبرد آزما ہونا پڑے گا، ان کے لیے ابھی سے تیار رہنا چاہیے۔

(مضمون نگار روزنامہ راشٹریہ سہارا کے گروپ ایڈیٹر ہیں)
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS