کیا ہماری خارجہ پالیسی اپنی جہت کھو رہی ہے؟ : عبدالماجد نظامی

0

عبدالماجد نظامی

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ لگاتار ہندوستان کو نشانہ بنا رہے ہیں اور ٹیرف کی جنگ میں ہندوستان کو بطور خاص روس سے تیل خریدنے کا مجرم مان کر اس پر گویا تاوان عائد کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کے اس رویہ سے ہمارے ملک میں جو مایوسی پیدا ہوئی ہے، وہ واضح ہے۔ اس مایوسی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ سے ایسی توقع قطعاً نہیں تھی۔ امید یہ کی جا رہی تھی کہ ٹرمپ کی آمد سے ہند و امریکہ تعلقات میں مزید مضبوطی پیدا ہوگی کیونکہ وزیراعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان نہایت خوشگوار رشتے ہیں اور ان کے مثبت اثرات دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات پر بھی پڑیں گے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا اور مسلسل ہندوستان کے ساتھ سوتیلا برتاؤ کیا جانے لگا ہے۔ خود مودی سرکار اس معاملہ سے کافی پریشان ہے اور اس کو سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ ٹرمپ کے اس بدلے ہوئے تیور اور اس کے معاندانہ رویہ کا جواب کس طرح سے دے۔ اب تک ٹرمپ کی جانب سے دیے جانے والے اکثر بیانات پر مودی سرکار نے یا تو خاموشی کا راستہ اپنایا ہے یا پھر بہت دھیمے الفاظ میں ان کا جواب دیا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ نریندر مودی ہندوستان کے امریکہ سے تعلقات کو خراب کرنا نہیں چاہتے ہوں اور طریقہ یہ اپنایا گیا ہو کہ یا تو ٹرمپ کے ساتھ طویل اور تدریجی بات چیت کے ذریعہ اختلافات کو ختم کیا جائے اور بہتر رشتوں کے لیے ماحول کو سازگار بنایا جائے یا پھر یہ پالیسی اختیار کی جا رہی ہو کہ ٹرمپ کی باقی ماندہ مدت صدارت کو ایک مشکل مرحلہ سمجھ کر گزارا جائے تاکہ جب اگلے صدر وہائٹ ہاؤس کی زینت بنیں تو ہند-امریکہ تعلقات کو دوبارہ سے نئی جہت عطا کرنے کی کوشش کی جائے۔

لیکن اس سے اصل مسئلہ حل نہیں ہوگا کیونکہ ہندوستان کے ایکسپورٹ پر اعلیٰ شرح کے ٹیرف سے جو اقتصادی مسائل پیدا ہو رہے ہیں اور آنے والے برسوں میں نوکریوں پر اس کے جو منفی اثرات مرتب ہوں گے، ان سے عام ہندوستانیوں اور تاجروں دونوں کو سخت دشواریاں پیش آئیں گی۔ وزیراعظم نے غالباً اس کا ایک حل یہ تلاش کرنے کی کوشش کی ہے کہ سودیسی کی تحریک چلائی جائے اور سودیسی کی تعریف انہوں نے یہ کی ہے کہ مال چاہے کسی کا لگا ہو لیکن پسینہ ہندوستانیوں کا جس پروڈکٹ کو تیار کرنے میں لگے، وہ سودیسی ہے۔ اب ظاہر ہے کہ یہ ایک ایسی تجویز ہے جس کا آج کی دنیا میں کوئی مطلب نہیں نکلتا ہے۔ اگر آپ دنیا کا مال نہیں خریدیں گے تو دنیا کے بازار میں آپ کا مال بھی نہیں خریدا جائے گا۔ ہندوستان جیسی مضبوط اور بڑی تجارت کو اس طرح کی باتیں نہیں کرنی چاہیے کیونکہ اس کا صاف نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ ہم مسائل کو حل کرنے میں ناکامی کی صورت میں اپنے خول میں بند ہونے کا راستہ ڈھونڈ رہے ہیں۔ سودیسی کی یہ نئی تحریک کتنی کامیاب ہوگی جبکہ ہمارا انحصار بھاری مشینری، انجینئرنگ اور دفاعی امور میں دنیا کی بڑی قوتوں پر ہے؟ اس سے قبل جب چین کے ساتھ ہمارے سرحدی مسئلے پیدا ہوئے تب بھی ہم نے کوشش کی تھی کہ چین کا مال نہ خریدا جائے لیکن نتیجہ کیا نکلا؟ گلوان معاملہ کے بعد آج یہ حالت ہے کہ ہم چین سے پہلے کے مقابلہ زیادہ اشیاء برآمد کر رہے ہیں۔

اب جبکہ ہمارے تعلقات امریکہ سے خراب ہونے کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں تو اپنی خارجہ پالیسی کو توازن عطا کرنے کے لیے ہم چین کی طرف دوبارہ جھک رہے ہیں اور یہ کوشش کر رہے ہیں کہ امریکہ کو یہ بتا سکیں کہ ہمارے پاس آپشنز کی کمی نہیں ہے۔ اسی پالیسی کے تحت وزیراعظم سات برسوں کے طویل وقفہ کے بعد ایس سی او کی میٹنگ کے لیے چین کے دورہ پر تشریف لے جا رہے ہیں۔ ہمارے ملک کی خارجہ پالیسی کے لیے یہ بالکل ٹھیک نہیں ہے کہ ہم کبھی اس پلڑے میں رہیں اور کبھی دوسرے پلڑے میں۔ بڑی عالمی طاقتوں کے اس کھیل میں ہم صرف مہرے کے طور پر استعمال ہوتے رہیں، یہ ہماری اقتصادی قوت، سیاسی استحکام، وسیع ملک اور غیور عوام کے لیے باعث فخر قطعاً نہیں ہوسکتا۔ ہمارے ملک کی خارجہ پالیسی کو حال کے برسوں میں جس طرح سے شخصیت کے ہاؤ بھاؤ کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے، یہ اس کے 70 سال سے زائد تجربہ کے خلاف اٹھایا جانے والا قدم ہے جس کے نہایت منفی نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ ہندوستان کی اپنی یہ حیثیت آج ضرور ہے کہ وہ اپنی آزاد خارجہ پالیسی کا دفاع کرسکے۔ اگر روس سے تیل خریدنا ہمارے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے مفید ہے تو اس کے لیے ہمیں امریکہ سے اجازت کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ اگر چین کے ساتھ تعلقات کو استوار کرنے کی نوبت آئے تو اس کا ہدف بھی واضح اصولوں کے مطابق طے کیا جانا چاہیے۔ لیکن ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے۔

خارجہ پالیسی کی سطح پر ہم دنیا کو یہ تاثر دے رہے ہیں کہ گویا ہم صرف ایک پالے سے دوسرے پالے میں بس منتقل ہو رہے ہیں اور ہمارا اپنا کوئی ٹھوس موقف نہیں ہے۔ ہماری خارجہ پالیسی سرد جنگ کے دنوں میں بھی آزاد رہی اور ہم نے سوویت یونین یا امریکہ کے ساتھ خود کو باندھے رکھنے کے بجائے تیسری دنیا کی قیادت کی تھی۔ آج اس بات کی زیادہ ضرورت ہے کہ ہم اپنی خارجہ پالیسی کا صحیح رخ متعین کریں اور عالمی مسائل میں اپنی آواز کو با اثر بنائیں۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور تیزی سے بڑھتے اقتصاد کے طور پر ہمیں یہ زیب نہیں دیتا کہ ہم امریکی صدر کے ناقابل برداشت رویہ کے خلاف کچھ اقدام نہ کریں۔ اس کے علاوہ یہ بھی ضروری ہے کہ خارجہ پالیسی کے امور کو حل کرتے وقت اس کا دھیان رکھا جائے کہ شخصیت سے زیادہ اصول کو ترجیح دی جائے۔ اگر ایسا نہیں کیا جائے گا تو پھر وہی دشواریاں پیش آئیں گی جو آج ٹرمپ کے ساتھ پیش آ رہی ہیں۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ ہم اپنی خارجہ پالیسی کو دوبارہ اسی نہج پر لے جائیں جس پر نریندر مودی سے قبل کی سرکاریں گامزن رہی ہیں۔ اس جہت میں جانے سے ہی ہماری مشکلات حل ہوسکتی ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ بے سمت پالیسیوں پر قائم رہنے سے ملک کے مفادات کو سخت نقصان پہنچنے کا خطرہ ہوسکتا ہے۔

(مضمون نگار روزنامہ راشٹریہ سہارا کے گروپ ایڈیٹر ہیں)
editor.nizami@gmail.com

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS