دھرم سنسد: اشتعال انگیز تقاریر معاملے پر سپریم کورٹ میں سماعت آج

0
Image:IndiaTVNews

نئی دہلی (یو این آئی) : سپریم کورٹ ہری دوار میں’دھرم سنسد‘کے ایک پروگرام میں مبینہ طور پر مسلم کمیونٹی کے خلاف دی گئی قابل اعتراض اشتعال انگیز تقریروں کے خلاف دائر درخواستوں پر بدھ کو سماعت کرے گی۔ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ کے مطابق قربان علی اور دیگر کی مفاد عامہ کی عرضیوں کی سماعت کیلئے چیف جسٹس این کے وی رمنا اور جسٹس سوریہ کانت اور ہیما کوہلی کی بنچ کے سامنے لسٹیڈ کی گئی ہے ۔سینئر وکیل اور سابق مرکزی وزیر کپل سبل نے پیر کو چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ کے سامنے’خصوصی ذکر‘کی ان مفاد عامہ عرضیوں کو’فوری‘معاملہ قرار دیتے ہوئے جلد سماعت کی درخواست کی تھی۔ چیف جسٹس نے ان کی درخواست جلد سماعت کیلئے منظور کرلی تھی۔مسٹر سبل نے جلد سماعت کی درخواست کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم ایک ایسے وقت میں رہ رہے ہیں، جہاں ملک میں ’ستیہ میو جیتے‘کے نعرے بدل گئے ہیں۔بنچ نے مسٹر سبل سے پوچھا تھا کہ کیا کوئی تحقیقات چل رہی ہے ؟ اس پر انہوں نے کہا تھا کہ ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے ، لیکن ابھی تک کوئی گرفتاری نہیں ہوئی۔ لگتا ہے عدالت کی مداخلت کے بغیر کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔گزشتہ سال دہلی اور ہری دوار میں بالترتیب 17 اور 19 دسمبر کو ہندو یوا واہنی کی طرف سے منعقدہ دو مختلف پروگراموں میں ’دھرم سنسد‘کے دوران کچھ سرکردہ مقررین کی طرف سے مسلم کمیونٹی کے خلاف مبینہ طور پر قابل اعتراض اشتعال انگیز تقریریں کرنے کے الزامات ہیں۔
درخواستوں میں الزام لگایا گیا ہے کہ کئی ہندو مذہبی رہنماؤں نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مسلم کمیونٹی کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی کال دی تھی۔وکلاء، صحافیوں اور کئی سماجی کارکنوں کی طرف سے دائر درخواستوں میں خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دے کر واقعات کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔عرضی داخل کرنے والوں میں سابق جج، سینئر صحافی، سابق مرکزی وزیر مسٹر خورشید کے علاوہ سینئر ایڈوکیٹ دشینت دوے اور پرشانت بھوشن وغیرہ شامل ہیں۔

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS