میں ابھی اچھا کھیل سکتی ہوں: ثانیہ مرزا

0

ملبورن۔(ایجنسیاں) : ومبلڈن ٹینس ٹورنامنٹ جیتنے والی پہلی بھارتی کھلاڑی 35 سالہ ثانیہ مرزا نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ وہ زخمی ہونے کی وجہ سے رواں سیزن کے اختتام پر ٹینس سے ریٹائر ہو جائیں گی۔ انہوں نے آسٹریلین اوپن میں پہلے راونڈ سے اپنی پارٹنر یوکرائن کی نادیہ کیچینوک کے ہمراہ دست برداری کا اعلان کیا۔ ثانیہ مرزا نے میلبرن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا،”میں نے فیصلہ کیا ہے کہ یہ میرا آخری سیزن ہوگا۔ میں ایک کے بعد ایک ہفتہ کرکے اسے گذار رہی ہوں۔ مجھے نہیں معلوم کہ میں اسے مکمل کر پاوں گی لیکن میں ایسا کرنا چاہتی ہوں۔”


ان کے والد نے بھی بعد میں ثانیہ مرزا کے اعلان کی تصدیق کی۔ ثانیہ مرزا کا کہنا تھا، “مجھے ابھی بھی لگتا ہے کہ میں اچھا کھیل سکتی ہوں اور اس ٹورنامنٹ میں آگے جا سکتی ہوں۔ لیکن اس سیزن کے بعد میں اپنے جسم کو ایسا کرتا نہیں دیکھ رہی۔ یہ مشکل ہو گا۔”ثانیہ مرزا کو بھارت کی سب سے بہترین خاتون ٹینس کھلاڑی مانا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے کیریئر میں چھ گرینڈسلیم ڈبلزٹائٹل جیتے ہیں۔ رواں آسٹریلین اوپن ٹورنامنٹ میں ثانیہ مرزا امریکی کھلاڑی راجیو رام کے ساتھ مکسڈ ڈبلز کی ٹیم میں شامل ہیں۔ ان کی ٹیم جمعرات کو پہلے راونڈ میں شرکت کرے گی۔ شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی ثانیہ مرزا پاکستانی کرکٹ ٹیم کے

سابق کپتان شعیب ملک کی اہلیہ ہیں۔ انہوں نے اپنا آخری ویمنز ڈبلزخطاب ستمبر میں چین کی زہانگ شوائی کے ساتھ اوستراوا اوپن میں جیتا تھا۔تاہم ثانیہ مرزا نے اعتراف کیا کہ چوٹ اور اپنی فیملی کی ضروریات کے مدنظر وہ اپنا کیریئر ختم کرنے کا اعلان کر رہی ہیں۔ان کا کہنا تھا، “مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میری صحت یابی کا سفر زیادہ طویل ہوتا جا رہا ہے۔ میں اتنا زیادہ سفر کرتے ہوئے اپنے تین سالہ بیٹے کو خطرے میں ڈال رہی ہوں۔ مجھے اس بارے میں بھی سوچنا ہوگا۔ میرا خیال ہے کہ میرا جسم متاثر ہورہا ہے۔” ٹینس اسٹار کا مزید کہنا تھا، “آج کے میچ کے دوران میراگھٹنا بری طرح دکھ رہا تھا۔ میں یہ نہیں کہہ رہی کہ یہ ہماری شکست کی وجہ بنا لیکن میں یہ محسوس کرتی ہوں کہ یہ ٹھیک ہونے میں زیادہ وقت لے رہا ہے کیونکہ میری عمر بڑھ رہی ہے۔ “ثانیہ مرزا پہلی بھارتی کھلاڑی ہیں جنہوں نے اپنے آبائی شہر حیدرآباد میں سال 2005 میں ہونے والا ڈبلیو ٹی اے سنگلز ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔ وہ اسی سال یو ایس اوپن کے چوتھے رانڈ تک پہنچیں اور سال 2007 تک دنیا کی ٹاپ 30 خواتین کھلاڑیوں میں شامل ہو چکی تھیں۔
لیکن کلائی کی انجری کے باعث انہوں نے ڈبلز مقابلوں پر زیادہ توجہ دینا شروع کی جس میں ان کی پارٹنر شپ سوئٹزرلینڈ کی شہرہ آفاق کھلاڑی مارٹینا ہنگس کے ساتھ قائم ہوئی، جن کے ساتھ انہوں نے تین گرینڈ سلیم ٹائٹل جیتے۔ثانیہ مرزا ایشین گیمز اور کامن ویلتھ گیمز میں بھی ڈبلز کے مقابلوں میں میڈلز اور کامیابیاں سمیٹ چکی ہیں۔انہوں نے 2010 میں دہلی میں ہونے والی کامن ویلتھ گیمز میں سنگلز میں چاندی جب کہ ڈبلز میں کانسی کا میڈل جیتا تھا۔ ایشین گیمز میں انہوں نے مجموعی طورپر سات میڈلز حاصل کیے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS