ندیم خان
دنیا میں کسی بھی انسان کو سدا ایک جیسے حالات کا سامنا نہیں ہوتا۔ کسی بھی بشر کو حاصل ہونے والی خوشی دائمی ہوتی ہے نہ غم ، بلکہ کبھی غم ہے تو کبھی خوشی، کبھی درد و الم ہے تو کبھی فرحت و انبساط ، کبھی بیماری ہے تو کبھی صحت مندی، کبھی تفکرات و الجھنیں ہیں تو کبھی بے فکری و مسرت ، کبھی تنگی ہے تو کبھی آسودگی، کبھی سکون ہے تو کبھی بے چینی، کبھی سردی ہے تو کبھی گرمی، کبھی امن تو کبھی بدامنی۔ یہ تمام سلسلے ہر فرد کے ساتھ ہیں، کوئی بھی ان سے مبرا نہیں ہے۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کسی پر درد و الم، مصائب و مشکلات کا سلسلہ دراز ہو جائے تو وہ اور اردگرد کے لوگ سمجھتے ہیں کہ ساری دنیا کی مصیبتیں اسی ایک شخص کے لئے مختص ہو گئی ہیں۔ ہم میں سے اکثر لوگ مصائب سے جلد بددل ہو جاتے ہیں اور سمجھ بیٹھتے ہیں کہ زندگی مصیبتوں اور آزمائش کا مجموعہ بن گئی ہے، کہ ایک مشکل سے چھٹکارا ہوتا نہیں اور دوسری حملہ آور ہو جاتی ہے، ایک پریشانی دور ہوتی نہیں کہ اس سے بڑی پریشانی گھیر لیتی ہے۔ دراصل ان مشکل حالات میں انسان کے طرزِ عمل کی آزمائش ہو رہی ہوتی ہے۔
آزمائش سے مراد امتحان ہے اور امتحان محض مصیبت، مشکل یا پریشانی کی صورت میں ہی نہیں ہوتا، امتحان انسانی زندگی کے تمام شعبہ جات کا ہوتا ہے۔ لہٰذا اگر انسان زندہ رہے، بیمار ہو، صحت یاب ہو، خوشی ملے، رزق میں وسعت ہو، یہ سب اس کے طرزِ عمل کی آزمائش اور امتحان ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سب امور میں انسان کے چال چلن کو پرکھتے ہیں کہ وہ کامیاب ہوتا ہے یا ناکام رہتا ہے۔ آزمائش کا علم اس وقت ہوتا ہے جب حالات سخت ہوں اور انسان مصیبتوں میں گھرجائے اور اس حال میں صبر سے کام لیتا ہے یا جزع فزع کرتا ہے۔ اسی طرح خوش حالی میں یہ آزمائش ہوتی ہے کہ انسان نعمت ملنے پر شکر کرتا ہے یا نا شکری پر اتر آتا ہے۔ اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ آزمائش و آفات شاید اللہ تعالیٰ کی جانب سے انہیں سزا دینے کے لیے ہیں۔ اس احساس کی وجہ سے ان کی مصیبتوں میں اور بھی شدت پیدا ہو جاتی ہے اور ان کا درد اور بھی گہرا ہو جاتا ہے۔ آہستہ آہستہ یہ احساس نفسیاتی بیماری میں بدل جاتا ہے اور انسان صبر کا دامن نہ صرف چھوڑ بیٹھتا ہے بلکہ اس کے اندر سے ان مشکلات سے نبرد آزما ہونے اور مزاحمت کرنے کی صلاحیت بھی ختم ہوتی چلی جاتی ہے۔ انسان کا یہ سمجھنا کہ اس کے مصائب و مشکلات، ابتلاء و آزمائش اللہ تعالیٰ کی جانب سے سزا ہے، درست نہیں ہے، بلکہ اکثر پریشانیاں انسان کو مانجھنے اور اس کے درجات بلند کرنے کے لیے ہوتی ہیں۔ نبی کریم ؐ کا فرمان ہے: ’’لوگوں میں سب سے زیادہ بلائیں، مصیبتیں اور آزمائش انبیاء کو پہنچتی ہیں، پھر نیک و صالح لوگوں کو، پھر جو ان سے زیادہ مشابہت رکھنے والے ہوتے ہیں۔‘‘
کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ’’زندگی ایک سمندر ہے اور اس کی ہر لہر آزمائش، جب کوئی لہر ساحل پر موجود چٹان سے آ کر ٹکراتی ہے تو چٹان اگر مضبوط ہو تو لہر شرمندہ ہوکر واپس لوٹ جاتی ہے۔ اس کے برعکس اگر چٹان کمزور ہو تو لہریں اسے ریزہ ریزہ کر دیتی ہیں۔ انسان اگر مضبوط اعصاب کا مالک ہو اور آزمائش کا مقابلہ مضبوطی سے کر سکے توآزمائش خود شرمندہ ہوجاتی ہے جبکہ اگر انسان کمزور ہو تو آزمائشیں اسے توڑ پھوڑ کر اس کی ہستی کو ریزہ ریزہ کردیتی ہیں۔ ہم سب کی زندگی میں ہر طرح کے نشیب وفراز آتے ہیں، یہ سب زندگی کا حسن ہیں جو ان پر قابو پالیتا ہے وہ زندگی کو بامعنی اور بامقصد بنا لیتا ہے، حوصلہ مند انسان آزمائش کی گھڑی میں صبر، استقامت اور یقین محکم کے ساتھ سرخرو ہوکر نکلتا ہے۔ ان آزمائشوں کی آگ اس کو کندن بنا دیتی ہے اس کے جوہر نکھرتے ہیں، اس کا عزم بلندتر پائندہ ہوکر سامنے آتاہے۔مولانا وحیدالدین خان اپنی تصنیف ’’راز حیات’’ میں ایک مہم جو (ErnestSackelton) کے بارے میں لکھتے ہیں ’ ارنسٹ شیکلٹن ایک برٹش مہم جو تھا، اس نے قطب جنوبی (Antarctica) کی دریافت کو اپنا مشن بنایا، وہ تین خطرناک مہم کا قائد تھا، آخری مہم جس میں 28 آدمی شریک تھے، ایک خطرناک حادثے کا شکار ہوگئے۔ ان کا جہاز کسی سمندر میں کسی جہاز سے ٹکرا کر ٹوٹ گیا۔
شیکلٹن اور اس کے ساتھیوں کو ایسے مقام پر رہنا پڑا جہاں صرف برف کے تودے تھے، وہاں اس کے علاوہ اور کچھ نہ تھا، یہ ایک ہولناک تجربہ تھا۔ شیکلٹن اور اس کے ساتھی150دن تک خالص برف کی دنیا میں رہنے کے بعد بھی محفوظ حالت میں اپنے وطن واپس آگئے۔اس معجزے کے پیچھے وہ کونسا راز تھا جس کی وجہ سے شیکلٹن اور اس کے ساتھی150دن تک خالص برف کی دنیا میں رہنے کے بادجود بھی موت کو شکست دینے میں کامیاب ہوئے؟ وہ راز تھا، یہ امید کہ خوشگوار حالات کے بعد ناخوشگوار حالات اور ناخوشگوار حالات کے بعد خوشگوار حالات کی آمد ناگزیر ہے۔ یہ زندگی کا تسلسل ہے، دن رات، زندگی اور موت، گرمی اور سردی، اْتار چڑھاؤ میں زندگی کا یہ پہیہ یونہی گھومتا رہتا ہے۔ تمام آزمائشیں عارضی ہوتی ہیں، جب یہ عارضی ہیں تو ان کے آگے ہتھیار نہیں ڈالنا چاہئیں۔
ایک حوصلہ مند انسان ان کے آگے ہتھیار نہیں ڈالتا بلکہ انہیں کامیابی کے امکانات میں بدل دیتا ہے۔ ان کا حملہ ہر کسی پر ہوسکتا ہے مگر یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ ان حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے کس طرح ردعمل ظاہر کرتے ہیں اور آپ ان کے خلاف کس طرح کی تدابیر اور سب سے اہم ان تدابیر پر کتنا عمل کرتے ہیں۔ بقول ٹونی رابنز ’’آپ کی زندگی میں جتنے بھی ناپسندیدہ حالات کیوں نہ ہوں اصل میں وہ حالات ہی آپ کو آگے بڑھنے کا موقع دے رہے ہوتے ہیں، بعض اوقات ایسا ہوتا ہے بندہ نہیں چاہتا لیکن پھر بھی ایسے حالات بن جاتے ہیں اصل میں ان کے پیچھے قدرت کی یہ حکمت کارفرما ہوتی ہے کہ اس نے آپ کے اندر وسعت پیدا کرنی ہوتی ہے۔
بعض حالات تکلیف دہ ہوتے ہیں لیکن بعد میں کسی جگہ پر جاکر پتہ لگتا ہے کہ یہ آپ کی بہتری کیلئے تھے۔اس وقت آپریشن ہو رہا ہوتا ہے، مگراس وقت بندے کو سمجھ نہیں آتی کیونکہ وہ بے ہوش ہوتا ہے لیکن آپریشن ہونے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ اس ناسور کا نکالنا کتنا ضروری تھا۔ زندگی میں مشکلات، پریشانیاں اور چیلنجز دراصل آپ کے اندر سنجیدگی اور احساس ذمہ داری کیساتھ ساتھ وہ صلاحیت اْجاگر کرنے کا سامان کرتے ہیں تاکہ آپ ان سب سے احسن طریقے سے نمٹ سکیں۔ہر آزمائش اور ہر مصیبت دراصل ایک چیلنج ہے کہ آپ اپنے علم اور محنت سے اس کا دیرپا حل نکالیں۔ اگر چیلنج نہیں ہوگا تو پھر اس کا حل بھی نہیں ڈھونڈا جائے گا۔ یوں انسان ایک کاہل، بے کار اور بے ہنر مخلوق بن کر رہ جائے گا۔
اللہ پاک توفیق نہ دیں تو محنت نہیں ہوسکتی اور محنت ہو بھی تو غارت ہو جاتی ہے اور گھاٹے کا سودا کہلاتی ہے۔ جب محنت رنگ لاتی ہے تو انسان اسے اپنی قابلیت اور قربانی کا ثمر سمجھتا ہے لیکن جب محنت ناکامیوں کی وادیوں میں کھو جائے تو انسان اسے مقدر کا جبر قرار دیتا ہے اور مقدر کو مطعون کرتا ہے۔ غور کیا جائے تو احساس ہوگا کہ کامیابی بھی آزمائش ہے اور ناکامی بھی، کامیابی غرور کی بجائے شکر، عجز اور اطاعت میں بدل جائے تو آزمائش میں سرخرو ہوئے لیکن اگر غرور کا رنگ چھا جائے تو ناکام ٹھہرے۔ ناکامی اور محرومی میں صبر کیا تو ناکامی ایک دن بہت بڑی کامیابی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے لیکن اگر مایوسی کی گہرائیوں میں گر پڑے، خالق سے مایوس ہو کر گلے شکوے اور شکایات کے دفتر کھول لئے تو پھر ناکامی کی تاریکی پھیلتی رہتی ہے۔ علم ان معنوں میں آزمائش قرار پایا کہ اگر علم کو شیطانی حربوں کے لئے استعمال کیا تو آزمائش میں ناکام ہوئے اور اگر علم کو رحمانی کاموں کے لئے استعمال کیا تو زندہ و جاوید ہو گئے۔ بات دیکھنے، سوچنے، غور و فکر کرنے اور اپنے رب سے راہنمائی حاصل کرنے کی ہے اور اگر انسان قدرت کے بھید اور زندگی کے راز سمجھنے کے لئے تھوڑا سا غور کرے تو محسوس ہوتا ہے کہ اقتدار، اختیار، دولت، علم، حسن، عہدے، صحت، شہرت وغیرہ وغیرہ سب آزمائشیں ہیں اور اسی طرح غربت، مصیبت، محرومیاں، ابتلاء ، ناکامیاں، بیماریاں وغیرہ بھی آزمائشیں ہیں۔ گویا پوری زندگی آزمائش اور امتحان ہے اور اس امتحان یا آزمائش میں کامیابی اور سرخروئی کا انحصار کافی حد تک انسان کی اپنی ذات پر ہے کہ وہ کیا کردار، اخلاق، رویہ اور انداز اپناتا ہے؟