آلودگی کی وجہ صرف ماحولیات ہی نہیں

0
New Delhi, Nov 05 (ANI): A heavy smog engulfs the Red Fort in the morning as the air quality decreases due to air pollution, in New Delhi on Friday. (ANI Photo/ Amit Sharma)

امام علی مقصود فلاحی۔

متعلم:۔ جرنلزم اینڈ ماس کمیونیکیشن۔

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد۔

بیسویں صدی کے صنعتی انقلاب میں انسان نے زندگی کے اسباب و وسائل میں وسعت و فراوانی پیدا کی، نئی نئی ٹیکنالوجی استعمال کرکے مختلف قسم کی مشینیں بنائیں۔

انسان نے زندگی کے وسائل کا اتنا بے دریغ استعمال کیا کہ کارخانۂ قدرت نے نباتات و حیوانات اور بنیادی عناصر کے بیچ جو توازن قائم کیا تھا اس سے چھیڑ چھاڑ کر بیٹھا جس کے نتیجے میں فضا، پانی اور ماحول میں آلودگی پیدا ہو گئی اور اس آلودگی کی وجہ سے طرح طرح کی بیماریاں وجود میں آئیں جن سے نہ صرف فطرت کا نقصان ہوا، جانوروں کی زندگی اور نسلیں بھی تباہ ہوئیں جس کی وجہ سے آج کارخانۂ قدرت کی پیداوار کے تحفظ و بقا کا سنگین مسئلہ کھڑا ہو گیا ہے۔

اس لیے سنہ 1974ء سے 5 جون کو عالمی یومِ ماحولیات منایا جانے لگا، اس دن صفائی ستھرائی کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے. شجرکاری کی جاتی ہے، پیڑ پودے لگائے جاتے ہیں، تاکہ نظام قدرت بحال ہو، ماحول کی آلودگی کم ہو۔

 لیکن اسلام نے انسان کو صدیوں پہلے ہی ان حالات کے بارے میں آگاہ کیا تھا اور ان کے تدارک کے اسباب بھی بتائے تھے، جس پہ انسان اگر اعتدال سے گامزن رہتا تو آج ہمیں ماحول کی آلودگی کے یہ دن نہیں دیکھنے پڑتے۔

اللہ تعالی نے انسان کو زمین پہ اپنا نائب و خلیفہ مقرر کرکے سیاہ و سپید کا مالک کرکے یوں ہی بیکار نہیں چھوڑ دیا بلکہ قرآن مجید کی تقریباً سات سو آیات میں فطرت و قدرت کی نعمتوں کا، ان کی اہمیت و افادیت کا، ان کے تحفظ و بقا کا ذکر فرمایا، خاص طور سے زمین، پانی اور ہوا کی اہمیت کو متعدد مقامات پر الگ الگ اسلوب میں بیان کیا ہے۔

فضا، پانی اور ماحول کی آلودگی کا مسئلہ کوئی نیا نہیں ہے بلکہ قرآن و حدیث میں ہمیں چودہ صدیوں سے اس مسئلے کی طرف ہمیں توجہ دلائی گئی، فضائی آلودگی دور کرنے کے لیے رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے شجر کاری کرنے کی طرف خوب رغبت دلائی ہے ، شجرکاری کو اسلام میں ایک نوع کے صدقے کی حیثیت حاصل ہے، رسولِ کریم رؤف رحیم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو مسلمان درخت لگائے یا کھیتی باڑی کرے پھر اس سےانسان پرندے اور چوپائے کھاتے ہیں تو اسے صدقے کا ثواب ملتا ہے (بخاری شریف)

دوسری طرف اسلام میں بے ضرورت درخت کاٹنے سے سختی سے منع فرمایا گیا ہے حتی کہ حالتِ جنگ میں بھی بے ضرورت پھل دار درخت کاٹنے کی اجازت نہیں اور بلا وجہ درخت کاٹنا اور بے ضرورت پھل دار درخت پر پتھر چلانا اسلام میں بہت ناپسندیدہ عمل ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جس نے بیری کا درخت کاٹا اس نے اپنا سر آگ میں دے دیا۔ ( ابو داود)۔

معزز قارئین! یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ ماحول صرف جنگلات، حیوانات، سمندر، پہاڑ، زمین اور پودوں کی طبعی دنیا نہیں ہے جو ہمارے آس پاس ہے بلکہ اس کا تعلق ان تمام اشیاء سے ہے جو ہماری زندگی کو متأثر کرتی ہیں۔ چنانچہ ایک اچھا ماحول پیداکرنے کے لئے، ہمیں ان تمام افعال اور غیر پاکیزہ اعمال کو نظرانداز کرنا ہوگا جو اسے برباد کرنے کی وجہ بنتے ہیں۔

کسی نے درست کہاہے: ”جب ہم کہتے ہیں کہ ہمارا ماحول ہمارے اوپر اثر انداز ہوتاہے، تو کیا ہم صرف اپنے گرد وپیش کے اپنے مادی جسم پر اثر کی بات کرتے ہیں یا اپنے شخصیت کے تمام پہلوؤں جیسے جذبات، افکار، اخلاقی اقدار اور مذہبی تصورات کی بات کرتے ہیں؟ ایک محبت سے بھرپور، خوش باش اور پرسکون گھر ہماری چہار طرفہ افزائش اور ترقی کا وسیلہ ہوتاہے۔

 ہرے بھرے نباتات، رنگ برنگے پھولوں، خوبصورت حیوانات اور اچھے مزاج کے لوگوں کی مصاحبت بھی ہماری روحوں کو فرحت بخشتی ہے اور ہمیں ناقابلِ بیاں مسرت سے معمور کردیتی ہے۔

دوسری طرف، غیر صحت بخش ٹی وی کے پروگرام، جنس وتشدد والی فلمیں، تمام قصبات اور شہروں میں اشتہاری تختوں پر چسپاں غیر اخلاقی پوسٹر، گندی زبانیں، عدم احترام، بدعنوان اور جرائم ہمیں تنگ دستی کی گہرائیوں میں کھینچتی ہیں اور ماحولیات کے اس بڑے حصے کو آلودہ کرتی ہیں جو ہمیں اپنے آغوش میں رکھتے ہیں“۔

اسی لئے ہمیں اس بات کی جانب بھی توجہ دینی چاہیے کہ جہاں ہم عالمی یوم ماحولیات کے ذریعے ماحول کو صحیح بنانے کے لئے آلودگی کو کم کرتے ہیں تاکہ ہماری زندگی خوشحال رہے، ملک میں بھی خوشحالی پیدا ہو۔

ٹھیک اسی طرح ہمیں ان تمام معاملات پر بھی نظر ڈالنا چاہیے جس لوگوں کی زندگی متاثر ہوجاتی ہے پھر پورے ملک کا ماحول درہم برہم ہو جاتا ہے، لوگ ایک دوسرے کے مخالف ہوجاتے ہیں، دشمنی قتل و غارتگری کا بازار گرم گرم ہوجاتا ہے، ان تمام معاملات کو بھی ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

اگر ہم ان تمام معاملات کو بھی خالص رکھیں گے تو ملک سے دشمنی، قتل و غارتگری، فحاشی و عریانی، لوگوں میں ذات پات کے جھگڑے، مسجد مندر کا جھگڑا، ہندو مسلم کی لڑائی سب ختم ہو سکتی ہے‌۔

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS