ساہتیہ ایوارڈ یافتہ ڈاکٹر ظفر کمالی

0
Sahitya Award Winner Dr. Zafar Kamali
Sahitya Award Winner Dr. Zafar Kamali

ڈاکٹر ایم عارف_

کالی باغ ،بتیا_

مغربی چمپارن،بہار۔

انڈیا۔ ایشیا ۔

رابطہ کے لئے : 7250283933

اردو زبان وادب کا ساہتیہ ایوارڈ یافتہ پروفیسر ظفر کمالی اس عہد میں جہاں تماشائے ادب

،نمائش ادب ،ہنگامۂ ادب،

اشتہار ادب،نام ونمود،شہرت وعزت کے دور ادب میں ہر کوئی منہمک ہے ۔ نہ شہرت کے پیچھے بھاگے اور نہ ہی خود کو نمایاں کرنے کے لئے جدید ادبی تھیوری کااستعمال کیا_ نہ ادب میں کہرام مچا نے کی کوشش کی_نہ ڈھول اور تاشے کاذکر چھیڑا_  نہ ادبی سیاست کی اور نہ ہی ادبی تدابیر  اور نہ ہی روش زمانہ سے دلچسپی لیا_بلکہ  خاموشی سے تنہا اور گوشہ نشین ہوکر قلم،کاغذ اور کتاب سے کام لیتے ہوئے اپنی تخلیقات  سے اردو زبان وادب کو سیراب کرتے رہے_خاموشی سےادب کی جھولی بھرتے رہے_

اس گوشہ نشین شخص کی کسی کتاب کو اب تک کسی بھی سرکاری،غیر سرکاری چھوٹے بڑے ادارے نے کسی انعام کے لائق نہیں سمجھا۔اور نہ ہی اس گوشہ نشین  شخص کو گوشہ نشینی سے نکال کر ادبی منظر نامہ پر لا نے  کی کسی نے ہمت کی_ ایسے میں ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت  جواہر لعل نہرو کے یوم پیدائش یوم اطفال کے جشن کےخوبصورت موقع پر14 نومبر 2022 کوڈاکٹر ظفر کمالی کو ادب اطفال ایوارڈ  ساہتیہ اکاڈمی نے پیش کیا اور انعام سے نوازا _ یہ ساہتیہ ایوارڈپروفیسر ظفر کمالی کی قدر شناسی اور ادبی خدمات کا اعتراف ایک تاریخ ساز کام ہے_ ایوارڈ دراصل اعتبار،اعتماد اور خود اعتمادی کا درجہ رکھتا ہے_

اگر حوصلہ بلند،عزائم مصمم اور ارادے نیک ہوں تو کسی اعزاز و انعام کی ضرورت نہیں_محنت ومشقت ، اور لگن سےانسان تنہا ، گوشہ نشینی  اور جنگل میں رہتے ہوئے بھی بڑا کارنامہ انجام دے سکتا ہے_

انسان محنت کے بدولت ہی کچھ حاصل کر سکتا ہے۔ محنت کبھی رائیگا نہیں جاتی_ کسی کی محنت کو زیادہ دنوں تک نظر انداز بھی نہیں کیا جاسکتا  اور نہ ہی دبایا جاسکتا ہے_ہاں یہ دیگر بات ہے کہ اس کی کاوشوں کو وقتی طور پر کچھ دنوں کے لئے بھلایا جاسکتاہے_لیکن انکار ناممکن ہوتا ہے_دراصل انسان کا نام نہیں کام بولتا ہے_بس خاموشی سے کام کرتے رہنا چاہئیے_

ہمارے عہد میں اہل قلم، اپنی صلاحیت ،قابلیت اور لیاقت سے نہیں بلکہ خوشامد ، جھوٹی چاپلوسی، اور بے ضمیری  سے زمین سے آسمان پر راتوں رات پہنچ جاتے ہیں اور اپنےجشن کاخود اہتمام کرتے ہیں_اپنی شان میں قصیدہ پڑھواتے ہیں_زندگی ہی میں خاص نمبر نکلوالیتے ہیں۔  کیوں کہ معلوم نہیں موت کے بعد کوئی نمبر نکالے یا نہ نکالے_حد تو یہ ہےکہ خود ہی خود پر مضمون لکھ کر دوسروں کے نام شائع کرواتے ہیں_اس حربہ کے بعد بھی جھوٹی شہرت اور نام ونمود میں کمی محسوس ہوئی اور پیٹ بھرتے نظر نہیں آیا تو خود کی قائم کی ہوئی تنظیم سےخود ہی انعام پر انعام،اور ایوارڈ پر ایوارڈ حاصل کرتے ہوئے بے شرمی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ تشہیر کرتے ہوئے شور برپا کرتے ہیں،ڈھونڈورا پیٹتے ، اپنی ڈفلی خود بجاتے ہوئے تنگ دلی،تنگ نظری اور تنگ ذہنی کا ثبوت دیتے  ہیں_ لوگ کام سے جانے جاتے ہیں _ایک دن کے شور،شرابے،ہنگامہ، تصویر کشی،نمائش اور محفل کی سجاوٹ سے نہیں_. عہ

نئےہیں لوگ نئ سوچ کا زمانہ ہے

نیا زمانہ خوشامد کا کارخانہ ہے_

ہمارا ادبی معاشرہ مردہ پرستوں کا معاشرہ ہے_ناقدین ادب ہوں یا قارئین ادب ، یاحکومت سبھی لوگ *قدر مردم بعد مردن* کے قائل ہیں_اسی لئے کسی زندہ ہستی کے نام و نشان،  شہرت وعزت،شاعرانہ عظمت وادبیانہ اہمیت کا اعتراف کرنا نہیں جانتے_

نام ونمود ،شہرت وعظمت مردوں کی غذا ہے_ زندوں کا کام کام کرنا ہے_اسی لئے کسی زندہ ہستی پر کام نہیں کیا جاتا_جس کا شکوہ اردو کے اکثر وبیشتر ادباء و شعراء کو رہا ہےکہ زمانہ نے ان کی قدر نہیں کیا ۔میر،وغالب اس کے شاکی رہےاورمنٹو و ابن صفی اس کا گلہ کرتے رہے_ لیکن موت کے بعد عرش سے فرش پر آگئے_ ان کی شہرت ومقبولیت کا آفتاب اس طرح نصف النہاد پر پہنچ گیا کہ موت کے کافی عرصہ کے بعد بھی آج بھی معنوی استاد تسلیم کئے جاتے ہیں _یہ دیگر بات ہے کہ عصر حاضر میں بھی باکمال شاعر وادیب موجود ہیں_ پھر بھی اردو کے کلاسیکل شعراء کے علاوہ اردو کے جدید شعراء و ادباء نے بھی اورناقدین ادب نے بھی ان شعراء و ادباء کے ادبی کارناموں کا اعتراف اورشاعرانہ عظمت کا اعتراف اب بھی کرتے آئے ہیں،اور کررہے ہیں_

*انسان کا کام ہے کام کرنا۔ انعام دینا اور دلوانا اللہ کے ہاتھ میں ہے_اگر اللہ آپ کا کام پسند کر لے تو انعام واعزاز سے نوازا جائے گا_اور یہ انعام کسی بھی حال میں مل کر رہے گا_ اور نہ دلوانا چاہے تو ہم لاکھ سر پھوڑیں ،ادبی سیاست کریں، تب بھی نہیں ملے گا_*

بس اپنا کام ہے اپنے کام کے حد تک کوشش کرتے رہنا_  دراصل انسان فطرتا جلد باز واقع ہوا ہے_توکل علی اللّٰہ کے عقیدہ کو چھوڑ کر پریشان اور بے چین ہوکر  سبھی لوگ جنت میں جانا چاہتے ہیں لیکن مرنے کے لئے کوئی تیار. نہیں_ کیا بغیر موت کے جنت میں جایا جاسکتا ہے_ ٹھیک یہی حال ہم عصر حاضر کے اردو شاعر وادیب کا ہے_ہم زندگی میں کام کے پیچھے نہیں دوڑتے _اورکوئی ایسا کام نہیں کرتے جو شاہکار ہو_ جس سے اعزازو انعام،عزت وشہرت اور نام ونمود حاصل ہو_لیکن ہاں ایسا کام ضرور کر جاتے ہیں جس سے جھوٹی آن بان اور شان باقی رہے_نام ونمود مردوں کی غذا  ہونے کے  باوجود ہم ادیب زندگی میں مردوں کی طرح زندہ رہنا چاہتے ہیں_لیکن حال اس کے برعکس ہے_زندگی ہی میں مردوں کی طرح رہ گئے ہیں_ شور پر شور،ہنگامہ پر ہنگامہ کرتے ہوئے خود ایوارڈ دیتے ہیں اور خود ہی ایوارڈ لیتے بھی ہیں- خود پہ مقالہ لکھتے ہیں اور خود اپنی جھوٹی تعریف کرتے ہوئے آن بان اور شان سے دوسروں کے نام سے شائع کرواتے بھی ہیں_کیا ہمیں اس سے خوشی مل سکتی ہے_؟ کیا اس سے ہمارا ضمیر مطمئن ہوسکتا ہے_ ہرگز نہیں_ اس سے  صرف خوش فہمی میں مبتلا رہا جاسکتا ہے_خود فریبی میں اپنے آپ کو رکھا جاسکتا ہے_

بےضمیری کا ثبوت دیا جاسکتا ہے__ تنگ دل،تنگ نظر اور

تنگ ذہن نااہلوں میں شامل ہوا جاسکتا ہے_

آج اردو کی کوئی خدمت نہیں ہورہی ہے _ بلکہ شاعروں اور ادیبوں کی خدمت ضرور ہورہی ہے_ گزشتہ زمانے میں اچھے شاعر وادیب بغیر مجموعہ کے رخصت ہوجاتے تھے مگر اب دور ایسا آگیا ہے کہ کوئی بھی شاعر وادیب بغیر مجموعہ شائع کروائے اور ایوارڈ لئے دنیا سے رخصت نہیں ہوتا_ ہمارے اردو زبان وادب کے اساتذہ کو علم حاصل کرنے کی فرصت نہیں رہی_ وہ کتاب پر کتاب لکھنے میں لگے ہیں_ جو شاید خود اپنی کتاب نہیں پڑھتے_آج کامعاشرہ وسیع مطالعہ کا نہیں_تنگ نظری کا ہے_ نام کا ہے_کام کے پیچھے کوئی نہیں دوڑتا سب کے سب نام کے پیچھے دوڑ لگاتے ہیں-

میرا مقصد کسی کی ذات کی خوبیوں اور خامیوں کی نشان دہی کرنا نہیں_ کسی کو کم تر اور کسی کو خوب تر اور برتر ثابت کرنا نہیں_بلکہ کوئی بھی انسان خود میں مکمل نہیں_ خوبیوں کے ساتھ ساتھ کہیں نہ کہیں خامیاں ضرور نظر آتی ہیں_ہر ادیب وشاعر کا اپنا مزاج ہوتا ہے_ اپنا نظریہ وخیال اور فکر ہوتے ہیں_ جو مثبت بھی ہوسکتے ہیں اور منفی بھی_  بحیثیت انسان ہر شخص کوتاہیوں،نادانیوں اور غلطیوں کا پتلا  ہے اسی لئے وہ انسان ہے ورنہ وہ فرشتہ ہوجاتا_انسان جو بھی اچھا یا برا کام کرتا ہے وہ سب ضمیر کی رہنمائی میں کرتا ہے_اور ضمیر کے اطمینان کے لئے کرتا ہےکیونکہ ضمیر کے اطمینان سے بڑی کوئی نعمت ہی نہیں_کسی بھی شاعر کی شاعری ،ادیب کا ادب،فنکار کا فن اس کی ضمیر کی آواز ہے_ اس لئے ہر جگہ حق اور سچ پیش نظر ہونا چاہئے_تاکہ کسی کی حق تلفی نہ ہو سکے_ حق اور سچ بات دل سے نکلے اور تحریر بن جائے_ اس کے لئے ہم سب کو جو بھی نقصان ہو  خواہ ایوارڈ ملے نہ ملے_ شہرت وعزت ملے یا نہ ملے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے_  لیکن ضمیر کو اطنینان  نہ ہو تو دل ودماغ اور صحت پر بہت فرق پڑتا ہے _ ضمیر کو سلا کر کب تک بے ضمیری کا ثبوت دیا جا سکتا ہے_اور سچ کو جھوٹ،اور حق کو ناحق ثابت کیا جا سکتا ہے_ سچ میں زندگی نقاب پوشوں کی محفل ہے اور میں اس محفل میں بے نقاب ہوکر بے نقاب کرنے آگیا ہوں_عہ

زبان میں کڑواہٹ ضرور ملے گی صاحب

مگر ضمیر میں ملاوٹ نہیں ہے ہمارے

بطور مثال 2022ء کے ساہتیہ ایوارڈ یافتہ پروفیسر ظفر کمالی کے چند اشعار بغیر تشریح کے ملاحظہ ہو_ عہ

اعزاز مبارک ہو،اکرام مبارک ہو

دھوکے کا خوشامد کا انعام مبارک ہو_

اچھالتے ہی نہیں ہو کہیں جب اپنا نام

ملے گا تم کو بھلا کس طرح کوئی انعام

ادب کی شان بنا میں ادب کی جان بنا

زمین پہ رہ کے بھی شہرت کا آسمان بنا

انعام نہ دے ،چراغ نہ دے حوصلہ تو دے

تنکے کا ہی سہی ،تو مگر آسرا تو دے

سچی تعریف کرنے سے نہ صرف رشتے مضبوط ہوتے ہیں بلکہ دوسروں کے واہ واہ، _ زندہ باد_ زندہ باد_ کیا بات ہے_ کیا شاعری کا انداز ہے_ بالکل نئی بات،بالکل جدید زندگی کا یہی انداز، نیا موضوع اور عصر حاضر کے ادبی محفل کا خوبصورت تفسیر _ وغیرہ سے حوصلے بلند ہوتے ہیں۔

زندگی ایک نقاب پوشوں کی محفل ہے اور ادھر میں اپنے اصلی چہرے کے ساتھ آگیا ہوں آج ہر جگہ زندگی کے ہر شعبہ میں تعصبات کی کج ادائیاں ہیں _ذاتی،جماعتی،علاقائی،صوبائی، تنظیمی،ادبی،مثبت و منفی، جعلی واصلی زندگی کے ہر شعبہ میں تعصبات ہی تعصبات کی فرقہ بندیاں ہیں اور اس تعصباتی دور میں ہم نے ساہتیہ ایوارڈ یافتہ گوشہ نشیں شاعر ظفر کمالی جیسے original شاعر وادیب کے اعتراف میں مضمون لکھکر حماقت کر بیٹھا ہوں_

ختم شد

Dr,MArif

Kalibagh,Bettiah,

West champaran,Bihar, india,

Email, Mohammad arif [email protected]

Mob No,7250283933Guest Column - Sahitya Award Winner,Dr. Zafar Kamali - ساہتیہ ایوارڈ یافتہ ڈاکٹر ظفر کمالی

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS