ہندوستان کی جمہوری تاریخ میں انتخابات محض اقتدار کی منتقلی کا ذریعہ نہیں رہے،بلکہ یہ قوم کے نظریاتی ضمیر اور اجتماعی شعور کا امتحان بھی ثابت ہوئے ہیں۔ نائب صدر کا حالیہ انتخاب، جو 5 ستمبر 2025 کو ہونا ہے،اسی سلسلے کی ایک ایسی کڑی بن چکا ہے جہاں مقابلہ دو افراد کے مابین نہیں،بلکہ دو متضاد اور ناقابل مصالحت نظریات کے درمیان ہے۔ یہ ایک ایسی جنگ ہے جس کا میدان کار زار آئین کی بالادستی اور ریاست کے بے لگام اختیارات کے درمیان کھنچی لکیر ہے۔ ایک جانب حکمراں جماعت کے سی پی رادھا کرشنن ہیں،جن کی شناخت کا ہر تار سنگھ پریوار کی نظریاتی چادر سے بنا ہے اور جن کا سیاسی سفر ہندوتو کے پرچار سے عبارت ہے۔ دوسری جانب،حزب اختلاف نے سپریم کورٹ کے سابق جج،جسٹس بی سدرشن ریڈی کو نامزد کر کے اس معرکے کو محض سیاسی ہار جیت سے بلند کرکے اصولوں کی جنگ بنا دیا ہے۔ جسٹس ریڈی،جو کسی سیاسی وابستگی کے بغیر صرف آئین، جمہوریت اور انصاف کے اصولوں کے علمبردار ہیں،ان کی نامزدگی نے اس سوال کو جنم دیا ہے کہ کیا ملک کا دوسرا سب سے بڑا آئینی عہدہ ایک نظریاتی وفادار کے سپرد کیا جائے گا یا آئین کے ایک نڈر محافظ کے؟
اس نظریاتی کشمکش میں زہر اس وقت گھولا گیا جب مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے تمام سیاسی اخلاقیات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جسٹس ریڈی پر ایک لرزہ خیز ذاتی حملہ کیا۔ انہوں نے یہ الزام عائد کیا کہ جسٹس ریڈی نکسلزم کے حامی ہیںاور اس بے بنیاد الزام کی دلیل کے طور پر ان کے 2011 کے اس تاریخی فیصلے کو پیش کیا جس نے چھتیس گڑھ میں ’’سلوا جودوم‘‘ نامی ریاستی دہشت گردی کے منصوبے کو کالعدم قرار دیا تھا۔ سلوا جودوم، درحقیقت، ریاست کی اپنی ذمہ داریوں سے فرار کا ایک بھیانک باب تھا،جہاں حکومت نے اپنے ہی غریب،نہتے اور معصوم قبائلی شہریوں کے ہاتھوں میں ہتھیار تھما کر انہیں مائونوازوں کے خلاف موت کے منہ میں دھکیل دیا تھا۔ یہ ایک ایسی پالیسی تھی جس نے قبائلیوں کو قبائلیوں کا دشمن بنا دیا اور ان گنت بے گناہوں کے خون سے جنگلوں کو رنگین کیا۔ جسٹس ریڈی نے اپنے فیصلے میں آئین کے آرٹیکل 14 اور 21 کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا تھا کہ ریاست اپنی قانون نافذ کرنے کی ذمہ داری کو غیر تربیت یافتہ شہریوں کے کندھوں پر ڈال کر خانہ جنگی کو ہوا نہیں دے سکتی۔
وزیر داخلہ کا یہ دعویٰ کہ اگر سلوا جودوم جاری رہتا تو 2020 تک نکسل ازم ختم ہوجاتا،نہ صرف حقیقت سے بعید ہے بلکہ ان ہزاروں قبائلی جانوں کی صریح توہین ہے جو اس منصوبے کی بھینٹ چڑھ جاتیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اگر امت شاہ کی منطق کو تسلیم کر لیا جائے تو صرف جسٹس ریڈی ہی نہیں،بلکہ 2007 سے 2025 تک سپریم کورٹ کے وہ تمام 24 جج بھی مائونوازوں کے حامی قرار پاتے ہیں جنہوں نے اس کیس کی سماعت کی اور ریاستی تشدد کی اس آئوٹ سورسنگ کی مخالفت کی۔ جسٹس ریڈی کا فیصلہ تنہا ان کی ذاتی رائے نہیں تھی،بلکہ یہ ہندوستان کی اعلیٰ ترین عدالت کے اجتماعی ضمیر کی آواز تھی،جس کی گونج 18 ریٹائرڈ ججوں کے اس مشترکہ بیان میں بھی سنائی دی جس میں انہوں نے شاہ کے ریمارکس کو بدقسمتی پر مبنی اورعدلیہ کی آزادی پر لرزہ خیز حملہ قرار دیا ہے۔
اس کہانی کا سب سے مضحکہ خیز پہلوتین دن پہلے آنے والا 56 سابق ججوں کا وہ بیان ہے جس میں انہوں نے جسٹس ریڈی کی نامزدگی کو عدلیہ کی غیرجانبداری کی توہین قرار دیا ہے۔ یہ وہی حضرات ہیں جن میں سے اکثر نے حکومت سے وفاداری کے عوض ریٹائرمنٹ کے بعد پرکشش عہدے اور مراعات حاصل کیںاور اس وقت انہیں عدلیہ کی غیر جانبداری کا خیال تک نہ آیا۔ یہ دوغلا پن اور حکومت کی قصیدہ خوانی کا وہ شرمناک مظاہرہ ہے جو موجودہ دور کی سیاست کا طرۂ امتیاز بن چکا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ انتخاب،جو 5 ستمبر کو ہونے والا ہے،اب اعداد و شمار کی جیت یا ہار سے بہت آگے نکل چکا ہے۔ یہ اصول کی جنگ ہے۔ حزب اختلاف نے جسٹس ریڈی جیسے غیر جانبدار، بااصول اور آئین کے محافظ کو نامزد کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ملک کے جمہوری ڈھانچے کو بچانے کی جنگ لڑ رہی ہے۔ امت شاہ کا حملہ دراصل اس خوف کا عکاس ہے کہ اگر کوئی نڈر اورآئین کا پابند شخص نائب صدر کے عہدے پر فائز ہوگیا،تو وہ حکومت کی ہر آئین شکن روش کے سامنے آہنی دیوار بن کر کھڑا ہو جائے گا۔ یہ انتخاب دراصل ہندوستان کی روح کا امتحان ہے، جہاں عوام اور ان کے نمائندوں کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ انہیں آئین کی بالادستی عزیز ہے یا ایک مخصوص نظریے کی آمریت کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہے۔
edit2sahara@gmail.com