انتخابی چندہ: جمہوریت کی جڑوں میں پیسہ یا زہر؟

0

ہندوستانی جمہوریت کی جڑوں میں شفافیت اور عوامی اعتماد وہ ستون ہیں جن پر یہ عمارت کھڑی ہے،مگر المیہ یہ ہے کہ وہی ستون اب سرمایہ دارانہ سازشوں،چندہ چوری اور منی لانڈرنگ کے کھیل میں کھوکھلے ہوتے جا رہے ہیں۔ گجرات کا حالیہ انتخابی چندہ اسکینڈل اس کھیل کی سب سے المناک،مکروہ اور خوفناک تصویر دنیا کے سامنے لے آیا ہے۔ حیرت انگیز مگر افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ایسی دس گمنام جماعتیں،جنہیں عوام نے محض چند ہزار ووٹوں سے نوازا،چند برسوں میں ہی 4300 کروڑ روپے ہڑپ کر گئیں۔ یہ وہ پارٹیاں ہیں جو کبھی انتخابی میدان میں کوئی وجود نہیں رکھتیں،مگر رقوم کے بہائو میں یہ کسی قومی جماعت سے کم نظر نہیں آتیں۔ آخر یہ ہزاروں کروڑ کا سیلاب کہاں سے آتا ہے؟ کون ان نقاب پوش جماعتوں کو چلا رہا ہے اور یہ رقوم کس اندھیرے نظام کی نذر کر دی جاتی ہیں؟
ان حقائق کو سامنے رکھنے والے نہ کوئی عام باشندے ہیں،نہ کسی بے بنیاد افواہ کو ہوا دینے والے،بلکہ ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز(ADR) نے اپنی رپورٹ میں خبردار کیا کہ رجسٹرڈ غیر تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں (RUPPs) کی آمدنی محض ایک برس میں 223 فیصد کے غیر معمولی اضافے سے بڑھ گئی ہے۔ اس ملک میں ایسی جماعتیں 2700سے زیادہ ہیں،لیکن ان میں سے تقریباً تین چوتھائی نے اپنی مالیاتی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔ سوال یہ ہے کہ جس نظام میں عوام کی کمائی کا حساب لیا جاتا ہے، وہی نظام ان کاغذی جماعتوں کی اربوں کی آمدنی پر خاموش کیوں ہے؟
گجرات کی سرزمین پر یہ فراڈ مزید بھیانک روپ اختیار کرتا ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں میں صرف تین انتخابات میں ایسی ہی پانچ جماعتوں نے 2 ہزار کے قریب ووٹ حاصل کیے لیکن اپنی آمدنی کم و بیش 2316 کروڑ روپے بتائی۔ اور صرف ایک مالی سال میں ان کی اضافی آمدنی 1158 کروڑ جبکہ مجموعی طور پر پانچ برسوں میں 4300 کروڑروپے ہوگئی۔ الیکشن میں امیدوار کھڑے کرنے کے اعداد و شمار بھی شرمناک حقیقت کو آشکار کرتے ہیں۔ دو لوک سبھا اور ایک اسمبلی انتخاب میںان جماعتوںکے کل 43 امیدوار تھے،جن کے حصے میں بمشکل 54 ہزار ووٹ آئے۔ ان سیاسی بھانڈوں کا رپورٹ کردہ انتخابی خرچ محض 39 لاکھ روپے ہے، لیکن ان کی آڈٹ رپورٹیں 3500 کروڑ روپے کے اخراجات ظاہر کرتی ہیں۔ یہ تضاد چیخ چیخ کر بتاتا ہے کہ معاملہ محض چندہ کا نہیں بلکہ کھلی منی لانڈرنگ کا ہے۔
دل دہلا دینے والا پہلو یہ بھی ہے کہ انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکائونٹینٹس آف انڈیا (ICAI) نے احمد آباد کے تقریباً 15 چارٹرڈ اکائونٹینٹس کے خلاف تحقیقات شروع کی ہیں،جنہیں اس گھنائونے کھیل کا سہولت کار پایا گیا۔ چیک کے بدلے نقدی دینے اور کمیشن کھانے کی اسکیم نے برسوں سے جاری ٹیکس فراڈ کو ادارہ جاتی شکل دے دی۔ انکم ٹیکس انویسٹی گیشن سے یہ بھی منکشف ہوا کہ بہت سے عطیہ دہندگان نے عطیات پر 80GGC کے تحت ٹیکس کٹوتی کا دعویٰ کیا،جب کہ درحقیقت وہ رقم نقد صورت میں واپس لے لی گئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عوامی خزانے کو دوہرا نقصان پہنچایا گیایعنی ٹیکس چوری بھی ہوئی اور کالے دھن کو سفید کرنے کا راستہ بھی ہموار کیا گیا۔
یہاں سوال صرف ان گمنام جماعتوں یا بدعنوان اکائونٹینٹس کا نہیں۔ اصل اور خوفناک سوال یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کہاں ہے؟ وہ ادارہ جو انتخابات کو شفاف بنانے کی ذمہ داری رکھتا ہے،مسلسل سکوت اختیار کیے ہوئے ہے۔ راہل گاندھی بجا طور پر پوچھتے ہیں کہ کیا کمیشن یہاں بھی محض حلف نامہ مانگ کر بری الذمہ ہو جائے گا،یا پھر قوانین کے جال میں ترمیم کرکے اصل کھیل کو چھپانے کی کوشش کرے گا؟ اگر الیکشن کمیشن ہی اپنی ذمہ داری سے منہ موڑ لے تو پھر اس جمہوریت کو سرمایہ داروں کا اکھاڑہ بننے سے کون بچائے گا؟
جب ہم قومی جماعتوں کے اعداد و شمار پر نگاہ ڈالتے ہیں تو تصویر مزید بھیانک ہوجاتی ہے۔ مالی سال 2023-24 میں قومی جماعتوں کو کل 2544 کروڑ روپے کا عطیہ ملا، جس میں سے تنہا بی جے پی نے 2243 کروڑ روپے یعنی تقریباً 88 فیصدحاصل کیے۔ یہ عطیات زیادہ تر کارپوریٹ دنیا سے آئے۔ بی جے پی نے اکیلی 8358 عطیات سے جو رقم ظاہر کی،وہ باقی تمام جماعتوں کے اعلان کردہ مجموعے سے چھ گنا زیادہ ہے۔ یہ سوال بھی شدید اہم ہے کہ جب اتنے بڑے عطیات ایک ہی جماعت کو جائیں گے تو پھر برابری اور شفاف انتخاب کی گنجائش کہاں باقی رہ جاتی ہے؟
یہ تمام تصریحات اس بات کا ثبوت ہیں کہ سیاسی فنڈنگ کے نام پر ملک میں نہ صرف شفافیت کا جنازہ نکلا ہے بلکہ جمہوریت کی ساکھ کو ہی دائو پر لگا دیا گیا ہے۔ ایک طرف کارپوریٹ گھرانے اپنی مرضی کی حکمرانی خرید رہے ہیں اور دوسری طرف گمنام جماعتوں کے پردے میں کالے دھن کو صاف کیا جا رہا ہے۔ انتخاب اب نظریات اور عوامی اعتماد کی بنیاد پر نہیں،بلکہ بینک بیلنس،کمیشن اور جعلی رسیدوں کے کھیل پر جیتے جا رہے ہیں۔
edit2sahara@gmail.com

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS